کیا حمزہ شہباز پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر برقرار رہ پائیں گے؟


پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کے وزیر اعلی بننے کے باوجود انکے سیاسی مخالفین کی جانب سے حملے جاری ہیں اور ان کی وزارت اعلیٰ مسلسل ڈولتی نظر آتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حمزہ کو ووٹ دینے والے 25 پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی نااہلی کے بعد اب سپیکر پرویز الٰہی نے اپنے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد بھی اچانک اسمبلی اجلاس بلا کر ایک جھٹکے سے فارغ کروا دی ہے۔

حمزہ وزیراعلیٰ تو بن چکے ہیں لیکن پنجاب اسمبلی پر اب بھی عملا ًپرویز الٰہی اور ان کی ٹیم کا قبضہ ہے۔ پرویز الٰہی کا دعویٰ ہے کہ 25 منحرف اراکین اسمبلی کی نااہلی کے بعد حمزہ اکثریت کھو بیٹھے ہیں اور مستقبل میں اعتماد کا ووٹ لینے کے قابل نہیں رہے۔ لیکن چونکہ پنجاب میں اس وقت کوئی گورنر موجود نہیں لہذا حمزہ کو فوری اعتماد کا ووٹ نہیں لینا ہو گا۔ اسی وجہ سے وہ ابھی تک اپنی کابینہ تشکیل نہیں دے پائے کیونکہ اسے حلف دلوانے کے لیے بھی گورنر کا ہونا ضروری ہے۔ دوسری جانب صدر عارف علوی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلیغ الرحمان کو گورنر بنانے کی سمری مسترد کر چکے ہیں۔ شہباز شریف نے بھی دوبارہ انہی کا نام بھجوادیا ہے اور اگلے دس روز میں بلیغ رحمان کے گورنر بن جانے کا امکان ہے۔

لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پرویز الٰہی نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کا مزہ کرکرا کرکے رکھ دیا ہے اور مسلسل انہیں خفت سے دوچار کر رہے ہیں۔ 22 مئی کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس صرف نو منٹ جاری رہا لیکن اس دوران پرویز الٰہی کا مقصد پورا ہو گیا اور ان کے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد اس لئے مسترد کر دی گئی کہ اسے پیش کرنے والے سمیع اللہ خان ایوان میں موجود نہیں تھے۔ نون لیگ کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کے کہنے پر سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اور ان کے ساتھیوں نے نون لیگ کے ممبران اسمبلی کو اندر گھسنے سے روکا اور جتنی دیر میں وہ ایوان میں پہنچے اجلاس ختم ہو چکا تھا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ صوبے میں نون لیگ کی حکومت ہے لہذا یہ الزام جھوٹ پر مبنی ہے۔

خیر حقیقت یہ ہے کہ لیگی ممبران کے احتجاج کے بعد اسمبلی کا گیٹ کھول دیا گیا تھا۔ چند منٹ بعد ہی سپیکر چوہدری پرویز الٰہی بھی اپنے قافلے کے ساتھ پہنچ گئے۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہونے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں۔ پی ٹی آئی اور پینل آف چیئر کے رکن وسیم خان نے اسمبلی کی کارروائی فوراً شروع کی اور پوچھا کہ مسلم لیگ نون کے رکن سمیع اللہ چوہدری کی جانب سے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی، وہ کہاں ہیں؟ جواب نہ ملنے پر انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس درخواست کا موور ہال میں موجود نہیں تو اس لیے کسی کو کوئی اعتراض نہیں، لہذا سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست خارج کی جاتی ہے اور چھ جون تک اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے۔

اسی وقت مسلم لیگ نون کے تمام لوگ ایوان میں داخل ہوئے۔ یہ تمام تر کارروائی 9 منٹ کے اندر کی گئی۔ اس کارروائی کے بعد مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی اور اتحادیوں کے چہرے دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انھیں یہ سب ہونے کی امید نہیں تھی۔

مسلم لیگ نون کی رکن اسمبلی اور سمیع اللہ خان کہ اہلیہ عظمیٰ بخاری ایوان میں خاصے غصے میں نظر آئیں اور اپنی پارٹی کے لوگوں سے پوچھنے لگیں کہ یہ کیوں ہوا۔۔۔ آخر ہمیں چلا کون رہا ہے؟ آج ہمیں کون لیڈ کر رہا ہے؟ جس پر پارٹی کے دیگر اراکین نے انھیں خاموش کروایا۔ یاد رہے کہ سپیکر پرویز الٰہی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد نمٹائے جانے کے بعد اتوار کو ہی مسلم لیگ نون کی جانب سے سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف دوبارہ تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے۔ یہ تحریک مسلم لیگ نون کے رکن خلیل طاہر سندھو نے وفد کے ہمراہ جمع کروائی۔

اس تمام تر کارروائی کے بعد ایک سوال جو بیشتر حلقوں کی جانب سے پوچھا گیا وہ یہ تھا کہ آج مسلم لیگ نون وقت پر ایوان کی کارروائی کے لیے کیوں نہیں پہنچی؟ کیا ان کے پاس ایوان میں نمبر کم تھے؟ ان تمام تر سوالات کا جائزہ لیں تو پہلے پی ٹی آئی کے پاس پنجاب میں 183 سیٹیں تھیں جس میں سے 25 اراکین کو الیکشن کمیشن نے ڈی سیٹ کر دیا، جس کے بعد یہ تعداد 158 ہو گئی۔ اگر اس میں مسلم لیگ قاف کے 10 ووٹ ملائیں تو کل ووٹ 168 بنتے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈی سیٹ ہونے والے اراکین میں سے پانچ لوگ مخصوص نشستوں پر تھے اور ان نشستوں پر سپیکر نئے اراکین کا حلف لے سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ تعداد بڑھ کر 173 بن جائے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کی کل تعداد دیکھی جائے تو وہ 166 ہے۔ ایک رکن فیصل نیازی نے اپنی نشت سے استعفی دے دیا، جس کے بعد یہ تعداد 165 بنتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسلم لیگ نون کے بھی چار لوگوں کا شمار ناراض اراکین میں ہوتا ہے جبکہ اگر اتحادیوں کی بات کریں اور پاکستان پیپلز پارٹی سے سات اراکین کو شامل کریں تو یہ تعداد 172 بنتی ہے۔ اسی صورتحال میں راہ حق پارٹی کا ایک ووٹ اور چار آزاد امیدوار اس بات کا فیصلہ کریں گےکہ انھوں نے کسے ووٹ دینا ہے۔

اس معاملے پر مسلم نون اور ان کے اتحادیوں سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اتوار کے روز جو کچھ ہوا وہ پارٹی کی پالیسی تھی یا پھر آپ لوگوں کے پاس نمبر پورے نہیں تھے؟ کئی اراکین کی جانب سے یہ کہا گیا کہ دروازے بند تھے، ہمیں اندر آنے نہیں دیا گیا لیکن کچھ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم نمبر پورے کر لیں گے۔ اسی بارے میں پیپلز پارٹی کے علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ تو سچ ہے کہ نہ تو ہمارے نمبر پورے ہیں اور نہ ہی ان کے لیکن آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سپیکر پر ووٹنگ خفیہ اندازمیں ہوتی ہے اس لیے کوئی بھی کہیں بھی اپنا ووٹ ڈال سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں اگر یہی صورتحال رہی اور وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑ گیا تو مسلم نون کے لیے مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے وہ اراکین جو ناراض ہیں، اگر وہ ووٹنگ والے دن غیر حاضر ہو جاتے ہیں تو نون لیگ کے لیے نمبر گیم پوری کرنے میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔ پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے 25 منحرف اراکین کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کے بعد اب حکومت اور اپوزیشن کسی کے پاس اکثریت نہیں رہی۔ ان کے مطابق عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اسمبلی کے کل ارکان کی اکثریت درکار ہوتی ہے جو پنجاب اسمبلی میں 186 ارکان بنتے ہیں۔ احمد بلال محبوب کے مطابق سپیکر پرویز الہیٰ نے یہ اجلاس اس وجہ سے بھی جلدی بلایا ہو گا تاکہ اب وہ قائم قام گورنر کا حلف اٹھا کر اور نئے گورنر کی تعیناتی سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا کہہ سکیں۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو پھر وزیر اعلیٰ کو اس وقت 186 ارکان کی حمایت حاصل نہیں اور یوں وہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

Back to top button