کیا راجہ سکندر سلطان نئےچیف الیکشن کمشنر ہوں گے؟

چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی مہینوں سے جاری ڈیڈ لاک ختم ہونے کی توقع ہے کیونکہ تین انتہائی سخت سیاسی مخالفین یعنی وزیراعظم عمران خان، سابق وزیراعظم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن چیف الیکشن کمشنر کیلئے سابق بیوروکریٹ راجہ سلطان سکندر کے نام پر متفق نظر آتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تینوں سیاسی شخصیات ہی راجہ سکندر کو اپنے اپنے حق میں بہتر تصور کرتی ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے راجہ سلطان کے نام پر اتفاق کرنے کی اپنی اپنی وجوہات ہیں۔ یہ تینوں ہی یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کے داماد سلطان سکندر دیگر کے مقابلے میں ان کے زیادہ قریب ہیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے بیوروکریٹ سعید مہدی ان دنوں نیب کے ایک کرپشن ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں۔ معتبر ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے سلطان سکندر کا نام مسلم لیگ (ن) کے سامنے پیش کئے جانے سے قبل نواز شریف سے حمایت کیلئے رابطے بھی کئے تھے.
ذرائع کےمطابق حکومتی نمائندوں نے اس ضمن میں جمعیت علما ء اسلام(ف)کے سربراہ سے بھی رابطے کئے اور انہوں نے بھی راجہ سکندر کے نام پر اتفاق کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹھارہ جنوری بروز پیر چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی کیلئے حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں فریقین کے مابین سکندر راجہ کے نام پر اتفاق رائے کی امید ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی( ف)چیف الیکشن کمشنر کے اپنے نامزد کردہ امیدوار کےنام پر پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی بات چیت کریں گے اور دونوں کو امید ہے کہ آصف علی زرداری کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔
یاد رہے کہ 2000ء میں جب نواز شریف طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں لانڈھی جیل میں قید تھے تو اس وقت راجہ سکندر نواز شریف کیساتھ جیل میں موجود اپنے سسر سعید مہدی سے ملنے کیلئے آتے تھے اور اس دوران وہ نواز شریف سے بھی ملاقات کرتے تھے ۔ سلطان سکندر حال ہی میں گریڈ 22میں ریٹائر ہوئے ، وہ آزاد کشمیر میں چیف سیکرٹری اور وفاق میں کئی وزارتوں پر سیکرٹری رہ چکے ہیں ۔ وہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بھائی واصل فخر سلطان راجہ سینئر پولیس افسر ہیں ۔ ان کے برادر نسبتی اور سعید مہدی کے بیٹے عامر احمد اس وقت سی ڈے اے کے چیئرمین ہیں اور موجودہ حکومت کے سب سے پسندیدہ افسر ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے چیف الیکشن کمشنر کی آئینی آسامی 6 دسمبر سے خالی ہے جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن تقریباً غیر فعال ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کو مذکورہ معاملے پر جمعہ کے روز غور کرنا تھا تاہم اس کا اجلاس نہیں ہوسکا کیوںکہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 15جنوری کو جاری ہونے والا نیا خط انہیں موصول نہیں ہوا تھا جس میں دو نئے نام سلطان سکندر اور جمیل احمد بھی شامل تھے جبکہ تیسرا نام فضل عباس مکین پہلے ہی شامل کیا جاچکا تھا ۔ جمیل احمد بھی سابق بیوروکریٹ رہے ہیں اور اس وقت بے نامی ٹرانزیکشنز پروبیشن ایکٹ کے تحت قائم کردہ ایجوڈییٹنگ اتھارٹی کے چیئرمین ہیں ۔اب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے بھی تین نام تجویز کئے جائیں گے یا پھر وہ وزیراعظم کی جانب سے تجویز کنندہ تین ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرلیں گے ۔ جہاں تک سندھ اور بلوچستان سے ای سی پی کے ارکان کے تقرر کا تعلق ہے اس حوالے سے پارلیمانی فورم پر پہلے ہی معاہدہ ہوچکا ہے تاہم اسے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا ہے کیوںکہ اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ چیف الیکشن کمیشن کے نام پر اتفاق رائے کے بعد ان ناموں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
