کیا تحریک انصاف باغیوں کو دوبارہ واپس لینے والی ہے؟

نو مئی کی سرپسندانہ کارروائیوں اور زیرعتاب آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف چھوڑ کے جانے والوں کی پارٹی میں  واپسی کی خبریں گرم ہیں۔ تاہم پارٹی ایسے افراد کو واپسی لینے کے حوالے سے انتہائی محتاط دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کیس ٹو کیس معاملات کا جائزہ لے گی۔ تاہم کچھ ایسی شخصیات ہیں جن کو کسی بھی صورت میں پارٹی قبول نہیں کرے گی کیونکہ انہوں نے پارٹی کا ساتھ بہت برے وقت میں چھوڑا تھا۔ 

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف چھوڑ کے جانے والوں میں سے کچھ نے میڈیا پہ مختلف نوعیت کے انٹرویوز دیے ہیں یا پارلیمنٹ میں ایسی تقریر کی ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ یہ لوگ پاکستان تحریک انصاف میں واپس آنا چاہتے ہیں۔سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی اور ماضی میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ظفر عباس نے ایسے بیانات دیے جس سے کچھ حلقوں میں یہ تاثر گیا کہ یہ پی ٹی آئی کو دوبارہ جوائن کرنے والے ہیں۔

تا ہم اس حوالے سے علی زیدی نے واضح طور پر بتایا کہ ان کا سیاست میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پارٹی کے حوالے سے میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان کیا گیا۔ میں نے پاکستان تحریک انصاف سے کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔‘‘

 دوسری جانب پارٹی اور سیاست سے لا تعلقی کا اعلان کرنے والے سابق مشیر خوراک جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی سے رابطہ کیا تھا۔ ”ہماری صورتحال کا خان صاحب کو علم ہے اور خان صاحب کے پاس 30 سے40 افراد کی فہرست گئی تھی جس میں مجھے اور مسرت کو نہ صرف یہ کہ پارٹی میں شمولیت کا کہا گیا بلکہ کاغذات نامزد گی بھی جمع کرانے کا کہا گیا۔‘‘ جمشید اقبال چیمہ کے مطابق تاہم ان کے حلقے سے کسی اور کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ ”تقریباً آٹھ سے دس فیصد ایسے لوگ ہیں جن کے حوالے سے خان صاحب نے کہا تھا کہ انہیں ٹکٹ دی جائے لیکن خان صاحب کی اسیری کی وجہ سے رابطہ وقت پر نہیں ہو سکا اس لیے مجھ سمیت ان لوگوں کو بھی ٹکٹ نہیں مل سکا۔‘‘

دوسری جانب مبصرین کے مطابق ان لوگوں کو تحریک انصاف نے رعایت دی ہے۔’جن لوگوں نے پارٹی کو اعتماد میں لینے کے بعد پریس کانفرنس کی تھی یا اپنی مجبوری کا تذکرہ کرنے کے بعد پارٹی کو چھوڑا تھا، پارٹی نے ان کے لیے نرم رویہ رکھا ہے۔ لیہ سے پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے پارٹی کو اپنی مجبوری بتا کر پارٹی چھوڑی تھی۔ اس لیے ان کے بیٹے کو ٹکٹ دیا گیا۔‘‘ تاہم پارٹی اس معاملے میں احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے بھی انتخابات کے موقع پر ٹکٹ کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔‘‘

مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے اس حوالے سے تین کیٹیگیریز بنائی ہیں۔ ”پہلے میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے نو مئی کے فوراً بعد پارٹی کو چھوڑ دیا تھا، دوسری میں وہ ہیں جنہیں بہت تھوڑے سے وقت کے لیے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ تیسری کیٹیگری میں وہ لوگ ہیں جن پر تشدد کیا گیا تھا اور انہوں نے پارٹی کو اطلاع دینے کے بعد پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ تیسری کیٹگری کے لوگوں کو واپس لینے کے لیے پارٹی ابھی سوچ رہی ہے۔‘‘

دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ ایسے رہنما جو مختلف جماعتوں سے ہو کر آئے ہیں انہوں نے حالیہ دنوں میں پارٹی میں واپس آنے کی کوشش کی۔ ” پنجاب کے ایک سابق گورنر نے پارٹی سے دوبارہ رابطہ کیا اور شمولیت اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔‘‘ ان سابق گورنر کا بیٹا برطانیہ میں میئر کا الیکشن لڑنا چاہ رہا ہے۔ کیونکہ اوورسیز پاکستانیوں میں تحریک انصاف بہت مضبوط ہے اس لیے وہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کی حمایت حاصل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما جو عمران خان کے انتہائی قریب ہیں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ”یہ بات درست ہے کہ لوگ پارٹی میں واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی خواتین رہنما ہیں جو مخصوص نشستوں کے لیے واپس آنا چاہتی ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو مجبوری کی وجہ سے پارٹی چھوڑ گئے تھے اور واپس آنا چاہتے ہیں جیسے کہ عثمان ڈار وغیرہ۔‘‘اس رہنما کے مطابق کچھ اشخاص ایسے ہیں جن کی واپسی شاید کسی صورت میں بھی قابل قبول نہ ہو۔ ” ان میں پرویز خٹک، فرخ حبیب، فیاض الحسن چوہان، عمران اسماعیل، علی زیدی، اسد عمر، سابق وزیر اعلٰی کے پی کے محمود خان، مراد راس،فواد چوہدری ، عندلیب عباس، فردوس عاشق اعوان، منزہ حسن، علی نواز اعوان، صداقت عباسی، ہمایوں اختراور سبطین خان شامل ہیں۔‘‘

Back to top button