وفاق اور پنجاب کو دھمکیاں دینے والے گنڈاپور کا انجام کیا ہوگا؟


بدتمیز اور منہ پھٹ وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اقتدار کے نشے میں پاگل ہو گیا۔9 مئی کو شرپسندانہ کارروائیوں پر درج مقدمے میں عدالت کی جانب ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد گنڈاپور نے وفاق اور پنجاب کو دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔عمرانڈو وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے دھمکی دی ہے کہ مریم نواز، نواز شریف اور آصف زرداری پرڈی آئی خان میں ایف آئی آر درج ہیں، مجھے گرفتاری کی دھمکیاں نہ دیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپکے گھر پولیس بھیج دیں، وفاق اور پنجاب حکومت اپنی حرکتوں سے باز آجائے، حرکتوں سے باز نہیں آتے تو ہم دیکھتےہیں یہ کیسے حکومت چلاتے ہیں۔


علی امین گنڈاپورنے اپنے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پارٹی لیڈرشپ کے خلاف کیسز کے ثبوت پیش کرنے کا پیغام دیا لیکن وفاق اور حکومت پنجاب کو شرافت کی زبان سمجھ نہیں آتی۔انھوں نے ثبوت سامنے لانے کی بجائے میرے ہی وارنٹ گرفتاری جاری کروا دئیے۔ علی امین گنڈا پور نے وفاق اور پنجاب کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کےیا ان کی پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کیسز میں ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں ورنہ کیسز ختم کیے جائیں۔انہوں نے اپنی گرفتاری کا چیلنج دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وفاق اور پنجاب صوبوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ گنڈا پور نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے انہیں شرافت کی زبان سمجھ نہیں آتی۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ یہ مجھے گرفتار کر لیں گے تو ایسا بھی کر کے دیکھ لیں، عوام اپنے وزیراعلیٰ اور اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔


واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے کیس میں علی امین گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں 2 اپریل کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے کی تھی اور 9 مئ کے پرتشدد مظاہروں، اہم تنصیبات، پولیس اہلکار و افسران پر حملے کے الزام پر ایس ایچ او تھانہ سٹی کی درخواست منظور کرتے ہوئے وارنٹ جاری کیے تھے۔دوسری جانب بدتمیز وزیر اعلی خیبرپختونخوا کا عوام کو رشوت خوروں کیخلاف قانون ہاتھ میں لینے بارے متنازعہ بیان بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔


خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ’میں پورے صوبے سے کہتا ہوں، آپ سے بھی کہتا ہوں، مجھے کوئی ایسا نہ کہے کہ فلاں رشوت مانگتا ہے۔ سر پھاڑ دو، اینٹ مار دو اور پھر مجھے بتاؤ کہ میں نے رشوت لینے والے کا سر پھاڑ دیا۔ اگر کوئی کہے کہ کیوں مارا تو کہو کہ اسے جہنم کی آگ سے بچایا ہے۔‘علی امین گنڈا پور کا حالیہ بیان اگرچہ معاشرے سے ایک سماجی برائی کے خاتمے سے متعلق ہے لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر صارفین پوچھ رہے ہیں کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کیسے لوگوں سے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا کہہ سکتا ہے۔


سوشل میڈیا پر علی امین گنڈا پور کے حالیہ بیان کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کیسے اتنا غیر ذمہ دارانہ بیان کیسے دے سکتا ہے ۔ایکس پر خالد محمد نے لکھا کہ ’عقل سے کام لیں۔ ایسے بیانات دینا غلط ہے اور ایسا کرنا بھی۔ علی امین کو کہنا چاہیے کہ جو رشوت مانگے اس کی شکایت قانون کے مطابق درج کرائیں اور پھر حکومت کو چاہیے کہ اس پر فوراً ایکشن لے۔‘عمیر علی نامی ایک صارف نے لکھا کہ اگر لوگوں نے خود ہی اس طرح سزائیں دینی ہیں تو پھر لوگوں نے آپ کو ووٹ کیوں دیا۔طلحہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’معذرت کے ساتھ لیکن قانون اپنا راستہ خود اختیار کرتا ہے نہ کہ شہری خود قانون اپنے ہاتھ میں لیں۔‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بار علی امین گنڈا پور کے کئی متنازع بیانات سامنے آ چکے ہیں۔سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد مرکزی سطح پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد علی امین کو اہم ذمہ داریاں دی گئی تھیں جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری تھی۔کشمیر میں انتخابات کے دوران علی امین کا کردار خاصا متنازع رہا تھا اور ان کی جانب سے اس دوران تقریروں میں مریم نواز سمیت دیگر سیاسی حریفوں کے خلاف متنازعہ بیانات دیے تھے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کے ان بیانات اور فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد انھیں کشمیر سے نکلنے کا کہا گیا تھا۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی دور میں علی امین گنڈا پور نے عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر ’چائے میں چینی کم ڈالنے اور روٹی کم کھانے‘ کا مشورہ دیا تھا جس پر خاصی تنقید ہوئی تھی۔

Back to top button