کیا اعتزاز احسن آخری عمر میں عمرانڈو ہو سکتے ہیں؟

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری اعتزاز احسن ایک بار پھر سے نواز لیگ اور اپنی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی جانب سے مریم نواز کی نیب کیس میں بریت کے فیصلے کو جنرل قمر باجوہ کی مہربانی قرار دینا ہے۔ نواز لیگ کی قیادت نے اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ اعتزاز احسن کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ پیپلز پارٹی نے گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے لیے پارٹی کی پنجاب کی تنظیم کو اعتزاز احسن کے خلاف ایک نمائشی پریس کانفرنس کرنے اور انکی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کی ہدایت تو کر دی لیکن عملی طور پر اعتزاز احسن کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس دوران یہ اطلاعات بھی آئیں کہ اعتزاز احسن تحریک انصاف میں شامل ہو کر عمرانڈو ہونے جا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ عمران سے اُن کی پرانی دوستی ہے اور یہ کہ لاہور کے زمان پارک میں اُن کے اور خان کے گھروں کی دیواریں ایک ساتھ جُڑی ہوئی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اعتزاز کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا ہی حصہ ہیں؟ ظاہر ہے اس سوال کا جواب اعتزاز خود ہی دے سکتے ہیں۔ اس کی وضاحت دیتے ہوئے انھوں نے اپنے سیاسی کیریئر کی وضاحت بھی دی۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ انھیں اس وجہ سے وضاحت دینی پڑی کیونکہ اُن کے خلاف لگاتار ایک مہم چلائی جا رہی تھی اور ہر روز کوئی نہ کوئی خبر اس حوالے سے سامنے آ جاتی تھی۔ انھوں نے کہا ان کے عمران سمیت ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور باہمی عزت کا رشتہ موجود ہے۔

تاہم ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نواز شریف سے متعلق اُن کے ترش لہجے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نواز شریف کو ملک میں پائی جانے والی موجودہ بدنظمی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔اعتزا احسن نے بتایا کہ ان کے اپنی جماعت کی قیادت کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں اور وہ ایک دن کے لیے بھی اپنی جماعت سے اِدھر اُدھر نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تحریک استقلال میں شمولیت کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ انھیں اس وقت پیپلز پارٹی سے نکالا گیا تھا اور یہ کہ وہ خود پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔ ان کے مطابق جب نو اپریل 1977 کو گولی چلی تو انھوں نے اس عمل کی کُھل کر مخالفت کی تھی، جس کی پاداش میں انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اُن کے مطابق اس کے بعد جب ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو وہ اُن کے خلاف سیاسی جدوجہد کا حصہ بن گئے، جس کی پاداش میں انھیں صعوبتیں اور طویل اسیری برداشت کرنی پڑی۔

اعتزاز احسن کے مطابق یہی وہ وقت تھا جب ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جیالے بھی جیلوں میں تھے اور پھر یہی چیز ان کی دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کی وجہ بن گئی۔ خیال رہے کہ اعتزاز احسن بے نظیر دور حکومت میں وزارت داخلہ اور وزارت قانون کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اعتزاز احسن کے بارے میں مصنف کرسٹینا لیمب نے اپنی کتاب ’ویٹنگ فار اللہ‘ میں سخت الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے انھیں بے نظیر بھٹو کی کابینہ کا ’ٹھرکی‘ وزیر قرار دیا تھا۔

اعتزاز احسن کے مطابق جب مشرف نے مارشل لا نافذ کیا تو سب سے پہلے انھوں نے وزیر اعظم ہاؤس سے نواز شریف کو باہر نکالا۔ ان کے مطابق یہ وہ عرصہ تھا جب وہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف تھے اور گذشتہ کئی برسوں سے نواز شریف اور ان کے طرز سیاست پر کُھل کر تنقید بھی کر رہے تھے۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ ایسے میں انھیں نواز شریف کی یہ درخواست موصول ہوئی کہ ’میں مشرف کی طرف سے دائر کیے جانے والے مقدمات میں ان کا وکیل بن جاؤں۔‘ اُن کے مطابق تب صورتحال یہ تھی کہ نواز شریف کے بہت قریبی سمجھے جانے والے نامی گرامی اور بڑے وکیل ان سے دور ہو چکے تھے۔ اعتزاز کے مطابق مشرف کے مارشل لا کی پرواہ کی بغیر وہ نواز شریف کے وکیل بن گئے اور عدالتوں میں ان کا مقدمہ لڑا۔

اعتزاز کے بقول ملک میں وکلا کی کوئی کمی تو نہیں تھی مگر یہ ان کی ’سعادت‘ تھی کہ اس وقت کے معزول چیف جسٹس کی نگاہ ان پر جا کر ٹِکی۔ ان کے مطابق انھوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر افتخار چوہدری کا مقدمہ لڑا اور وکلا تحریک کا حصہ بن گئے۔ اعتزاز کے مطابق انھیں یہ کہا جاتا تھا کہ چونکہ آپ کی جماعت پیپلز پارٹی وکلا تحریک کی حمایت نہیں کر رہی ہے اس لیے وہ پارٹی اور وکلا تحریک میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ اعتزاز کے مطابق انھوں نے وکلا سے یہ کہا کہ وہ نہ تو پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور نہ وکلا تحریک سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں البتہ وہ اس تحریک کی قیادت سے دستبرار ہونے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ان کے مطابق وکلا نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آپ کی قیادت کے بغیر تحریک کو آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا۔ اور یوں وہ اس تحریک کے چیف جسٹس کی بحالی تک روح رواں رہے۔
اعتراز نے وکلا تحریک کے بعد بطور وکیل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں یہ کہہ کر پیش نہ ہونے کا اعلان کر دیا کیونکہ وہ اُن کے وکیل رہے ہیں۔ ان دنوں وکیل یہ سوال ان سے بہت پوچھتے تھے کہ آپ کہیں ہمیں درمیان میں تو نہیں چھوڑ دیں گے؟ ’ایک روز ایسے ہی ایک تاثر پر ججز کالونی میں واقع چیف جسٹس کی رہائش گاہ کی بالکونی میں کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ اعتزاز پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔‘ وکلا تحریک کے دوران جب ریلیوں اور مظاہروں میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور سابق صدر آصف زرداری کے خلاف نعرے لگائے بلند ہوتے تھے تو وہ مائیک سنبھال کر اور کبھی خود منت کر کے وکلا سے ایسے نعرے نہ لگانے کی درخواست کرتے تھے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ افتخار چودھری اور دیگر ججوں نے یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں بحالی کے بعد انہی کو نااہل کر دیا تھا۔ تب سے اعتزاز نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ ہی وکالت میں اتنے متحرک رہے ہیں۔

لیکن اعتزاز کے مطابق یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ سیاسی طور پر زیادہ متحرک نہیں رہے۔ ان کے مطابق انھوں نے 2008 کے الیکشن کا بائیکاٹ وکلا تحریک کے فیصلے کی روشنی میں کیا تھا۔ تاہم بعد میں وہ اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے سینیٹر بن گئے تھے۔ انکے مطابق سینیٹ میں انھوں نے متحرک کردار ادا کیا۔ اعتزاز کے مطابق یہ بات سچ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی قانونی اور سیاسی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جب وہ افتخار چوہدری کا مقدمہ لڑ رہے تھے تو اس وقت ان کی عمر 62 برس تھی جبکہ آج وہ 78 برس کے ہو چکے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اس عمر میں انہوں نے اپنی جماعت چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر کے اپنی ساری زندگی کی سیاسی جدوجہد پر پانی نہیں پھیرنا۔

Back to top button