حکومت سعد رضوی کی رہائی رکوانے میں کامیاب

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی رہائی رکوانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی کو رہا کرنے کے جاری کردہ فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی دائر کردہ درخواست لاہور ہائی کورٹ کے خصوصی بینچ کو بھیج دی ہے جس کے بعد ٹی ایل پی کے سربراہ کی رہائی لٹک گئی ہے۔
12 نومبر کو سپریم کورٹ میں سعد رضوی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل بینچ نے کی۔ حکومت پنجاب کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی کے احتجاج میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد جان کی بازی ہارے لیکن ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ نے سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت نظر بندی کا کوئی گزٹ نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ صوبائی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے۔ سعد رضوی کے چچا کے وکیل برہان معظم ملک نے کہا کہ حکومت کے پاس 90 دن کے بعد نظر بندی کی توسیع کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ شاید دونوں فریقین کی طرف سے کیس کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا، ماضی میں جو خونی واقعات ہوئے ان کی ذمہ داری قبول تو کی جانی چاہیے۔ سعد کے وکیل برہان معظم ملک کا کہنا تھا کہ جب ہنگامہ ہوا تب ٹی ایل پی کے سربراہ جیل میں تھے اور بغیر کسی وجہ کے چھ ماہ سے قید ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے معاملہ لاہور ہائی کورٹ کو بھجواتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور ہائی کورٹ کا دو رکنی خصوصی بینچ کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ کرے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کے سربراہ کو رہا کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم اس وقت اسٹیبلشمنٹ کسی صورت سعد رضوی کی رہائی کا رسک نہیں لینا چاہتی چنانچہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے لئے ہر طرح کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کے چچا کی درخواست پر ان کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا تھا۔ بعد ازاں 11 نومبر کو پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں انھیں ہی فریق بنایا۔ درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سعد رضوی کو رہا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ حکومت کا موقف تھا کہ عدالتِ عالیہ کو اس کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا اور یہ کہ سعد رضوی کی نظربندی کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ سعد رضوی کی رہائی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ کیس دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا ہے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لاہور کی انتظامیہ نے سعد رضوی کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے تاہم ان کی رہائی عمل میں نہیں آ پائی ہے اور مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا کیونکہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے دباؤ تلے دبی ہوئی ہے اور نہیں چاہتی کہ اسے گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں دھکیل دیا جائے۔
دوسری جانب حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف عدالتی فیصلے کے باوجود تحریک لبیک کے سربراہ کی رہائی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب عمران خان ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے قاتل طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے میں مصروف ہیں اور انھیں عام معافی دینے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ناقدین نے سوال کیا کہ کیا یہ کھلا تضاد اور دوغلی پالیسی نہیں ہے؟ یاد رہے کہ اپنے والد خادم رضوی کی وفات کے بعد مذہبی جماعت ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہونے والے سعد رضوی کو پہلے وفاقی حکومت کے احکامات پر نقص امن عامہ کے قانون کے تحت نظر بند کیا گیا اور پھر انھیں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت جیل میں رکھا گیا۔ تاہم عدالتی احکامات کے باوجود حکومت انہیں رہا کرنے پر تیار نہیں اور بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے تاکہ سعد رضوی کو زیادہ سے زیادہ عرصہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو اپریل 2021 کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
