کپتان نے شوگر اور گندم سکینڈل میں اپنوں کو کیسے بچایا؟

اپوزیشن رہنماؤں کو برس ہا برس برسں کھوکھلے الزامات پر قید میں رکھنے اور یکطرفہ احتساب کرنے کے لئے بدنام نیب چیئرمین نے ایک سال پہلے اپریل 2020 میں گندم اور چینی اسکینڈل میں ملوث حکومتی شخصیات کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا تھا لیکن انکوائری شروع ہونے کے بعد آگے نہ بڑھ سکی کیونکہ وزیر اعظم عمران نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ یاد رہے کہ گندم اور شوگر سکینڈل میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور اور داؤد کے نام آئے تھے۔ لیکن ایک برس پہلے شروع ہونے والی انکوائری ابتدائی مراحل سے ہی آگے نہیں بڑھ پائی اور نیب نے ان میں سے کسی ایک بھی حکومتی شخصیت کو طلب نہیں کیا۔

نیب ذرائع کے مطابق گندم اور شوگر سکینڈلز میں انکوائری آگے نہ بڑھانے کی بنیادی وجہ وزیراعظم خود ہیں جنہوں نے اسد عمر اور رزاق داؤد کی جانب شکایت لگائے جانے کے بعد نیب چئیرمین سے بغیر پوچھے یہ انکوائری شروع کرنے پر شدید اظہار ناراضی کیا تھا۔ نیب ذرائع کے مطابق رزاق داود تو کھل کر نیب کے خلاف بول پڑے تھے اور یہ کہہ دیا تھا کہ انہوں نے نیب کی کارروائیوں کا معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے رکھ دیا ہے کیوں کہ نیب کاروباری افراد کےخلاف کارروائی کیلئے نہیں بنایا گیا تھا۔ چنانچہ وزیراعظم کی سرزنش کے بعد نیب نے اس انکوائری کو آگے نہیں بڑھایا۔ ویسے بھی ایف آئی اے نے شوگر اور شوگر سکینڈل کی انکوائری شروع کر دی تھی۔

یاد رہے کہ آئین اور قانون کے مطابق قومی احتساب بیورو ایک آزاد ادارہ ہے اور کسی بھی طرح وزیر اعظم کے ماتحت نہیں ہے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سے ہمیشہ سے عمران خان نے یہی تاثر دیا ہے کہ نیب ایک حکومتی ادارہ ہے جسکے ذریعے وہ اپنے سیاسی مخالفین کا احتساب کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس جب نیب لاہور نے وزیر اعلی عثمان بزدار کے خلاف ایک فور سٹار ہوٹل کو کروڑوں روپوں کے عوض شراب کی فروخت کا لائسنس دلوانے کے الزام کی انکوائری کا آغاز کیا تھا تو عمران خان نے شدید اظہار ناراضگی کیا تھا جس کے بعد انکوائری تھہ کر دی گئی تھی۔ شوگر کمیشن کی چینی اسکینڈل تحقیقاتی رپورٹ میں جن بڑی مچھلیوں کا ذکر آیا تھا؛ وہ اب ایف آئی اے کی توجہ کا مرکز ہیں، خصوصا جہانگیر ترین حالانکہ چینی اور گندم اسکینڈل کی سرکاری رپورٹوں میں کئی اہم حکومتی عہدیداروں بشمول وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، اسد عمر، اور رزاق دائود کے نام آئے تھے۔ تاہم ایف آئی اے صرف جہانگیر خان ترین کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

اس معاملے پر نیب ترجمان نے بتایا کہ اسکے راولپنڈی آفس کو انکوائری کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور سرکاری کارروائی بارے کوئی معلومات فراہم کرنا تحقیقات پر اثر ڈال سکتا ہے، اسلیے درخواست ہے کہ اس معاملے پر میڈیا کسی بھی قیاس آرائی سے گریز کرے۔ تاہم سچ یہ یے کہ اپریل 2020ء میں بیورو کی جانب سے اسکینڈل کے تحقیقات کرنے کے فیصلے کا بیان جاری ہونے کے بعد کارروائی کا آغاز ہی نہیں ہو پایا۔ یاد رہے کہ جون 2020ء میں شوگر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت نے نیب کو ایک ریفرنس بھیجا تھا کہ وہ شوگر انڈسٹری کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ پانچ سال بشمول پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مختص کی گئی 29؍ ارب روپے کی سبسڈی کے محرکات کی تحقیقات کرے۔ کہا گیا تھا کہ نیب سے 1985ء سے لیکر دی جانے والی سبسڈیوں کے متعلق تحقیقات کیلئے بھی کہا جائے گا تاکہ جہاں بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت سامنے آئے وہاں فوجداری کارروائی کی جا سکے۔ اس صورتحال میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار توجہ کا مرکز تھے کیونکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر ملوں کو دی گئی تین ارب روپے کی سبسڈی نہ صرف بلاجواز تھی بلکہ کمیشن کو دیا جانے والا وزیراعلیٰ کا بیان بھی مشکوک تھا۔ کمیشن نے یہ بات ثابت کر دی تھی کہ صوبائی کابینہ میں یہ معاملہ زیر غور لائے جانے سے قبل اور ای سی سی کے شوگر سبسڈی کے حوالے سے اہم نکات کا انتظار کیے بغیر ہی بزدار کی زیر قیادت ہونے والے اجلاس میں پنجاب حکومت نے شوگر ملوں کو تین ارب روپے سبسڈی دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا تھا۔ کمیشن کی رائے ہے کہ سبسڈی بلاجواز ہے۔

وزیراعلیٰ بزدار نے یہ موقف پیش کیا تھا کہ سبسڈی کابینہ نے دی اور یہ مشترکہ فیصلہ تھا۔ تاہم 6 دسمبر 2018ء کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے اہم نکات کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں اسد عمر کے کردار پر بھی تشویش کا ا ظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ سبسڈی دینے کا معاملہ صوبوں کی صوابدید پر چھوڑنے کا اسد عمر کا فیصلہ کمیشن کو قائل نہ کر سکا۔ ان کی جانب سے جو وجہ بتائی گئی تھی وہ یہ تھی کہ وفاق صوبوں کے معاملات کا فیصلہ کر سکے اس کا کوئی قانونی دائرہ اختیار نہیں ہے۔ لیکن جب ای سی سی کا اجلاس ہوا تو یہ وجہ اس میں نہیں بتائی گئی اور جو فیصلہ کیا گیا وہ مکمل طور پر مختلف تھا۔ رزاق دائود کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے باووجود چینی کی مسلسل برآمد کے حوالے سے رزاق دائود کا ر د عمل قابل قبول نہیں تھا۔ کمیشن کے پاس ثبوت ہیں کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ چینی کی برآمد کی وجہ سے ہی مقامی مارکیٹس میں اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس کے علاوہ مارکیٹ میں کی جانے والی ہیرا پھیری، ذخیرہ اندوزی سٹہ وغیرہ کی وجہ سے بھی قیمتیں بڑھیں۔ اسی طرح ایف آئی اے کی گندم کے اسکینڈل پر ضمنی رپورٹ میں بھی وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف دھماکا خیز مواد موجود ہے کہ فوڈ ڈپارٹمنٹ میں کی جانے والی زبردست تبدیلیوں کی وجہ سے ملک میں آٹے کا سنگین بحران پیدا ہوا۔ ایف آئی اے کمیٹی نے عثمان بزدار سے سوالات کیے جنہوں نے دلچسپ انداز سے اعتراف کیا کہ انہوں نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں سیاسی دبائو میں آ کر تبدیلیاں کیں۔ شقگر کمیشن رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے درجنوں افسران کو متعدد مرتبہ وزیراعلیٰ کے کہنے پر تبدیل کیا گیا، انہوں نے سات ماہ میں چار فوڈ سیکریٹریز بھی تبدیل کیے۔ ایک فوڈ سیکریٹری نے ایف آئی اے کو بتایا کہ محکمے کے افسران کو وزیراعلیٰ کے زبانی احکامات پر تبدیل کیا جاتا تھا۔ ضمنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکوائری ٹیم نے وزیراعلیٰ سے سوالات کیے جنہوں نے بتایا کہ ’’یہ درست ہے کہ سیاسی لوگ وزیراعلیٰ آفس سے رابطہ کرکے ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے کہتے ہیں۔‘‘

یاد رہے کہ بزردار حکومت نے اپریل 2019 سے نومبر 2019 تک چار فوڈ سیکریٹریز تبدیل کیے۔ یہ تمام لوگ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے تبدیل کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نسیم صادق کے علاوہ باقی تین فوڈ سیکریٹریز نے بھی بڑے پیمانے پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کو اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو تبدیل کیا۔ ان میں سے ایک سیکریٹری نے صرف مارچ 2019ء کے ایک مہینے میں 35؍ ڈی ایف سیز کو تبدیل کیا۔ ایک اور سیکریٹری نے 9؍ ڈپٹی سیکریٹریز کو اور 32؍ ڈی ایف سیز کو تبدیل کیا۔ دونوں سیکریٹریز شوکت علی اور ظفر نصر اللہ نے بتایا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ وزیراعلیٰ کی منظوری سے ہوئیں۔ ظفر نصر اللہ نے تبدیلیوں کے حوالے سے انتظامی وجوہات بیان کیں لیکن اعتراف کیا کہ آدھی پوسٹنگز وزیراعلیٰ آفس سے زبانی ملنے والی ہدایات پر تجویز کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چار سیکریٹریز کیلئے بھیجی جانے والی سمریوں میں سے کسی میں بھی فوڈ ڈپارٹمنٹ میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کو وجوہات بیان نہیں کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں لکھا تھا کہ ٹرانسفر پوسٹنگز کے حوالے سے تمام سمریاں مجاز اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق بھیجی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے سابق اور موجودہ چیف سیکریٹری نے بھی اسی موقف کی تصدیق کی۔ تاہم ان تمام تکخ حقائق کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے نیب کو انکوائری ٹھپ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے اور وہ آج بھی چور وزیر اعلی عثمان بزدار کے ساتھ دل و جان سے کھڑے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button