کیا نئے ڈی جی ISI کی تقرری پر عمران خان ناراض ہیں؟


انٹر سروسز انٹیلی جنس کے نئے ڈائریکٹر جنرل ندیم احمد انجم کی تقرری کا اعلان تو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کئی روز پہلے کردیا تھا لیکن ابھی تک انکا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری نہیں ہو سکا جس کے بعد سے افواہ ساز دال میں کچھ کالا تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہیں چل رہی ہیں کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر وزیر اعظم اور آرمی چیف ایک پیج پر نہیں تھے اور اسی وجہ سے ابھی تک ندیم انجم کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو پایا۔ 8 اکتوبر کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی ندیم انجم کی بجائے فیض حمید نے شرکت کی جس سے ن افواہوں میں تیزی آ گئی۔

تاہم اس حوالے سے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ندیم احمد انجم کا بطور نئے ڈی جی آئی ایس آئی تقرر ہو چکا ہے لیکن عہدے کا چارج لینے میں چند روز لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف جنرل فیض حمید نے اپنے عہدے کا چارج نہیں چھوڑنا بلکہ ندیم انجم نے بھی بطور کور کمانڈر کراچی اپنی ذمہ داریاں دوسرے جرنیل کے حوالے کرنا ہیں لہذا اس میں کچھ روز تو لگیں گے۔ عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ نئے ڈی جی ائی ایس آئی کا نوٹیفکیشن بھی جلد جاری ہوجائے گا اور وہ بہت جلد اپنی نئی ذمہ داریاں بھی ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ تاہم دوسری جانب سینئر صحافی نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر باجوہ کے مابین نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر اختلاف چل رہا ہے اور اسی وجہ سے ابھی تک ندیم انجم کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہو سکا۔ سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران ندیم انجم کی بجائے کسی اور کو آئی ایس آئی چیف لگانا چاہتے تھے اور وہ اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ آئی ایس پی آر نے نئے ڈی جی کی تقرری کا اعلامیہ کیسے جاری کر دیا حالانکہ یہ وزیراعظم کا اختیار یے۔

نیا دور میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس بات پر اٙڑ گئے ہیں کہ میری اجازت کے بغیر نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا اعلان کیا گیا لہازا میں اس سمری پر سائن نہیں کروں گا۔ سیٹھی کے مطابق دوسری طرف جنرل باجوہ بھی اپنی بات پر اٙڑ گئے ہیں کہ جو نام جاری کیا گیا ہے اس پر اتفاق رائے ہو چکا تھا لہذا اب ندیم انجم ہی ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں بھی چل رہی ہیں کہ عمران دراصل آصف غفور کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل باجوہ نے کور کمانڈر کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ندیم انجم کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی بنانا زیادہ موزوں ہو گا جس پر تما کور کمانڈرز کا بھی اتفاق ہے۔ لہذا فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ان کے نام کا اعلان کر دیا۔ تاہم عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بات کا خواہ مخواہ بتنگڑ بنایا جارہا ہے اور وزیراعظم اور آرمی چیف میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔

لیکن ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر ذرائع ابلاغ میں ہونے والی قیاس آرائیوں کی بھر مار اس ادارے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف پاکستانی دفاع کے لیے اہمیت کا حامل ہے بلکہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے لیے بھی کافی اہمیت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپنے ادارے کی بجائے سارا وزن وزیراعظم عمران خان کے پلڑے میں ڈال رکھا تھا جس اداروں کا توازن بگڑا ہوا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کا تقرر اسی بگڑے ہوئے توازن کو بہتر بنانے کے لئے کیا گیا ہے تا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی سیاست کی بجائے اپنی اصل پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر فوکس کر سکیں۔

دوسری جانب ندیم انجم کی تقرری کے اعلان کے بعد سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اُنھیں ایک قومی ہیرو بنا کر نمایاں کرنے کی مسلسل کوشش جاری ہے۔ فیس بک پر ایک پوسٹ میں ان کا تعارف ان الفاظ میں کروایا گیا کہ ’وہ ایک پروفیشنل سولجر ہیں، وہ سخت گیر ہیں لیکن آرمی جوانوں میں بے حد مقبول اور غریب پرور ہیں۔‘ وردی میں ملبوس ندیم انجم کی ایک خوبصورت تصویر بھی اس پوسٹ کے ہمراہ تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس ڈالنے والوں کو بھی تنقید کا سامنا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ہر نئے آنے والی ڈی جی آئی ایس آئی کے لیے وہی پرانے توصیفی کلمات ادا ہوتے ہیں جو پہلے فیض حمید کے لئے استعمال ہو رہے تھے اور اب ندیم انجم کے لیے۔ وجہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی اب فوج سے بھی تگڑا ادارہ بن چکی ہے اور اس کے سربراہ کو آرمی چیف سے بھی زیادہ طاقتور شمار کیا جاتا ہے۔ لہذا ہمارے خوشامد کے مارے معاشرے میں طاقت ور کی تعریف کرنا تو بنتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میڈیا میں آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے حوالے سے جاری ’ہائی پروفائل‘ مہم کی ایک وجہ سبکدوش ہونے والے فیض حمید کا سیاسی طور پر متنازع ہونا بھی ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے اقتدار سے نکالے جانے اور انہیں سزائیں دلوانے کا مُورد الزام جنرل فیض حمید کو ٹھہراتی ہے اور خود سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر اس حوالے سے سنگین الزامات عائد کر چکے ہیں۔

ملکی طاقت کے ڈھانچے میں آئی ایس آئی کے ڈی جی نے ایسی مرکزی حیثیت حاصل کر لی ہے کہ ایک ڈی جی کے جانے اور دوسرے کے آنے سے مہینوں پہلے ہی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کی آندھیاں چلنے لگتی ہیں۔ سول ملٹری تعلقات کے تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ ’آئی ایس آئی اب ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کی صورتحال میں مرکزی اور کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ستّر کے دور میں لوگوں کو صحیح طور پر یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دراصل آئی ایس آئی ہے کیا؟ 1979 میں افغان جنگ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بعد اس نے یہ کردار آہستہ آہستہ سنبھالنا شروع کیا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عمر فاروق کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کی شخصیت اور اس منصب کی اہمیت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں فوج اور اسکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ملکی سیاسی منظر نامے پر اثر و نفوذ اور خارجہ پالیسی اُمور پر مکمل غلبہ ہے۔ پرویز مشرف کے دور اقتدار کے بعد ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں آئی ایس آئی کی اہمیت تب مزید بڑھ گئی جب اپوزیشن قوتوں نے (2002 سے 2008 کے دوران) اس پر سیاسی انجینیئرنگ کے کھلم کھلا الزامات لگانے شروع کیے۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد کے گذشتہ پانچ سال میں آئی ایس آئی کے خلاف الزامات میں کہیں زیادہ شدت دیکھنے میں آئی ہے۔حسن عسکری کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور بائیں بازو کے عناصر دونوں آئی ایس آئی پر سیاسی مداخلت کے الزام لگاتے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد یہ مہم مزید مضبوط ہوئی، اس لیے آج ہم ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے بارے میں روایتی اور سوشل میڈیا پر اتنا شور شرابہ دیکھتے ہیں۔

آئی ایس آئی کی اہمیت میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں نے خطے میں ہونے والی ہر ’اچھائی‘ اور ’برائی‘ کے لیے اس ادارے کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر رکھا ہے چاہے، وہ امریکہ ہو، بھارت ہو یا افغانستان۔ لہذا ضروری ہے کہ اس اہم ترین قومی ادارے کی ساکھ بحال کرنے کے لیے اس کا سیاسی کردار مکمل طور پر ختم کیا جائے اور اسے پاکستان کے بیرونی دشمنوں کی سازشوں کو کاوئنٹر کرنے کی اصل ذمہ داری پر فوکس کروایا جائے۔

Back to top button