حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کیوں لگائی؟

تحریک لبیک کی جانب سے ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد عمران خان حکومت ایک دلدل میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا اس لیے مشکل ہے کہ اگر معاہدے کے مطابق فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جاتا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود پاکستان نہ صرف بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی تنہائی کا شکار بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر حکومت سفیر کو ملک بدر نہیں کرتی تو تحریک لبیک ناموس رسالت کے حساس معاملے پر مظاہروں میں شدت لا کر عمران خان کی حکومت کے لیے سنگین مسائل کریں کر سکتی ہے۔ یعنی اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان کے لئے آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے۔ حکومت کاموقف ہے کہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا معاملہ نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ اور تعلقات پر اس کے نہایت منفی براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی بجائے سعد رضوی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ 20 اپریل سے ملک گیر تحریک شروع نہ کر سکیں۔ تاہم اس تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث حکومت شدید مشکلات میں گھر گئی ہے۔
حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدے کے ٹوٹنے اور سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پاکستان بھر میں تحریک لبیک کی جانب سے پر تشدد مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ متنازع خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس معاہدے کی توثیق وزیراعظم عمران خان نے خود کی تھی۔ تاہم وقت آنے پر معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے وزیراعظم نے معاہدے سے یوٹرن لیتے ہوئے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو گرفتار کروا دیا جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی شروع ہوچکی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں فرانس میں تاریخ کے ایک استاد کو اپنی کلاس میں پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھانے پر قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے ملک کی سیکولر اقدار کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ فرانس نے مبینہ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جو موقف اپنایا تھا اس کی عالمی سطح پر بہت سے لوگوں نے حمایت کی لیکن عالم اسلام میں اکثریت نے اس پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک کی عوام کی جانب سے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے فرانس کے پاکستان میں سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔
تاہم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کا اصرار ہے کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ لیکن اس کے سفارتی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے نتائج کیا ہوں گے؟فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا معاملہ نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ اور تعلقات پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فرانس میں پاکستان کے سابق سفیر غالب اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان اور فرانس کے تعلقات ماضی میں بہت اچھے تھے لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے ہیں جس کی ایک اہم وجہ فرانس اور انڈیا کے تعلقات میں بہتری اور قربت ہے۔ انکا کہنا یے کہ ’اگر آج پاکستان مذہبی جماعت کے دباؤ میں آ کر فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دیتا ہے تو نہ صرف اس کے اثرات پاکستان اور فرانس کے دو طرفہ تعلقات پر پڑیں گے بلکہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی جیسا کہ سلامتی کونسل اور یورپی یونین جن کا فرانس مستقل رکن ہے، پاکستان کے لیے مشکلیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ غالب اقبال کا کہنا ہے کہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر نہ صرف فرانس بلکہ دیگر مغربی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل آئے گا کیونکہ کوئی بھی ملک جو ایک گروہ کے دباؤ میں آ کر ان کے مطالبات مان لیتا ہے تو اس کے لیے آزادانہ خارجہ اور داخلہ پالیسی کا حصول بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے کہ اگرچہ دہشتگردوں کو مالی معاونت روکنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جن شدت پسند تنظیموں پر اعتراضات کیے گئے ان میں تحریک لبیک کا ذکر نہیں ہے لیکن فرانس ایف اے ٹی ایف کا اہم رکن ہے اور اس کے سفیر کی ملک بدری کا اثر یقیناً پاکستان کی پوزیشن پر پڑے گا۔ خیال رہے کہ رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستان کو جون 2021 تک کی مہلت دی تھی کہ وہ تجویز کردہ 27 میں سے بقیہ تین سفارشات پر مزید کام کرے۔فروری میں ہونے والے اجلاس میں فرانس نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی سخت مخالفت کی تھی۔
فرانس میں پاکستان کے سابق سفیر غالب اقبال بھی سمجھتے ہیں کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی صورت میں پاکستان کو نہ صرف ایف اے ٹی ایف میں بلکہ دوسرے ممالک کے ساتھ لین دین میں شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق ’فرانس یورپی یونین کا ایک اہم ملک ہے اور یورپ پاکستان کی مصنوعات کی اہم منڈی تو اس فیصلے کے پاکستان کے لیے معاشی نتائج بھی ہو سکتے ہیں جبکہ فرانس پاکستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے بھی چلا رہا ہے جو اس فیصلے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘اس کے علاوہ یورپ خاص طور پر فرانس میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کا اصرار ہے کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور خارجہ پالیسی ماہرین کے مطابق اس فیصلے پر عمل کرنے کی صورت میں پاکستان کو سنگین سفارتی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے تو پاکستان کے پاس اس مسئلہ کے حل کے لیے کیا آپشنز دستیاب ہیں؟
سابق سفیر غالب اقبال کا کہنا ہے کہ اس وقت فرانس میں پاکستان کا کوئی سفیر موجود نہیں ہے لیکن اگر کوئی سفیر ہوتا تو اس کو چند ماہ کے لیے واپس بلا کر مشاورت کی جا سکتی تھی جس کے شاید فرانسیسی سفیر کے بلک بدری جتنے سنگین نتائج نہ ہوتے۔ غالب اقبال کا کہنا ہے کہ ‘حکومت عوام کو پرامن رکھنے کے لیے ان کے ساتھ مشاورت ضرور کرے لیکن اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ سفارت کاری میں آپ کبھی لوگوں کو خوش کرنے کے لیے فیصلے نہیں کرتے بلکہ وہ فیصلے لیتے ہیں جو آپ کے لیے فائدہ مند ہوں اور آپ کو بلکل کاروباری طریقے کے ساتھ سفارت کاری کرنا پڑتی ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا یہ فیصلہ آپ کے ملک کے لیے اچھا ہے یا نہیں اگر یہ آپ کے ملک کے لیے اچھا ہے تو سنگین نتائج سے قطع نظر آپ کو اسے لینا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ یہ نہیں کر سکتے کہ آپ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کر دیں اور پھر دنیا کو کہیں کہ ہم مجبور تھے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ آپ کے لیے ٹھیک ہے تو اسے پاکستان کے پارلیمان میں لے کر جائیں اور اس کے مطابق اس پر عمل کریں۔‘
ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت جہاں اپنے سیاسی دفاتر کا استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک خاص طور پر فرانس کی حکومت کو اس مسئلے سے متعلق پاکستانی عوام کے جذبات سے آگاہ کر سکتی ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کے خلاف نفرت اور تشدد پر اکسانے جیسے قوانین کے تحت کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسے گروہ قانون ہاتھ میں نہ لیں اور پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ملک بھر میں موجود ہنگاموں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے سوچے سمجھے بغیر تحریک لبیک کے ساتھ فرانس کے سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر کرنے کا معاہدہ کر لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ معاہدہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے تھا۔
