کیا ثاقب نثار کی آڈیو اسٹیبلشمنٹ نے لیک کروائی؟

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیک ہونے سے ملک کے سیاسی منظرنامے پر ایک بھونچال آ چکا ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ آڈیو عمران خان سے ناراض اسٹیبلشمنٹ نے لیک کروائی ہے؟
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا یے کہ ثاقب نثار کی آڈیو لیک ہونے کی ٹائمنگ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اسے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے کے اگلے روز ریلیز کیا گیا جب نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آڈیو یقینا کسی خفیہ ریاستی ایجنسی نے ریکارڈ کی تھی جسے ایسے موقع پرباہر لایا گیا ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی اپنی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت جاری ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ شاید اب خود پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ہٹانے کے لیے نواز شریف اور مریم کو عدالتی ریلیف دلوانا چاہتی ہے جو کہ نواز لیگ کا ایک بڑا مطالبہ ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاید اسی وجہ سے اب اوپر تلے ججوں کے سکینڈل سامنے لائے جارہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ فیض حمید کے تبادلے کے بعد اب پاکستانی عدلیہ اس طرح کے دباؤ کا سامنا بھی نہیں کر رہی جیسا کہ ماضی میں تھا لہذا شریف خاندان کو ریلیف ملنے کے امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزماں کائرہ کا کہنا تھا کہ ایک بات تو طے ہے کہ ثاقب نثار نے اپنی آڈیو خود ریکارڈ کرکے ریلیز نہیں کی، اسے ان لوگوں نے ریکارڈ کیا ہوگا جو ثاقب نثار اور دیگر ججوں پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اخم شخصیات کی فون ریکارڈنگ کون سے ادارے کرتے ہیں اور وہ کس کو جوابدہ ہوتے ہیں؟
دوسری جانب نہ تو حکومت اور نہ ہی سپریم کورٹ اس آڈیو پر کوئی ایکشن لینے پر تیار نظر آتی ہے۔ ایک امریکی فرانزک لیبارٹری سے ثاقب نثار کی آڈیو کی تصدیق ہو جانے کے باوجود حکومت مختلف ٹی وی چینلز پر اپنی مرضی کی یہ کہانی چلوا رہی ہے کہ آڈیو جعلی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب پاکستانی عدلیہ کی آزادی کے دعوے کرنے والے چیف جسٹس گلزاراحمد بھی چپ سادھے بیٹھے ہیں اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کا اتنا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے باوجود پوری عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگا رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ بھی جانتی ہے کہ ثاقب نثار کی ویڈیو جینئون یے لہذا اس کا فرانزک آڈٹ کروانے یا اس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی جا رہی۔ حکومت کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس آڈیو میں ثاقب نثار نہ صرف یہ بتا رہے ہیں کہ انہیں نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینے کے لیے کہا گیا ہے بلکہ یہ انکشاف بھی کر رہے ہیں کہ ان پر دباؤ ڈالنے والا ادارہ عمران خان کو اگلا وزیر اعظم بنانا چاہتا ہے۔
ان احکامات پر عمل درآمد کے بعد الیکشن 2018 سے صرف دو ہفتے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کو قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی تھی لہذا خیال کیا جاتا ہے کہ ثاقب نثار اپنی لیک ہونے والی آڈیو میں اسی جج سے گفتگو کر رہے تھے جس نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی جانب سے ایون فیلڈ کیس میں دیکھا جانے والی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیل کی سماعت جاری ہے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ان کے وکلاء ثاقب نثار کی آڈیو کو عدالت میں بطور ثبوت پیش کر دیں جس کے بعد عدالت کے لیے اس کا فرانزک تجزیہ کروانے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ثاقب نثار کی یہ آڈیو اصلی ثابت ہو جاتی ہے تو پھر نہ صرف مریم نواز بلکہ ان کے والد نواز شریف کی سزا بھی کالعدم قرار دیے جانے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ چند دن پہلے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کی طرف سے بھی ایک بیان حلفی سامنے آیا تھا جس میں جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے ایک ساتھی جج کو مبینہ طور پر نواز شریف کو 2018 کے الیکشن سے پہلے ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس معاملے پر مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے سامنے آنے والے نئے آڈیو کلپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کے لیے ایک منظم منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول وقت آ گیا ہے کہ ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی غلطی کو ٹھیک کیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ پوری قوم نظام عدل کی طرف دیکھ رہی ہے اور اعلی عدلیہ کی ساکھ بچانے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اس آڈیو کی تحقیقات کروائی جائیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان سے جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ
تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس آڈیو لیک سے جہاں اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ پر ایک اور دھبہ لگا ہے وہیں سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے الزام کو بھی تقویت ملی ہے۔ لیکن تجزیہ کار یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس آڈیو لیک سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر وزیر اعظم عمران خان سے خفا ہونے والوں کے نون لیگ کے ساتھ پس پردہ رابطے بحال ہو چکے ہیں جسکا نتیجہ تبدیلی سرکار کی تبدیلی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
