کیا بزدار پراسٹیبلشمنٹ اور کپتان کے مابین میچ پڑ گیا ہے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ناراض تین صوبائی وزراء کو سیاسی انداز میں منانے کی بجائے ایک انتظامی فیصلے کے ذریعے انہیں کابینہ سے برخاست کر کے وزیراعظم عمران خان نے ان طاقتور حلقوں کو ایک سخت پیغام دیا ہے جو دیگر صوبوں میں بھی ان کے سلیکٹڈ وزرائے اعلیٰ کو ہٹانے کے لئے پس پردہ سازشوں میں مصروف ہیں، خصوصا عثمان بزدار کو۔
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں اپنے قریب ترین سمجھے جانے گا والے سینئر وزیر عاطف خان اور دو دیگر وزراء کو فارغ کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ انکے خلاف سازشیں کون کر رہا ہے اور کہاں سے کر رہا ہے۔ انہوں کہا کہ عثمان بزدار کو کسی صورت فارغ نہیں کیا جائے گا کیونکہ کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو اگلا وزیر اعلیٰ پنجاب 20 دن بھی نہیں چل پائے گا۔ وزیراعظم نے یہ باتیں لاہور میں اپنے پارٹی رفقا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔
کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ عمران خان نے دراصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا ہے کہ ان کی صوبائی حکومتوں کے خلاف سازشیں کرنا بند کر دے۔ دوسری طرف کچھ سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ انکا اشارہ ق لیگ کی قیادت کی جانب تھا جو پنجاب میں بزدار کو گرا کر پرویز الہی کو وزیراعلیٰ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ق لیگ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نے اتوار کو اپنے دورہ لاہور کے دوران ق لیگ کی ناراض قیادت سے ملاقات نہیں کی حالانکہ پرویز الہی اگلے روز یہ گلہ کرچکے ہیں کہ عمران خان کو چودھری شجاعت کی عیادت ضرور کرنا چاہیے تھی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے پہلے ہم سے کنفرم کر لیا کریں۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پنجاب میں ان کے تحفظات دور کر دیئے گئے ہیں اور صوبے میں وزیر اعلیٰ کے اختیارات اب وہ استعمال کریں گے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب ناکامی ایک طے شدہ بات یے لیکن عمران خان انہیں صرف اس لیے تبدیل نہیں کر رہے کہ بقول بشریٰ بی بی جس روز انہوں نے بزدار کو فارغ کیا، اس روز ان کا اپنا زوال بھی شروع ہو جائے گا۔ چنانچہ اسٹیبلشمنٹ اور اتحادی جماعتوں کے تمام تر دباؤ کے باوجود کپتان ایک ناکام بزدار کے ساتھ ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔
دوسری طرف ق لیگ کی قیادت کبھی آگے بڑھتے ہوئے اور کبھی پیچھے ہٹتے ہوئے عثمان بزدار کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہے۔ ق لیگ کی کوشش ہے کہ وزرات اعلیٰ کے لیے چہرہ پرویز الہی کا ہو جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہو اور اگر عمران خان اس پر نہ مانیں تو پھر یہ کام ن لیگ کی حمایت سے بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم ق لیگ کی وزارت اعلیٰ میں سب سے بڑی رکاوٹ کپتان خود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس صورت میں تحریک انصاف کو  پنجاب میں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ تمام فنڈز اور ٹرانسفر/پوسٹنگ ق لیگ کی سیاسی مضبوطی کے لیے ہوں گے جبکہ پی ٹی آئی نظر انداز ہو گی اور اپنا رہا سہا اثر بھی کھو دے گی۔ عمران خان مقتدر حلقوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ق لیگ کے وزیراعلیٰ پر اعتماد کرنا ان کے لیے ایک سنگین غلطی ہو گی اور اگر پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو وفاق بھی نہیں بچے گا۔
کپتان کی طرف سے خیبر پختونخوا میں سخت ترین انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے باغی وزراء کو برطرف کیے جانے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی صوبوں میں کپتان کے سازشی اتحادی بیک فٹ پر جاتے ہیں یا پھر آخری حربے کے طور پر فرنٹ فٹ پر آ کر کھل کر کھیلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو سمجھ لیں کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ میں میچ پڑگیا ہے جس میں آخری فیصلہ ایمپایئرکا ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button