کیا ریاست توڑنے کی بات کرنے والے عمران کو کوئی روکے گا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست کی کتاب میں سے اپنا صفحہ پھٹ جانے کے بعد اب عمران خان اور انکی جماعت قصہ پارینہ ہو چکے، انکے پاس اقتدار میں واپسی کا کوئی بہانہ باقی نہیں بچا۔ لہٰذا وہ انتشار اور نفرت پر مبنی سیاست کرتے ہوئے پستی میں گر گئے ہیں۔ ایسے میں وہ ملک میں قتل غارت کا بازار گرم کر سکتے ہیں۔ دارالحکومت کو نذر آتش کر سکتے ہیں۔ صوبوں کو وفاق پر چڑھائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ اداروں کی بے توقیری کر سکتے ہیں۔ شہر انصاف پر تہمت لگا سکتے ہیں۔ ملک کی معاشی تنزلی کا پیغام دنیا بھر کو دے سکتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ اب وہ ملک کی تقسیم کی بات بھی علی الاعلان کر سکتے ہیں۔ لیکن عمران خان سے اسی طرح کی توقع تھی۔ جو شخص چار سال تک نشے کی حالت میں ملک چلاتا رہا، مٹکے میں سے نام نکال نکال کر سرکاری افسران کی تعیناتیاں کرتا رہا، ہر مخالف سوچ اور آواز کو انتقام کا نشانہ بناتا رہا۔ عوام پر مہنگائی کا قہر فخر سے بپا کرتا رہا۔ اس شخص سے کوئی اور کیا توقع کر سکتا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان منتخب حکمران بھی نہیں تھے۔ ان کو منتخب کروایا گیا تھا۔ ان کے لئے انتخابات کی زمین ہموار کی گئی، ان کے لئے میڈیا کا دل موم کیا۔ ان کو عدالتوں سے صادق اور امین کا خطاب دلوایا گیا۔ ان کے ہر مخالف پر زندگی تنگ کی گئی۔ ان کے لئے سینٹ میں ووٹ فراہم کیے گئے۔ ان کے لئے ہر من پسند بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔ ان کے سوشل میڈیا کی جانے کہاں کہاں سے فنڈنگ کی گئی۔ ان کی خوشنودی کے لئے انصاف میں تعطل پیدا کیا گیا۔ کبھی بی آر ٹی کی تحقیقات پر پابندی لگائی گئی، کبھی فارن فنڈنگ والے کیس کو برسوں تہہ خانوں میں سڑنے دیا گیا۔ کبھی بزدار کو وسیم اکرم پلس بتایا گیا۔ کبھی فرح گوگی کے کارناموں کو چھپا یا گیا۔ کبھی مخالفین کو بنا کسی مقدمے کے جیلوں میں ڈلوایا گیا۔ کبھی مثبت رپورٹنگ کا حکم دیا گیا۔ کبھی اتحادی جماعتوں کو مینج کیا گیا۔ سارے کام عمران خان کے لئے علی ال اعلان کیے گئے۔ کوئی پردہ کوئی حجاب باقی نہیں رکھا گیا۔ لاڈلے کو لاڈ سے اقتدار میں لایا اور حکومت میں لانے کے بعد بھی چار سال تک اس کے لاڈ اٹھائے گئے۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ اتنی جدوجہد اتنی جانکاری کے بعد نتیجہ کیا ہوا۔ کہ جس شخص کو پاکستان کا مسیحا بنا کر پیش کیا گیا وہ پاکستان کے ہی درپے ہو گیا۔ جس ارض مقدس کا حکمران مقرر کیا گیا اسی ملک کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی بات کرنے لگا۔ اپنے محسنوں کو تضحیک اور تمسخر کا نشانہ بنانے لگا۔ کیا فائدہ ہوا اس ہائبرڈ نظام کا۔ کیا فائدہ ہوا 2018 کا الیکشن لوٹنے کا۔ کیا حاصل کیا گیا عوام کی منشا کو پاؤں تلے روند کر۔ کیا فائدہ ہوا سیاسی جماعتوں کو پامال کرنے کا۔ آج انہی جماعتوں کی طرف کشکول حاجت اگر بڑھانا تھا تو اس سے پہلے بھی سوچنا چاہیے تھے کہ اس طرح کا ہائبرڈ نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ زمین پر کوئی بھی پودا مصنوعی تنفس سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ عوام کو جمہوریت کے نام پر چابک مارنے سے کیا حاصل ہوا۔ سیاسی قیادتوں پر الزام بہتان لگانے سے کیا حاصل ہوا۔
بقول عمار مسعود، ملک اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ ایک لاڈلا ملک ٹوٹنے کی بات کر رہا ہے۔ فوج کے ختم ہونے کا بتا رہا ہے، ڈیفالٹ کی ذلت سے ملک کو سرفراز کر رہا ہے۔ جوہری پروگرام کے خاتمے کی پیش گوئی کر رہا ہے۔ لیکن اس لاڈلے کو روکنے کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا۔ اب ایک ذہنی مریض کے ہذیان سے قوم کو نکالنے کا کوئی حل نہیں نکالا جا رہا۔ اب اس تباہی بربادی سے بچانے کا کوئی فارمولہ نہیں۔ اب نفرت کی رسم سے پاکستانیوں کو بچانے کا کوئی حل نہیں۔ عمران خان کے توسط سے ہمیں اب مسلسل شرمندگی اور شر پسندی درپیش ہے اور وہ جو ملکی معاملات کا منٹوں میں حل نکال لیا کرتے تھے وہ اس وقت منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھے ہیں۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اب ان کے پاس کوئی حل نہیں۔ جو بڑے بڑے فیصلے ڈرائنگ روموں میں لمحوں میں کر لیا کرتے تھے اب ان کے پاس اس فتنے کا کوئی علاج نہیں؟
عمار مسعود کے مطابق آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو احساس ہو گا کہ مسئلہ عمران خان نہیں اصل مسئلہ وہ سوچ ہے جو ہر دس سال کے بعد جمہوریت پر حملہ آور ہوتی ہے، ایسے ہائی برڈ نظام تشکیل کرتی ہے۔ ایسے مہرے ایجاد کرتی ہے۔ وہ قوتیں جو اس ملک میں تجربے کرنے سے باز نہیں آتیں۔ اب دیکھنا ہے کہ اس عبرت ناک تجربے کچھ سبق حاصل کیا گیا یا پھر اب بھی آٹھویں ترمیم زد پر ہے۔ یہی ملک ہے جہاں عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بے نظیر بھٹو کو خون میں لت پت کیا گیا۔ دو دفعہ ان کی حکومت کو تاراج کیا گیا۔ تین دفعہ نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا۔ اس سب کے باوجود کسی نے پاکستان کی تقسیم کی بات نہیں کی۔ اس لئے کہ ان کی جڑیں اس ملک میں تھیں۔ ان کو عوام کی حمایت حاصل تھی۔ ان کی سوچیں جمہوری تھیں۔ ان کے پاس ووٹ کی طاقت تھی انہیں پتہ تھا کہ آج کڑا وقت ہے تو کل پھر ان کا وقت آئے گا۔ان کے ڈوبتے ستاروں کو پھر عروج مل سکتا ہے۔
لیکن بقول عمار مسعود، عمران خان ان سے مخلتف ہے۔ خان کو پتہ ہے کہ دوبارہ ہائبرڈ نظام کی بساط بچھائی نہیں جا سکتی۔ دوبارہ ایک سلیکٹڈ کو منتخب کرنے کے لئے ہر ادارے کی مدد حاصل نہیں کی جا سکتی۔ دوبارہ اس شخص کے لئے عوام کی منشاء کو لوٹا نہیں جا سکتا۔ اس لئے عمران اپنی ساری کشتیوں کو آگ لگا کر ملک کو نذر آتش کرنا چاہتا ہے کہ اب اس کے پاس اسکے سوا چارہ ہی نہیں۔ سیاست کی کتاب میں سے اب اسکا صفحہ پھٹ چکا ہے۔ وہ اور اسکی جماعت اب قصہ پارینہ ہو چکی ہیں۔ اب ان کے پاس اقتدار میں آنے کا کوئی حیلہ باقی نہیں ہے۔ اب صرف غصہ ہے انتشار ہے نفرت ہے تقسیم ہے جس کی زد پر اب یہ ملک ہے، اسکے عوام ہیں اور یہ نظام ہے۔
