کیا برائلر مرغی کے گوشت میں بھی کرونا وائرس موجود ہے؟

https://www.youtube.com/watch?v=5AWKO1XTCtM&t=1s
پاکستان میں کرونا کی جان لیوا وبا میں شدت آنے کے بعد اب ان افواہوں نے زور پکڑ لیا ہے کہ برائلر مرغی کے گوشت سے بھی یہ موذی وائرس پھیل رہا ہے۔
کرونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کے بعد سے مختلف سازشی نظریات نے بھی سر اٹھانا شروع کردیا تھا خاص طور پر پاکستان میں کرونا وائرس سے متعلق افواہوں اور سازشی مفروضوں نے عام عوام کےلیے مزید مشکلات کھڑی کردی ہیں، ان ہی میں ایک مفروضہ مرغی کے گوشت سے کرونا پھیلنے کا بھی ہے۔ تاہم پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے برائلر مرغی میں کرونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹ اور بے بنیاد قراردیا ہے۔ انہوں نے اس پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ لوگوں کو بغیر کسی خوف کے مرغی اور دیگر پولٹری مصنوعات کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔
ہوسکتا ہے کہ اس پروپیگنڈے کی بنیاد ایک امریکی تحقیق ہو، کیونکہ حال ہی میں ایک معروف امریکی ماہر غذائیات ڈاکٹر مائیکل گریگر نے خبردار کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر مرغی کی افزائش کے نتیجے میں کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک وبا دنیا میں پھیل سکتی ہے۔ جس سے دنیا کی آدھی آبادی ختم ہوجائے گی۔ اپنی نئی کتاب ’ہائو ٹو سروائیو اے پیناڈیمک‘ میں ڈاکٹر مائیکل نے لکھا ہے کہ پولٹری مصنوعات میں پائی جانے والی بیماریاں انسانوں کےلئے کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ڈاکٹر گریگرکہتے ہیں کہ جب تک ہم گوشت خوری پر انحصار کرتے رہیں گے اس وقت تک انسان نئی بیماریوں کی زد میں آتا رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وباؤں کے نتیجے میں وائرس تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیلتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں اگر یہ نئی وباء آئی تو یہ حد سے زیادہ بھرے ہوئے اور حفظان صحت پر عمل نہ کرنے والے پولٹری فارم سے آئے گی۔
دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین چوہدری فرغام نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں مرغی کی مصنوعات میں کرونا وائرس رپورٹ نہیں ہوا، اس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی حصے میں انسان میں وائرس کی منتقلی کو پولٹری سے جوڑے جانے کی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر پھیلائی یا گردش کرنے والی افواہیں مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزارت قومی تحفظ خوراک اور تحقیق اور پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنجاب نے بھی اپنے سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے اس ‘بے بنیاد پروپیگنڈے’ کو مسترد کیا تھا جسے میڈیا میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری زراعت پر مبنی صنعت کے سب سے منظم شعبوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولٹری کا شعبہ 1962 سے قوم کی خدمت میں مصروف ہے اور لوگوں کو جانور کے پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کےلیے قابل خرید پولٹری مصنوعات فراہم کر رہا ہے، یہ شعبہ گوشت کی مجموعی کھپت میں 40 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ہزاروں لوگوں کےلیے روزگار اور آمدنی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
خیال رہے کہ چین سے شروع ہونے والا کرونا وائرس صوبے ہوبے کے شہر ووہان کی ایک سی فوڈ مارکیٹ سے جنم لیا تھا اور یہ جانور سے انسان میں منتقل ہوا تھا جس کے بعد یہ انسان سے انسان میں منتقل ہورہا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر سے شروع ہونے والا یہ وائرس اس وقت دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اور اب تک 65 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ 3 لاکھ 86 ہزار سے زائد انتقال کرچکے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تک کرونا سے 82 ہزار لوگ متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ساڑھے سترہ سو کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
