کیا الیکشن جیتنے والے یوتھئے پارٹی سے وفا نبھائیں گے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہفتہ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ’بلے‘ کے نشان سے محروم کر دیا جس کے بعد پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کو آزاد حیثیت میں نئے انتخابی نشان جاری کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے تمام امیدوار اب آزادانہ حثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے، جو کہ پی ٹی آئی کی فتح میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، کیونکہ تاریخ میں یہ دیکھا گیا ہے، بہت سے آزاد امیدوار آزاد حثیت سے جیتنے کے بعد دوسری پارٹیوں میں شمولیت اختیا کر لیتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے امیدوار جیتنے کے بعد پارٹی کے ساتھ وفا کر پائیں گے؟۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے جتنے بھی امیدوار ہوں گے وہ آخر تک پارٹی کے ساتھ کھڑے رہیں گے، کیونکہ ہم امیدوار وہی چنیں گے جو جیتنے کے بعد بھی پارٹی کے ساتھ وفاداری کے ساتھ رہیں گے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اس بار بھی 2018 والی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے، کیونکہ جب بھی آزاد امیدوار جیت جاتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات بلکہ لوگوں کو نوکریاں دلوانے اور اپنے حلقے کے لیے کام کروانے کے لیے حکومتی جماعتوں کے ساتھ شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یقیناً بلے چھن جانے کے بعد پی ٹی آئی کو بہت نقصان ہوگا، لیکن ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، مگر پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں نہ ہی پی ٹی آئی ختم ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ البتہ صوبائی اور قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی محدود ہو جائے گی، مگر وقت کے ساتھ پی ٹی آئی پھر ابھر آئے گی کیونکہ یہ وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی دیکھ چکی ہے۔ لیکن پارٹیاں ختم نہیں ہوئیں اور سیاست بھی یہی ہے۔ اچھا برا وقت سب پر آتا ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ایک پارٹی سے اس کا انتخابی نشان لے لینا، کوئی ٹھیک بات نہیں ہے کیونکہ اس سے آئین کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی سے تلوار کا نشان لے کر تیر کا دے دیا گیا تھا، عام انتخابات میں پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم کر دینا انتہائی غلط ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیتنے والے تمام امیدوار پارٹی کے نام پر ووٹ لیتے ہیں اور پھر دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں،جو کہ ایک بہت ہی غلط روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام امیدواروں کو پارٹی کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے، کیونکہ ماضی میں آزاد امیدواروں نے پیپلز پارٹی کے نام پر ووٹ لیے اور پھر دوسری جماعتوں میں چلے گئے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر 1985 والی اسمبلی بننے جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عمران خان زندہ ہے پی ٹی آئی بھی رہے گی اور اس کا ووٹ بینک بھی موجود رہے گا۔پارٹی اگر منظم رہی تو پی ٹی آئی کے لیے اتنا ہی کافی ہوگا۔
