کیا شہباز بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھانے میں کامیاب ہونگے؟

شہباز شریف کے بطور وزیر اعظم حلف اٹھانے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مبارکباد کے پیغام اور پاکستانی وزیراعظم کے اظہار تشکر کے بعد مستقبل قریب میں سردمہری کےشکار پاک بھارت تعلقات میں گرمجوشی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا شہبازشریف پاک بھارت تعلقات معمول پر لا سکتے ہیں کیونکہ ماضی میں ان کے بڑے بھائی اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف ہمیشہ سے بھارت سے پرامن اور دوستانہ تعلقات کے حامی رہے ہیں۔
اس حوالے سے جرمن خبررساں ادارے کا اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہنا ہے کہ مودی کی شہباز شریف کو مبارکباد سے سفارتی سطح پر سرد مہری کےخاتمے کی امید پیدا ہوئی، قیاس آرائیاں ہیں کہ شہباز شریف نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے اقدامات کر رہے ہیں.
تاہم دوسری جانب ایک امریکی تھنک ٹینک ماہر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نئی دہلی کی طرف دوستانہ تعلقات کا اشارہ دے کر بہت بڑا خطرہ مول لیں گے، نئی دہلی ممکنہ طور پرشہباز شریف کی کوششوں کو مستردکردے گی، جس سے نون لیگ کو سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا.
جرمن خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا مودی کی طرف سے شہبازشریف کو بھیجا جانے والا پیغام، اگرچہ مختصر اور سادہ تھا، برسوں کے کشیدہ تعلقات اور کبھی کبھار کی سرحدی جھڑپوں کے بعد بدلتے وقت کی علامت محسوس ہوا۔
مودی نے ایکس پر لکھا،شہباز شریف کو پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے پر مبارکباد، جس کے بعد شہباز شریف نے کچھ دن بعد اسی طرح کی ایک مختصر پوسٹ کے ساتھ جواب میں بھارتی وزیر اعظم مودی کا مبارکباد دینے پر شکریہ ادا کیا۔لیکن یہ دو جنوبی ایشیائی ممالک کی سرحدوں سے باہر کے سفارت کاروں سمیت لوگوں کو بات کرنے کے لیے کافی تھا۔
مودی کے پیغام کے بعد، امریکا نے کہا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نتیجہ خیز اور پرامن مذاکرات کا خیرمقدم کرے گا۔یہ پیش رفت نواز شریف کی طرف سے حالیہ مہینوں میں مفاہمت کے اشارے کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔کچھ حلقے پہلے ہی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ نئے وزیر اعظم نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ساتھ شامل کر کے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتری کی کوشش کر سکتے ہیں۔شہباز شریف بھارت سے تعلقات میں بہتری لانے کیلے عملی اقدامات کر کے اپنے بھائی نواز شریف کی پالیسی کی پیروی کرسکتے ہیں کیونکہ نواز شریف نے 1999 میں اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو دورہ پاکستان کی دعوت دے کر بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ان کی کوشش تھی۔ نواز شریف نے 2015 کے آخر میں اپنی نواسی کی شادی میں نریندر مودی کا استقبال کرکے ایک بار پھر سب کو دنگ کر دیا تھا۔ تاہم سابق سفارت کار ملیحہ لودھی کا کہنا ہے پاک بھارت کشیدہ تعلقات کا ذمہ دار بھارت ہے، خاص کر خطے میں یکطرفہ تبدیلیاں کرنے کے بعد نئی دہلی کی جانب سے کشمیر پر بات کرنے سے انکار کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دہلی کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں، جن پر قابو پانا آسان نہیں ۔جب نواز شریف نے 2013 سے 2017 کے درمیان بھارت سے تعلقات کی کوشش کی تو بلاول بھٹو نے انہیں غدار قرار دیا۔ دائیں بازو کی جماعتیں بھی اس طرح کی مخالفت کرتی ہیں، جن میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی بھی شامل ہے۔سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے مطابق، عمران خان اور ان کے اتحادی نواز شریف کو نئی دہلی کی طرف مفاہمتی قدم اٹھانے اور کشمیر کے تنازع میں پاکستان کے مفادات کو فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ تاہم اب عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ بھارت اور پاکستان تعلقات معمول پر لائیں،اور ان میں سے کچھ، جیسے امریکا اور عرب خلیجی ممالک، بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں جنھیں پاک بھارت تعلقات کو مستحکم کرنے اور مذاکرات کے آغاز کیلئے امریکا اور عرب خلیجی ممالک کوپاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ،تجزیہ کار کے مطابق امریکا اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے.تاہم لگتا یہی ہے کہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہیں گے جبکہ بھارت کے چین کے ساتھ مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
دوسری طرف جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے شہباز شریف کوحکومتی سربراہ بننے پر مبارکباد دی، جس سے سفارتی سطح پر سرد مہری کےخاتمے کی امید پیدا ہوئی لیکن شریف کو نئی دہلی سے تعلقات بہتر کرنے کےلئے بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب بھارتی میڈ یا نے امریکی انٹیلی جنس جائزے کے حوالے سے لکھا کہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہیں گے کیونکہ چین اور بھارت میں تاریخی کشیدگی اور فوجی تصادم کے امکانات کی وجہ سے مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
