کیا داعش کے خاتمے کے لیے طالبان کی حمایت جائز ہے

ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے شدت پسند تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کی شرائط پوری کر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے یہ بیان داغ دیا ہے کہ داعش کے خاتمے کے لیے طالبان کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔ تاہم ایسا کہتے وقت وہ شاید بھول گئے کہ افغانستان کے طالبان ہوں یا پاکستان کے طالبان، ان دونوں تنظیموں کو بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے اور اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی لین دین یا سودے بازی نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات رکھے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغان طالبان اب بھی امریکی محکمہ خزانہ کے پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، اور اسی وجہ سے افغان حکومت کو امریکی سینٹرل بینک میں موجود 9 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثوں تک رسائی نہیں دی گئی۔ دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان بھی بین الاقوامی طور پر ایک کالعدم تنظیم ی ہے اور پاکستان میں بھی اس پر پابندی عائد ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے یہ انکشاف کرکے کے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا کہ وہ تحریک طالبان کے ساتھ افغان طالبان کی مدد سے مذاکرات میں مصروف ہیں اور اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو طالبان کو عام معافی دینے کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسا کہتے وقت عمران خان بھول گئے کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کی مدد سے دوسری کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کا اعتراف کر رہے ہیں جو ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نازک اور سیاسی طور پر حساس مذاکرات میں مصروف ہے جسے اکثر پاکستانی طالبان کہا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’ٹی ٹی پی اور پاکستانی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سائیڈ لائن میں خونی تنازع کا سامنا کیا ہے جس میں 80 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوچکی ہیں’۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ٹی ٹی پی نے، جسے پانچ سال قبل قبائلی علاقوں سے نکال دیا گیا تھا، پاک فوج کے ساتھ جھڑپوں سے اپنی نئی مہم کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کے لیے دو شرائط رکھی ہیں، قبائلی علاقوں میں شرعی قوانین کا نفاذ اور اپنے گرفتار قیدیوں کی رہائی جبکہ حکومت پاکستان کا اصرار ہے کہ ان علاقوں میں صرف آئین پاکستان ہی لاگو ہوتا ہے۔
عمران خان نے اپنے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ٹی ٹی پی 50 گروپس پر مشتمل ہے اور وہ ان عناصر سے صلح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم ان لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں صلح ہو سکتی ہے، میرا ماننا ہے کہ ہر انتشار بالآخر بحث کی میز پر ختم ہو جاتی ہیں۔دوسری جانب افغان طالبان کا ایس آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان کے لیے امدادی پیکج دینا ہوگا ورنہ افغانستان داعش کے عسکریت پسندوں کی اگلی آماج گاہ بن سکتا یے۔
برطانوی آن لائن خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکا کے پاس افغانستان میں مستحکم حکومت کی حمایت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں کیونکہ طالبان ہی خطے میں داعش سے لڑنے کا واحد آپشن تھے۔یاد رہے کہ افغانستان میں داعش کی علاقائی وابستگی نے، جسے اسلامک اسٹیٹ آف خراسان کے نام سے جانا جاتا ہے، طالبان کے خلاف لڑنے میں مصروف ہے اور فغانستان میں حالیہ مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان داعش سے لڑنے کے لیے طالبان کی حمایت کی بات کرکے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں کر سکتے ہیں کیونکہ ایک دہشت گرد تنظیم کو ختم کرنے کی خاطر دوسری دہشت گرد تنظیم کی نہ تو حمایت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی حمایت لی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ایسے حساس امور پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ورنہ ایف اے ٹی ایف کے اگکے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں بھی دھکیلا جا سکتا ہے۔
