کیا شوکت ترین کو سینٹر بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینٹر بنائے جانے کا اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک کہ عملی طور پر اس حوالے سے کوئی کاروائی نہیں ہو پائی اور اب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید انھیں سینٹر بنانا ممکن نہ ہو۔ حکومت نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی نشست خالی کروانے کے لئے ایک آرڈیننس نافذ کیا تھا لیکن یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور اسحاق ڈار ابھی تک اپنی نشست سے فارغ نہیں کیے جا سکے۔ پلان بی کے طور پر وزیراعظم نے شوکت ترین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے انہیں خیبرپختونخوا سے کسی سینٹر کا استعفی دلوا کر اسکی جگہ منتخب کروا لیا جائے گا لیکن ابھی تک کوئی سینیٹر اپنی نشست چھوڑنے کے لئے راضی نہیں ہوا۔ لہذا اب شوکت ترین کو ایوان بالا میں لے جانے کا منصوبہ خاک میں ملتا نظر آتا ہے۔
ان حالات میں اگر شوکت ترین سینیٹر منتخب نہ ہو پائے تو انہیں وفاقی وزیر کے عہدے سے سبکدوش ہونا یا گا جس کے بعد وہ تنزلی کا شکار ہوکر مشیرخزانہ کے عہدے پر کام کریں گے۔ وفاقی کابینہ کے ایک اہم رکن نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی وزیر شوکت ترین مشیر برائے خزانہ کے عہدے کا چارج سنبھالیں گے جبکہ انہیں تاحال سینیٹر بنوانے کے لیے راہ ہموار نہیں ہوسکی ہے۔‘ ان حالات میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ شوکت ترین وزیراعظم کی جانب سے کیا جانے والا وعدہ پورا نہ ہونے پر مشیر خزانہ کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیں اور مستعفی ہو جائیں ۔
خیال رہے کہ حکومت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کی رکنیت سے متعلق فیصلے میں فریق بننے کی درخواست دائر کرتے ہوئے کیس کی جلد سماعت کرنے کی استدعا کی ہے۔ حکومت نے استدعا کر رکھی ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی جانب سے 60 روز میں حلف نہ اٹھانے کی صورت میں اس کی نشست خالی کروانے کا آرڈیننس جاری کیا جاچکا ہے اور اس کے تحت اسحاق ڈار کو ڈی سیٹ کیا جائے۔ دوسری جانب مسئلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں اسحاق ڈار کے سینیٹر منتخب ہونے کے خلاف کیس میں عدم حاضری کی بنیاد پر ان کی رکنیت عبوری طور پر معطل کر دی تھی جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مفرور قرار دے رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں الیکشن کمیشن بھی سابق وزیر خزانہ کی رکنیت معطل کرچکا ہے لہذا پہلے ان کی معطلی کے کیس کا فیصلہ ہوگا اور پھر ان کی نشست خالی کرنے کے حوالے سے کوئی کاروائی ہو پائے گی۔ اسحاق ڈار اس حوالے سے عدالت میں ایک درخواست بھی ڈال چکے ہیں۔واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ان گذشتہ چار برس سے لندن میں رہائش پذیر ہیں، وہ 2017 میں اچانک لندن روانہ ہو گئے تھے، بعد ازاں ان کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ’وہ علاج کی غرض سے لندن آئے ہیں۔‘
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سینٹر منتخب نہ ہونے کی صورت میں مشیر خزانہ بننے کے بعد شوکت ترین اپنی وزارت سے متعلق اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنے کے اہل نہیں رہے گے اور بہت سارے اختیارات سے محروم ہو جائیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کی وجہ سے وہ قومی مالیاتی کمیشن سمیت اہم اجلاسوں کی صدارت نہیں کر پائیں گے اور کسی اور کو وزیر خزانہ بنانا پڑے گا۔
اس سے قبل حکومت گذشتہ تین برسوں میں چار وفاقی وزرائے خزانہ تبدیل کر چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق شوکت ترین گذشتہ کئی دنوں سے اس معاملے پر تشویش کا شکار تھے اور انہوں نے اس کا ذکر وزیراعظم عمران خان سے بھی کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر انہیں سینیٹر منتخب کروانے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک شوکت ترین سینیٹر منتخب نہیں ہو جاتے وہ مشیر برائے خزانہ ہی رہیں گے جبکہ جگہ وزیراعظم اہم اجلاسوں کی صدارت کے لیے کسی سینیئر وزیر کو نامزد کریں گے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم شوکت ترین سے کیا گیا وعدہ پورا کر پائیں گے یا نہیں۔
