کیا افغان طالبان پاکستانی طالبان کو استعمال کر رہے ہیں؟

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ملک بھر میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کے پیش نظر اب پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس خدشے کا اظہار کر رہی ہے کہ شاید افغان طالبان پاکستانی طالبان کو اسلام آباد کے خلاف بطور حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں تاکہ اس پر افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

یاد رہے کہ تحریکِ طالبان نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب کالعدم تنظیم نے وفاقی دارالحکومت کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نان سٹیٹ ایکٹر ہونے کے ناطے ٹی ٹی پی کے پاس کوئی منظم علاقہ موجود نہیں ہے لیکن انکی کارروائیاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد اب اسلام آباد تک پھیل گئی ہیں جو سکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کی بات ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں حملوں کے احکامات جاری کرتی ہے۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے ماضی قریب میں افغان طالبان کی ثالثی میں امن مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں جو سود مند ثابت نہیں ہو سکے۔ ملک بھر میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیشِ نظر پاکستان نے کئی مرتبہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو شدت پسندی کی روک تھام کی درخواست کی ہے۔ لیکن اب پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ان خدشات کا اظہار کر رہی ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف بطور حکمتِ عملی استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جاوید اشرف قاضی کہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر کسی نے بھی تسلیم نہیں کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اس میں پہل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اصرار کے باوجود افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کے بقول افغان طالبان ٹی ٹی پی کو بطور پریشر ٹیکٹکس استعمال کر رہے ہیں تاکہ پاکستان عالمی سطح پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دے۔حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق پاکستان یک طرفہ سوچ کا حامی نہیں اور اس حوالے سے عالمی برادری کی سوچ کا احترام کرے گا۔

جاوید اشرف قاضی کے مطابق اس وقت افغانستان میں طالبان اتنے مضبوط نہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اپنے لیے نئے محاذ کھولیں۔ ان کے بقول، افغانستان میں داعش اور القاعدہ جیسی تنظیمیں دوبارہ منظم ہو رہی ہیں اس لیے ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کی صورت میں یہ خطرات بارہا موجود ہیں کہ کہیں وہ بھی ان دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نہ مل جائے۔ شدت پسندی کے موضوع کے ماہر اور سینئر صحافی داؤد خٹک کہتے ہیں سالوں تک پاکستان نے افغان طالبان کو ‘سٹرٹیجک ڈیپتھ’ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب وہی پالیسی اُلٹ ہو گئی ہے اور افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اپنے مستقبل کے لیے بطور ‘اسٹرٹیجک ڈیپتھ ‘ کے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں افغان طالبان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جلد یا بدیر عالمی برادری ان کے خلاف ایکشن لے گی اور یہی ٹی ٹی پی کے جنگجو اپنے علاقوں میں انہیں پناہ فراہم کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان پاکستانی حکومت کے بارہا کہنے کے باوجود ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی صورت میں افغان طالبان کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی طاقتوں سے برسوں کی لڑائی کے دوران افغان طالبان کے سامنے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مقصد تھا۔ اب جب کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں شرعی نظام کےنفاذ کی بات کرتی ہے تو انہیں افغان طالبان بھلا کیسے روک سکتے ہیں۔ انکے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کے جنگجوؤں کی حمایت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنے ایک پیغام میں تنظیم میں شامل ہونے والے نئےجنگجوؤں کو تاکید کی تھی کہ پاکستانی مجاہدین کے علاوہ جو بھی مجاہدین جہادِ پاکستان میں مسلح شرکت کرنا چاہتے ہیں ان کے لیےنصیحت ہے کہ بعض سیاسی مشکلات کی بنا پر مسلح طور پر جہاد پاکستان کا حصہ بننے کی کوشش مت کریں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مفتی نور ولی کا یہ پیغام افغان طالبان کو ہی تھا کیوں کہ افغان سرحد سے ملحقہ خوست سے کنڑ تک کے علاقوں کا کنڑول پاکستانی طالبان کے ہی ہاتھوں میں ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ادوار میں جب پاکستان سے طالبان کے خلاف کارروائی کا کہا جاتا تھا تو اسلام آباد کا ہمیشہ یہی موقف ہوتا تھا کہ وہ طالبان کو بات چیت کے لیے تو بٹھا سکتے ہیں لیکن انہیں کسی کام پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن مکافات عمل کے اصول کے تحت اب یہی رویہ افغان طالبان اختیار کیے ہوئے ہیں جو ٹی ٹی پی کو بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا کہتے ہیں لیکن ان کے حملے روکنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے۔

سابق آئی ایس آئی سربراہ جاوید اشرف قاضی کے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کالعدم تنظیموں کے ساتھ نرمی کا رویہ چھوڑ کر فوجی آپریشن کا سہارا لے اور جو کوئی بھی سرحد پار سے باڑ کی خلاف ورزی کرے اسے اسی وقت ختم کردینا چاہیے۔ انہوں نے ریاستِ پاکستان کو مشورہ دیا کہ گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کو قیدی بنانے کے بجائے انہیں اسی وقت ختم کرنا چاہیے کیوں کہ جب قیدی بنایا جاتا ہے تو پھر بنوں جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےخیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں تفتیش کے لیے لائے گئے زیر حراست کچھ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں سے اسلحہ چھین کرانہیں یرغمال بنالیا تھا۔ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں 25 شدت پسندوں کے علاوہ 7 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنوں واقعے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا دور ختم ہو چکا ہے۔

Back to top button