کیا جسٹس منصور شاہ نے مکمل انصاف کے نام پر انصاف کا کھلواڑ کیا ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے واحد خوش قسمت سیاستدان ہیں جنہیں مخصوص نشستوں کے کیس میں جسٹس منصور علی شاہ کی زیر قیادت اسی دنیا میں مکمل انصاف مل گیا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں منصور علی شاہ کے مخصوص فیصلے کی بنیاد مکمل انصاف کے نام پر رکھی گئی حالانکہ اس فیصلے کا اصل محرک جسٹس منیر والا بدنام زمانہ نظریہ ضرورت تھا۔ حماد کہتے ہیں کہ جب جب ’’انصاف‘‘ کےلیے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ یا ’’مکمل انصاف‘‘ جیسی اصطلاح بنائی جاتی ہے تو ہم لوگ چوکنے ہو جاتے ہیں۔ ان اصطلاحات کا معنیٰ یہ ہوتا ہے کہ عدالت آئین و قانون کے دائرے سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ ویسے ’’مکمل انصاف‘‘ بارے بھارتی قانون دانوں کی رائے کا ست بھی سُن لیں۔ ان خے مطابق مکمل انصاف سے مراد ہے کہ جب عدالت ’’انصاف‘‘ کے تعاقب میں آئین و قانون کے راستے سے آگے ’’نیچرل جسٹس‘‘ کی پگڈنڈی پر اتر جائے اور خود قانون سازی کا بیڑا اٹھا لے۔ بہرحال، عمران خان غالباً وہ پہلے خوش قسمت پاکستانی ہوں گے جنہیں اسی دنیا میں ’’مکمل انصاف‘‘ مل جائے گا۔
جسٹس منصور علی شاہ کے مکمل انصاف والے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ہماری نظر سے کبھی کوئی ایسا سائل نہیں گزرا جس کا پاکستان کے عدالتی نظام سے واسطہ پڑا ہو اور وہ اس سے مطمئن ہو۔ سب ایک ہی شکایت کرتے ہیں کہ ’’عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا‘‘۔ اور انصاف کیوں نہیں ملتا کی وجوہات میں بدعنوانی، نااہلیت، طاقتوروں اور انتہا پسندوں کا دبائو، نظام کے سُقم اور فیصلوں میں تاخیر وغیرہ شامل ہیں۔ زیرالتوا مقدمات کی تعداد میں روز افزوں اضافے کا تذکرہ بھی ہم سنتے رہتے ہیں اور justice delayed is justice denied والا اصول بھی کان میں پڑتا رہتا ہے۔ مختصر سی بات ہے، اس ملک میں انصاف کا رونا ہے، انصاف نہیں ملتا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم مکمل انصاف سے پہلے انصاف پر توجہ دیتے، یعنی ڈاکٹریٹ سے پہلے بی اے کر لیتے۔
حماد غزنوی سوال کرتے ہیں کہ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھیں، کس کو انصاف ملا ہے؟ پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں سالہا سال کے بعد آخر جاں بخشی کی ایک اپیل کی باری آ ہی گئی، کیس لگا تو معزز عدلیہ کو پتا چلا کہ ملزم کو تختہ دار پر جھولے زمانے ہو چکے۔ اور یاد رہے کہ یہ کوئی نرالا واقعہ نہیں ہے، ’’انصاف ‘‘ کے ایسے درجنوں قصے آئے دن سننے میں آتے ہی رہا کرتے ہیں۔ کارساز حادثے میں باپ بیٹی کو نشے میں کچل دینے والی نتاشا کا کیس ابھی کل کی بات ہے، کیا انصاف ہوا؟ خون بہا سے ہٹ کر، ریاست و عدالت کی طرف سے مجرم کے خلاف پانچ کیسز بنتے تھے، مگر انصاف دینے والے طاقتوروں کے آگے بھیگی بلی بن گئے۔ پچھلے ہفتے عمرکوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کنبہار پر ’’توہین‘‘ کا الزام لگا، اس نے گرفتاری دے دی، اسے پولیس کسٹڈی میں قتل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر شاہ نواز کی 14 سالہ بیٹی کی ایک وڈیو نظر سے گزری، وہ انصاف مانگ رہی تھی، کون دے گا اسے انصاف؟ اس ملک کی واماندہ اقلیتیں دہائیوں سے انصاف مانگ رہی ہیں، کون دیگا انہیں انصاف؟ ہزاروں لوگ جبری گم شدہ قرار پائے، ان کی بیویاں، بہنیں، بیٹیاں برسوں سے انصاف مانگ رہی ہیں۔ یہ داستان طولانی ہے، دردناک ہے، اسے یہیں چھوڑے دیتے ہیں۔
سیاہ فیصلے کرنے والے سیاہ پوش ججز کا کیا انجام ہونے والا ہے؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس ملک میں آج تک کبھی ڈھنگ کے انتخابات نہیں ہو سکے، مگر عدلیہ نے کبھی انصاف فراہم کرنے کےلیے بے تابی کا مظاہرہ نہیں کیا، ہماری تاریخ میں آدھا وقت تو پارلیمان کو جبری گمشدگی کا سامنا رہا، مگر عدلیہ کو انصاف کی نہ سوجھی، آئین کی کتاب کو آمروں نے بارہا ورق ورق کیا مگر عدالتوں نے انصاف کا دروازہ نہ کھولا، بلکہ ڈکٹیٹر کے استقبال کےلیے عقبی دروازہ کھول دیا۔ بات یہ ہے کہ جب بھی جمہوریت کے ساتھ کوئی سابقہ لگایا جاتا ہے تو ہمارے کان کھڑے ہو جاتے ہیں، جیسے اسلامی جمہوریت، کنٹرولڈ جمہوریت، بنیادی جمہوریت وغیرہ وغیرہ۔ اس کا مطلب ہوتا ہے جمہوریت سے کوئی کھلواڑ ہونے جا رہی ہے۔ اسی طرح جب ’’انصاف‘‘ کےلیے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ یا ’’مکمل انصاف‘‘ جیسی اصطلاح بنائی جاتی ہے تو سمجھ لیجئے کہ انصاف کے نام پر کھلواڑ ہونے جا رہا ہے اور تحریک انصاف کو مخصوص انصاف دیا جانے والا ہے۔
