کیا حکومت TLP پر پابندی کا ردعمل کنٹرول کر پائے گی؟

حکومت نے شدت پسند مذہبی جماعت ‘تحریک لیبک پاکستان’ پر پابندی لگانے کا فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس پابندی کے رد عمل میں آنے والے طوفان کو روک پائے گی یا نہیں؟
13 اپریل کو وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت کی سفارش پر ٹی ایل پی پر پابندی کی سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی جا رہی ہے اور اس جماعت کو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی پر 1997 کے انسدادِ دہشت گردی قانون کی شق 11 بی کے تحت پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے ٹی ایل پی کے مطالبات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ یورپ کے سارے لوگ ہی پاکستان سے واپس چلے جائیں۔شیخ رشید احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی وہ کبھی اس تنظیم کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے ملے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ماضی میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے منتخب حکومتوں کو پھیلانے والی تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ کپتان حکومت سنبھال پائے گی یا نہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست کی طاقت کے سامنے کوئی بھی جماعت کھڑی نہیں ہوسکتی اور ماضی میں تحریک لبیک کو جو ڈھیل ملی تھی اب اس کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک پہلی مرتبہ 2015ء میں تحریک رہائی ممتاز قادری کے نام سے پنجاب میں منظر عام پر آئی جس کا نام بعد میں بدل کر تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ رکھ دیا گیا۔ تحریک لبیک نامی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا سیاسی چہرہ ہے۔ اس کا قیام 2016ء میں اس وقت عمل میں آیا جب پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں ان کے گارڈ ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ یہ جماعت مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیلئے نا صرف سخت مؤقف رکھتی ہے بلکہ ان کیلئے موت کا مطالبہ اس کے سیاسی نعرے میں سرفہرست نظر آتا ہے۔
اپنے قیام کے دو سال بعد ہی اس جماعت نے 2018ء کے انتخابات میں تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے اور ووٹوں کے اعتبار سے پاکستان کی پانچویں بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ تحریک لبیک پنجاب میں بنی لیکن عام انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ لینے کے باوجود یہ جماعت پنجاب سے قومی یا صوبائی اسمبلی کی کوئی سیٹ نہ جیت سکی، تاہم سندھ کے شہر کراچی سے اس جماعت نے صوبائی اسمبلی کی 2 نشستیں جیت لیں۔ اس جماعت کی طاقت کو سمجھنے کیلئے 2017ء میں اس کا فیض آباد پر 21 روز طویل دھرنا دوبارہ دیکھنا ضروری ہے۔ یہ دھرنا اس وقت کی مسلم لیگ نواز کی حکومت کیخلاف دیا گیا تھا جس کی وجہ اراکین اسمبلی کیلئے بنائے جانے والے حلف نامے میں تبدیلی تھی۔ اسوقت کی حکومت نے دھرنے کو ختم کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا، بات چیت کرنے کی کوشش بھی کی گئی اور طاقت کا استعمال بھی کیا لیکن اس جماعت کے مظاہرین فیض آباد میں دھرنے کے مقام سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔
یہاں تک کہ پاکستانی فوج نے بھی حکومت کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اس دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کرکے معاملات کو حل کرے کیونکہ تصادم ملکی مفاد میں نہیں۔ حکومت نے آخر کار فوج کا مشورہ مانتے ہوئے تحریک لبیک سے مذاکرات کئے جس میں ثالث کا کردار فوج نے ادا کیا۔ اس وقت کے حکومتی وزیر برائے قانون زاہد حامد کو اس جماعت کے مطالبے پر وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا، جب جاکر اس دھرنے کا اختتام ہوا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت کی حکومت اور جماعت کے ہونے والے معاہدے میں بحیثیت ضامن دستخط موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے کئے تھے، جو اس وقت ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس کے عہدے پر تعینات تھے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت کے ایک سینیٹر نے 2018ء کے انتخابات سے قبل کہا تھا تھا کہ حافظ سعید کی سیاسی جماعت ملی۔مسلم لیگ اور تحریک لیبک کا قیام پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچانے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔ تاہم تحریک لبیک ماضی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی طرح کی مدد لینے کی تردید کرتی رہی ہے۔ سال 2018ء میں ہی ایک انٹرویو کے دوران اس جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال پر کچھ یوں جواب دیا تھا: ’’یہ اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ میرے خیال میں ہمیں ایک بار پھر بیٹھنا چاہئے تاکہ آپ مجھے یہ بتاسکیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ ہوتی کیا ہے؟‘‘
یاد رہے کہ اسلام آباد میں 2017ء میں ہونیوالے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے ایک کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا کہ یہ ’’تاثر‘‘ پایا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ صرف یہی نہیں سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا تھا کہ وردی میں ملبوس لوگوں کا دھرنے کے شرکاء میں پیسے بانٹنا اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے۔
اگست 2018ء میں اس جماعت نے پھر سڑکوں پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دفعہ وجہ بنے ڈچ فریڈم پارٹی کے لیڈر گیرٹ ولڈرز جو اپنے ملک میں پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکے بنانے کا ایک مقابلہ منعقد کرنا چاہتے تھے۔ تاہم یہ احتجاج اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ختم کردیا گیا کیوںکہ ڈچ سیاستدان نے خاکے بنانے کا مقابلہ ملتوی کردیا تھا۔ اکتوبر 2018ء میں سپریم کورٹ نے گستاخی کے الزام میں 2010ء سے سزائے موت کی منتظر آسیہ بی بی کو ثبوت ناکافی ہونے پر بری کردیا اور ان کی سزائے موت کو معطل کردیا۔ یہ فیصلہ خادم حسین رضوی کو پسند نہ آیا اور انہوں نے اس فیصلے کیخلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں احتجاج پُرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا لیکن حکومت کی جانب سے روک تھام کی کوئی حکمت عملی دیکھنے میں نہ آئی۔ پرتشدد مظاہروں کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے بھی تحریک لبیک سے مذاکرات کرنا ہی صحیح جانا اور دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ آسیہ بی بی کی بریت کیخلاف اپیل کو عدالت میں چیلنج نہیں کرے گی اور اس اپیل پر فیصلہ آنے تک آسیہ بی بی کو پاکستان چھوڑنے نہیں دے گی۔
تاہم نومبر 2018ء میں حکومت نے تحریک لبیک کے کارکنان کی گرفتاری کا فیصلہ کیا اور اس دوران خادم حسین رضوی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ لیکن پنجاب میں حکومتی حکام نے خادم حسین رضوی کی گرفتاری کو فوراً منظر عام پر لانا مناسب نہ سمجھا شاید انہیں ڈر تھا کہ گرفتاری کی خبر سے اس جماعت کے کارکنان دوبارہ سڑکوں پر آجائیں گے۔ پھر مئی 2018ء میں اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال کو ایک 22 سالہ نوجوان نے نارووال میں ایک میٹنگ کے دوران گولی مار کر زخمی کردیا، حملہ آور عابد حسین کے حوالے سے تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وہ تحریک لبیک سے منسلک تھا اور اس نے احسن اقبال پر حملہ کرنے کی وجہ اراکین اسمبلی کے حلف نامے میں تبدیلی بتائی۔
تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی مرحوم کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ لاہور کی ایک مسجد کے اس خطیب نے اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دے کر حاصل کی تھی۔ اس سے قبل وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے معاملے میں بھی کافی سرگرم رہے تھے اور وہیں سے انھوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو سیاست کا رنگ دیا۔ بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ مبصرین کے مطابق ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے بریلوی طبقے کے قدامت پسندوں نے زیادہ متحرک سیاسی کردار اپنایا۔ لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ اور بریلوی دیوبندی اختلاف سال 2012 کے بعد سے دیکھا گیا۔
نواز شریف کی نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت کے دوران فیض آباد دھرنے سے متعلق تاثر تھا کہ اس دوران احتجاج کرنے والوں کو کسی نہ کسی صورت پاکستان فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اس بابت احتجاج کے اختتام پر رینجرز کی جانب سے مظاہرین میں رقوم کی تقسیم کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم مبصرین کے خیال میں انھیں کسی کی پشت پناہی حاصل رہی ہو یا نہ ہو وہ معاشرے کے ایک خاص قدامت پسند طبقے میں اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ ماضی میں ان کی تقریروں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اور ان کی تحریک کے دیگر سینئر رہنما پین دی سری ٹائپ جس قسم کی گندی زبان فوج اور عدلیہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انھیں اب اپنی طاقت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوگیا ہے۔ تاہم اس خوداعتمادی کا نتیجہ تیرا اپریل کو تحریک لبیک پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی لگانے کے فیصلے کی صورت میں سامنے آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک لبیک اس پابندی کے رد عمل میں کیا کرتی ہے اور حکومت پاکستان اس رد عمل کو کیسے سنبھالتی ہے۔
