برطرف ہونے سے جسٹس مظاہر نقوی کو کتنا مالی نقصان ہوگا؟

سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج کہلانے والے جسٹس مظاہرنقوی کی کرپشن پر مہر تصدیق ثبت ہونے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو منظور کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے ٹرک والے مظاہر علی اکبر نقوی کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔وزارت قانون سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق، سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر نقوی کو جوڈیشل مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا تھا اور ان کو برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق، مظاہر اکبر نقوی کو 10 جنوری 2024 سے برطرف کیا گیاہے۔صدر مملکت نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش منظور کر لی ہے۔ جبکہ مظاہر نقوی کا بطور جج مستعفی ہونے کا نوٹیفیکیشن بھی واپس ہوگیا ہے۔ مظاہر نقوی کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کو بھجوادیا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جسے سابق صدر مملکت عارف علوی نے منظور کیا تھا۔ تاہم اب صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے مظاہر نقوی کو برطرف کیے جانے کے بعد مظاہر نقوی کے بطور جج مستعفی ہونے کا نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا گیا ہے۔بعض ماہرین کے مطابق صدر پاکستان کی جانب سے مظاہر علی اکبر نقوی کو برطرف کرنے کے لیے
‘Remove’
کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کے لیے ‘
Dismiss’
کا لفظ استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔سینیئر صحافی عامر الیاس رانا کے مطابق صدر پاکستان نے مظاہر علی اکبر نقوی کو عہدے سے ہٹایا ہے، برطرف نہیں کیا۔ اگر وہ انہیں برطرف کرتے تو انہیں ملنے والی پنشن اور دیگر مراعات ختم ہو جاتیں۔ ان کی رائے میں مظاہر نقوی کو عہدے سے ‘ہٹایا’ گیا ہے، ‘برطرف’ نہیں کیا گیا اس لیے مظاہر نقوی کو اب پنشن اور دیگر مراعات ملتی رہیں گی اور کرپشن اور بددیانتی ثابت ہونے کے باوجود انھیں کسی قسم کا مالی نقصان برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے دولت پجاری ٹرک والے جج پر الزامات کی مکمل جانچ پرکھ کے بعد جہاں مظاہر نقوی کو بدیانت قرار دے کر انھیں برطرف کرنے کہ سفارش کی تھی وہیں دوسری جانب مظاہر نقوی کے نام کے ساتھ جسٹس لگانے سے بھی روک دیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے مظاہر علی اکبر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیے جانے کے معاملے پر 33 صفحات پر مشتمل تفصیلی رائے جاری کی گئی تھی۔ تفصیلی رائے چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے تحریری رائے میں کہا تھا کہ مظاہرعلی اکبر نقوی پر مجموعی طور پر 5 الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ مظاہر نقوی کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی متعدد مرتبہ خلاف ورزیوں کے باعث عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی۔ مظاہر نقوی کے نام کے ساتھ جسٹس یا جج کا صیغہ بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
کونسل نے قرار دیا تھا کہ مظاہر نقوی کے خلاف تمام الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ وہ ذاتی فائدے اٹھانے میں ملوث قرار پائے۔ مظاہر نقوی نے علم ہونے کے باوجود چوہدری شہبازدیوانی کیس میں ذاتی مفاد کیلئےکم عمربچوں کو قیمتی جائیداد سے محروم کیا، مزید برآں مظاہر نقوی وصول شدہ تحائف کی وضاحت بھی نہیں دے سکے۔کونسل نے رائے میں مزید کہا کہ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا مظاہر علی اکبر نقوی کے دل میں لالچ نہیں تھا۔ اپنے عہدے کی مدت کے دوران مظاہر علی نقوی قابل رسائی بھی تھے۔ جسٹس نقوی کے اقدامات سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ ذاتی مفاد کی طرف مائل تھے۔کونسل نے رائے دی کہ مظاہر نقوی نے بطور جج سپریم کورٹ حلف لینے کے بعد 2 سال میں 3 جائیدادیں اسلام آباد میں جبکہ ایک جائیداد راولپنڈی میں بنائی۔ مظاہر نقوی نے یہ جائیدادیں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے خریدیں۔ مظاہر نقوی نے وضاحت نہیں کی کہ یہ جائیدادیں کیسے بنائی گئیں۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے رائے میں کہا تھا کہ عہدے کی مدت میں مظاہرعلی نقوی قابل رسائی بھی تھے، جسٹس (ر) نقوی عہدے کے دوران دفتری اور ذاتی امور میں بھی غیر مناسب تھے، دفتری اورذاتی امورمیں بھی غیرمناسب ہونا کنڈکٹ کوڈ3 کی خلاف ورزی ہے۔خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس (ر) نقوی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران ہی جسٹس (ر) نقوی استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ 2020 میں سپریم کورٹ کے جج کا عہدہ سنبھالنے والے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا نام ایک مبینہ آڈیو لیک میں سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پاکستان بار کونسل سمیت دیگر فریقین کی جانب سے مس کنڈکٹ کے الزام پر متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے لائرز فورم کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل میاں داؤد نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے ان کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
