کیا شہباز حکومت انڈیا سے دوستی کی جرات کر پائے گی؟

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد کے بعد سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کا سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو سکتا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شہباز حکومت کے لیے پاکستان کیساتھ دوستی کا ’سفر‘ آسان نہیں ہو گا اور اس حوالے سے اسے کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یاد ریے کہ پاکستان میں فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ اتحادی حکومت قائم ہوئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شہباز شریف کو بھیجا جانے والا پیغام، اگرچہ مختصر اور سادہ تھا، تاہم امید کی جا رہی ہے کہ یہ دونوں ممالک کے بیچ سفارتی تعلقات میں بہتری کی شروعات ہو سکتی ہے کیونکہ ماضی میں تینوں مرتبہ جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے انڈیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”شہباز شریف کو پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے پر مبار کباد۔‘‘ وزیر اعظم پاکستان نے کچھ دن بعد اسی انداز میں ایک مختصر پوسٹ کے ذریعے جواب دیا، ”مودی کی جانب سے مبارکباد‘‘ کے لیے شکریہ۔ اس مختصر بات چیت پر امریکہ کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کیا گیا، ’’بھارت اور پاکستان کے درمیان نتیجہ خیز اور پرامن مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘
اس تازہ ترین صورتحال میں کچھ حلقے یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ نئے پاکستانی وزیر اعظم نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستانی فوج کی ملک کی خارجہ پالیسی پر بہت گہری نظر ہے۔ اعلیٰ فوجی رہنما روایتی طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات کی مخالفت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فوج پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے نئے سربراہ کی جانب سے آرمی کی بھارت مخالف پالیسی کے خلاف جانے کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں۔
ذیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شہباز شریف اپنے فوجی حمایتیوں کو ناراض کرنے کی جسارت نہیں کریں گے۔ سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ ”اس حکومت نے بھی ملک کی داخلی پالیسی فوج کے سپرد کر رکھی ہے پھر خارجہ امور کے محاذ پر بھارت خے حوالے سے کوئی پہل کیسے کر سکتی ہے؟‘‘ لیکن سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ اس حوالے سے کچھ پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم اس کوشش میں فوج کو شامل کر کے صورتحال کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی پچھلے آرمی چیف جنرل باجوا نے اپنے اقتدار کے اخری سال میں بار بار بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے واضح اشارے دیے تھے۔ وہ کہتے ہیں،”اگر وزیر اعظم فوج کو اعتماد میں لے سکتے ہیں تو بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ ورنہ ایسا کر پانا مشکل ہے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف اپنے بھائی کے نقش قدم پر چل سکیں گے؟ یاد ریے کہ 1999ء میں تب کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے نواز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ جنرل مشرف کی زیر قیادت فوج اس دورے کے حق میں نہیں تھی۔ یہ پاکستان کے روایتی حریف ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ان کی کئی کوششوں میں سے صرف ایک کوشش تھی۔ اسی برس نومبر 1999 میں پرویز مشرف نے نواز شریف کو گرفتار کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف نواز شریف کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے پر تل گئی۔ اسکے باوجود 2015 میں نواز شریف نے اپنی پوتی کی شادی میں نریندر مودی کو لاہور بلوا کر اعلی فوجی قیادت کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں نواز شریف نے سیاست میں عوامی بالادستی کے لیے کھڑے ہو کر اپنی ساکھ بنائی تھی وہیں ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو اس کے برعکس دیکھا گیا۔ ان کے لیے نواز شریف کے نقش قدم پر چلنا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوگا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ان کو دوبارہ وزارت عظمی فوج سے بہترین تعلقات کی وجہ سے دی گئی ہے۔
سابق سفارت کار ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ مودی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے اجتناب اور خطے میں اپنی من مرضی کی تبدیلیاں کرنے کی وجہ سے بھارت کو ان کشیدہ تعلقات کا مورد الزام ٹھرایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ سچ ہے کہ پچھلی حکومتیں بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے زیادہ موزوں تھیں، لیکن اس وقت یہ ہمیشہ باہمی کوشش ہوتی تھی۔ اب نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کرنے میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں، جنہیں پار کر پانا اتنا آسان نہیں۔‘‘ انکا کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف فوج کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تب بھی انہیں پاکستان کی رائے عامہ کو دیکھنے کی ضرورت ہو گی۔
یاد رہے کہ جب نواز شریف نے 2013ء سے 2017ء کے درمیان بھارت کے ساتھ روابط استوار کرنے کی کوشش کی تو عمران خان کے علاوہ بلاول بھٹو نے بھی انہیں غدار قرار دیا تھا۔
سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی یہ سمجھتے ہیں کہ شہباز حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کی نتیجے میں عمران خان اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے ان پر پاکستانی ‘مفادات کے سودے‘ کا الزام لگنے کے قوی امکانات ہیں۔
حقانی نے کہا کہ "پاکستان کو جہادی دہشت گردی پر بھارتی تحفظات کو تسلیم کرنا پڑے گا اور بھارت کو بھی شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ معاملات میں کچھ نرمی برتنا ہو گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سپر پاورز پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی خواہاں ہیں۔ امریکہ اور خلیجی ممالک پاکستان پر اس حوالے سے دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔ لیکن سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اگر امریکہ پاکستانی فوجی قیادت پر دباؤ ڈالے تو پاکستان اور بھارت کے بیچ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”اس طرح شہباز شریف کو کچھ حوصلہ مل سکتا ہے اور وہ مودی کے ساتھ بات چیت میں پہل کر سکتے ہیں تاکہ دونوں نیوکلیئر ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے قریب آ کر اپنے عوام کی بہتری کے لیے کام کر سکیں۔
