کیا طالبان پنج شیروادی تسخیر کر پائیں گے؟


پاکستان کی سرحد کے قریب واقع وادی پنج شیر پر قبضہ کرنا ہر حملہ آور کا خواب ہی رہا ہے لیکن اسکی تعبیر ممکن نہیں ہو پائی۔ اسی کی دہائی میں سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے دوران بھی انہیں 10 برس تک اس علاقے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی قیادت احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود نے کی تھی۔ اب افغان طالبان نے وادی پنج شیر پر قبضے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا افغان طالبان صدیوں سے ناقابل تسخیر رہنے والی پنجشیر وادی کو تسخیر کر پاتے ہیں یا نہیں؟
طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد جہاں حکومت سازی کے لیے طالبان اور مختلف افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے وہیں شمالی افغانستان سے اب بھی طالبان مخالف مزاحمت کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے شمالی اتحاد کا گڑھ صوبہ پنج شیر اب بھی طالبان کے کنٹرول میں نہیں جہاں بڑی تعداد میں مسلح جنگجو فوجی مشقیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ البتہ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ اُن کے سینکڑوں جنگجو پنجشیر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور تین اطراف سے اس کا محاصرہ بھی کر لیا ہے۔ کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے علاوہ افغانستان کا نگران صدر ہونے کے دعوے دار امراللہ صالح بھی وادیٔ پنجشیر میں روپوش ہیں۔ ایک تازہ ٹوئٹ میں اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے پنجشیر پر حملے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ درۂ سالانگ کو مزاحمتی فورسز نے بند کر دیا ہے، یہاں خطرناک کھائیاں ہیں جن سے طالبان کو دُور رہنا چاہیے۔
شمالی افغانستان میں طالبان کے مخالف جنگجو گروپ قومی مزاحمتی محاذ نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف لڑائی اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں۔ محاذ کا دعویٰ ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز اور اسپیشل فورسز کے کئی اہل کار بھی اُن کے شانہ بشانہ طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں گروپ ترجمان علی میثم نظری نے بتایا تھا کہ قومی مزاحمتی محاذ نے وادیٔ پنجشیر میں نو ہزار جنگجوؤں کو طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے منظم کر لیا ہے تاہم اُنہوں نے مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ اس گروپ کے سربراہ شمالی اتحاد کے سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود ہیں۔ یاد رہے کہ احمد شاہ مسعود کو امریکہ میں نائن الیون پر حملے سے دو روز قبل نو ستمبر کو القاعدہ نے ایک بم حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔علی میثم نظری کا کہنا تھا کہ اُن کا گروپ خوں ریزی نہیں چاہتا تاہم وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انصاف، برابری، انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں پر مشتمل نظام ہو۔
شمالی افغانستان میں کابل سے تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر کی آبادی ایک لاکھ 73 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جن میں اکثریت تاجک النسل باشندوں کی ہے۔
صوبہ پنجشیر کے سات اضلاع ہیں جب کہ اس کا صوبائی دارالحکومت بازارک ہے۔ سرسبز و شاداب پہاڑیوں اور ندیوں کی سرزمین وادیٔ پنجشیر سے کئی افغان سیاست دان اور جنگجو سیاسی محاذ میں سرگرم رہے ہیں۔ احمد شاہ مسعود کے خاندان کے علاوہ افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ، امراللہ صالح، سابق نائب صدر یونس قانونی، سابق جنگجو سردار جنرل قاسم فہیم اور افغانستان کے سابق وزیرِ دفاع بسم اللہ خان محمدی کا تعلق بھی پنجشیر سے ہے۔ نوے کی دہائی میں بھی جب افغان طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت بھی وہ پنجشیر کا کنٹرول حاصل نہیں کر پائے تھے۔ احمد شاہ مسعود کی قیادت میں شمالی اتحاد نے پنجشیر میں طالبان کو اپنے قدم جمانے نہیں دیے تھے۔
افغان اُمور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کہتے ہیں کہ کوہ ہندو کش کی بلند و بالا پہاڑیوں میں گھری وادیٔ پنجشیر اپنے محل و وقوع کی وجہ سے طالبان کی پہنچ سے دُور رہی ہے۔اُن کے بقول یہ قدرتی طور پر ایک محفوظ علاقہ ہے جس کا ایک ہی راستہ کابل کی طرف نکلتا ہے جب کہ تین اطراف سے یہ ایک طرح سے بند ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی بھی حملہ آور کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا تھا کہ احمد شاہ مسعود ایک پرعزم جنگجو تھا جس کے ساتھ کئی وفادار ساتھی طالبان کے ساتھ لڑتے رہے تھے۔
البتہ اُن کے بقول اب صورتِ حال مختلف ہے کیوں کہ احمد مسعود کے ساتھ جو جنگجو ہیں وہ اتنے پرعزم نہیں ہیں۔ لہذٰا طالبان نے پنجشیر کی جانب پیش قدمی کی تو وہ اس علاقے پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے احمد شاہ مسعود اور شمالی اتحاد کو ایران کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔ تاہم اب ایران بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جس کے بعد احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود کے پاس بہت کم آپشنز باقی بچے ہیں۔
تاہم پنجشیر کے ناقابل تسخیر ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ وادی سنگلاخ ڈھلوانوں پر مشتمل ہے، جن کے کٹیلے زاویے وادی کے دامن میں بہتے تند و تیز پنج شیر دریا میں جا گرتے ہیں۔ انہی پہاڑوں کے پہلو کاٹ کاٹ کر سخت جان پنج شیریوں نے اپنے کھیتوں اور گھروں کے لیے جگہ نکالی ہے۔ کاشت کاری کے علاوہ لوگوں کا گزارہ گلہ بانی سے بھی ہے۔
ہندوکش پہاڑی سلسلے میں واقع ڈیڑھ سو کلومیٹر لمبی یہ وادی افغانستان کے شمالی اور جنوبی حصے کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ ایک زمانے میں افغانستان کے جنوبی صوبوں سے شمالی علاقوں اور وسطی ایشیا تک جانے کا یہ واحد راستہ تھا، پھر 1960 کی دہائی میں سوویت حکومت کے تعاون سے سالنگ سرنگ تعمیر کی گئی۔ لیکن یہ سڑک وادیِ پنج شیر کے پہلو سے گزرتی ہے، اس لیے اسے اس وادی کے دروں سے نشانہ بنا کر آسانی سے مسدود کیا جا سکتا ہے۔
اس کی ایک مثال 1997 میں دیکھنے میں آئی جب احمد شاہ مسعود نے سالنگ سرنگ کو ڈائنامائیٹ سے اڑا دیا تاکہ طالبان اسے استعمال نہ کر سکیں۔ یہی نہیں، پنج شیر کی جغرافیائی اہمیت کا مزید اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں سے بگرام کا ہوائی اڈہ صرف 30 کلومیٹر اور دارالحکومت کابل 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، چنانچہ اسے مرکز بنا کر افغانستان کا بڑا حصہ مفلوج کیا جاسکتا ہے۔
پنج شیر کو افغانستان کا واحد صوبہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس پر طالبان کبھی قبضہ نہیں کر سکے۔
کہتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ چنانچہ اب 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد وادیِ پنج شیر ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور طالبان مخالف قوتیں وہاں اکٹھی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا افغان طالبان صدیوں سے ناقابل تسخیر رہنے والی پنجشیر وادی کو تسخیر کر پاتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button