سینیٹ:اعظم نذیر تارڑ قائد ایوان،وسیم شہزادقائد حزب اختلاف مقرر

مسلم لیگ ن کے سینیٹر اعظم تارڑ سینیٹ میں قائد ایوان جبکہ تحریک انصاف کے وسیم شہزاد کو قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ کا اجلاس صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا، تلاوت کلام پاک سے آغاز کے بعد جنوبی وزیرستان، میرانشاہ، کراچی اور دیگر علاقوں میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں، افراد اور سابق سینیٹر کی رحلت پر دعا کی گئی۔
جس کے بعد پیپلز پارٹی کے نومنتخب سینیٹر نثار کھوڑو نے رکنیت کا حلف لیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے احتجاج کیا اور انہوں نے حکومت مخالف پوسٹرز اٹھائے ہوئے تھے۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی قانونی حکومت موجود نہیں اور امپورٹڈ ٹولہ مسلط ہے، ملک میں بڑی واردات ہوئی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بیٹھے سہولت کاروں نے بیرونی غلامی کا طوق گلے میں ڈال دیا ہے،ایک غلامانہ ذہنیت عوام پر مسلط ہو گئی ہے لیکن قوم نے لوٹوں کو ہمیشہ کے لیے مسترد کیا۔ شہزاد وسیم نے کہا کہ عوامی جذبے کو دیکھتے ہوئے عید گاہوں میں بھی لوٹے دستیاب نہیں تھے، لوٹوں کو معلوم تھا کہ لوگ ان کا گریبان پکڑیں گے۔ اس دوران حکومتی بینچز سے جملے کسے گئے کہ اپنی ساڑھے تین سال کی کارکردگی بتائیں۔
سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے حالیہ دنوں کے واقعات بیان کیا لیکن افسوس کہ اگر وہ 44 مہینوں کی کارکردگی بھی بتاتے، اسی وجہ سے پاکستان بھر کی سنجیدہ قیادت نے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر عین آئینی اور انونی طریقے سے رخصت کیا ہے۔
انکا کہنا تھاجمہوریت میں آناجانا رہتا ہے، اس طرح رونے سے یہ اپنے گناہوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے، انہوں نے 44 مہینوں میں ملک کی معیشت کے ساتھ دہشت گردی اور کھلواڑ کیا، لوگوں پر پیٹرول، بجلی اور گیس کے بلوں کے بم گرائے، پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے لوگوں کے حقوق سلب کیے، اظہار آزادی رائے پر ڈنڈے چلائے، انتقام کی اندھی آگ میں بہنوں اور بیٹیوں کو بھی جیل میں ڈالا جو اس ملک کی سیاست کا رواج نہیں تھا۔
قائد ایوان نےکہا مجھے معلوم ہے اپویشن کو پاکستان کا بڑا درد ہے، آج مقبوضہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے، یٰسین ملک کے تمام حقوق سلب کرکے انھیں سزا سنا کر ان کی اواز بند کی جا رہی ہے۔
قائد ایوان کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے نعرے بازی جاری رکھی جبکہ چیئرمین سینیٹ کہتے رہے کہ ایوان میں کشمیر کی بات ہو رہی ہے، سن لیں لیکن اپوزیشن اراکین نے چیئرمین سینیٹ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھا، ڈیسک پر کتابیں مار کر ایوان میں شور کرتے رہے۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو ہدایت کی کہ بھارت کی بات ہو رہی ہے، آپ نشستوں پر بیٹھ جائیں، آپ بھارت کو کیا پیغام دے رہے ہیں، یٰسین ملک سے متعلق بات ہو رہی ہے، آپ دو منٹ خاموش ہو جائیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا آج ایوان سے آواز جانی چاہیے کہ یٰسین ملک کو حقوق دیے جائیں، وزارت قانون اور انصاف نے یٰسین ملک کے معاملے پر رابطے کرنے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایوان سے آواز بلند کریں کہ یٰسین ملک کو تمام آئینی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، دنیا اقوام متحدہ سے کہے کہ بھارت پر دباؤ ڈالاجائے۔
سینیٹ میں قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے مطالبہ کیا کہ ایوان یٰسین ملک کے معاملے پر مشترکہ قرارداد منظور کی جائے۔
سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان کی جانب سے سینیٹ میں پیش کردہ یٰسین ملک کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یٰسین ملک کو تمام قانونی اور انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔
