جام کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا کے شام گیا

بلوچستان اسمبلی میں 23 اپوزیشن اراکین کی جانب سے وزیر اعلی جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائے جانے کے بعد اب 14 حکومتی اراکین نے بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے جس کے بعد جام کمال کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ 65 اراکین کے ایوان میں ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 38 ہے جبکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہے جس کے باعث وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔
تاہم تمام تر دباؤ کے باوجود جام کمال ابھی تک استعفی دینے یا اعتماد کا ووٹ لینے سے انکاری ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہی نظر آتا ہے۔ 11 اکتوبر کے روز اسمبلی سیکریٹریٹ میں جام کے خلاف دوسری مرتبہ جو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے وہ وزیر اعلیٰ کے خلاف ناراض حکومتی اراکین کی جانب سے آئی ہے جس پر 14 اراکین کے دستخط ہیں۔ ان سراکین میں انکی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی جسے گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے بعض تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر واپس کیا گیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ناراض حکومتی اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ناراض اراکین کی جانب سے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد پر نہ صرف 14 اراکین کے دستخط ہیں بلکہ سپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔ اس لحاظ سے اب تک ناراض اراکین کی اعلانیہ تعداد 15ہوگئی ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جنھوں نے پہلے ہی وزیر اعلیٰ جام کمال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ 65 اراکین کے ایوان میں ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 38 ہے جبکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہے جس کے باعث وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر انوار کاکڑ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ مستعفی نہیں ہوں گے بلکہ تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔ ناراض اراکین کی جانب سے جو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران وزیر اعلیٰ جام کمال کی ’خراب طرز حکمرانی‘ کی وجہ سے بلوچستان میں شدید مایوسی، بد امنی اور بے روزگاری ہے جبکہ اداروں کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے متن کے مطابق وزیر اعلیٰ کی خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے جام کمال نے اقتدار پر براجمان ہو کر اپنے آپ کو ’عقل کل‘ سمجھ کر تمام اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طور پر چلا رہا ہے جس سے بلوچستان کو ’ناقابل تلافی نقصان‘ پہنچا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں انھیں کابینہ اور اراکین اسمبلی وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتے رہے لیکن انھوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔
تحریک میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو ’خراب طرز حکمرانی‘ کے باعث قائد ایوان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ پر ایوان کے اکثریت کے حامل رکن کو وزیر اعلیٰ اور قائد ایوان منتخب کیا جائے۔
ناراض اراکین میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے جبکہ دو کا تعلق بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور ایک کا تعلق تحریک انصاف سے تھا۔ جن اراکین کے تحریک عدم پر دستخط تھے انھوں نے شام کو تحریک عدم اعتماد اسمبلی کے سیکریٹری کے حوالے کی۔ اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو انھوں نے ایک موقع دیا تاکہ وہ ’باعزت‘ طریقے سے مستعفی ہو جائیں لیکن انھوں نے ’ہماری بات کو اہمیت دینے کی بجائے یہ کہا کہ وہ 12 لوگوں کے کہنے پر مستعفی نہیں ہوں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ مستعفی نہیں ہوئے تو انھوں نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی جس پر زیادہ تر بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کے ہی دستخط ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی، وہ وزارت سے فارغ ہوجائیں گے، لہذا یہی کہا جاسکتا ہے کہ جام کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا کہ شام گیا۔
