کیا عظمی کاردار کا کپتان سے کوئی ایسا ویسا تعلق بھی تھا؟

https://youtu.be/bLxuisMetN8
تحریک انصاف کی رہنما اور کپتان کے قریب سمجھی جانے والی عظمیٰ کاردار کو بطور ترجمان حکومت پنجاب بر طرف کرنے کی بنیادی وجہ ان کی بشریٰ بی بی کے حوالے سے لیک ہونے والی ایک آڈیو کال ہے جس میں وہ خاتون اول کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاہم حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان کی دوسری اہلیہ ریحام خان بھی عظمی کاردار کو پسند نہیں کرتی تھیں اور اپنی طلاق کے بعد لکھی جانے والی کتاب میں وہ ان کے اور کپتان کے حوالے سے نہایت شرمناک الزامات عائد کر چکی ہیں۔
ریحام نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ عظمی کاردار اور عندلیب عباس عمران خان کے پیچھے لگی ہوئی تھیں اور انہیں جنسی تسکین پہنچانے کی آفرز لگاتی رہتی تھیں۔ یہ بات ریحام کے علم میں تب آئی جب انہوں نے مبینہ طور پر کپتان کے موبائل میں عظمی اور عندلیب کے پیغامات پڑھے۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ ان تمام الزامات کے باوجود جب عمران خان وزیراعظم بن کر اقتدار میں آئے تو عظمی کارداراور عندلیب عباس دونوں کو مخصوص نشستوں پر صوبائی اور قومی اسمبلیوں کا ممبر بنا پارٹی میں عہدے تفویض کر دیے۔
یاد رہے کہ 15 جون کے روز پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے یہ اعلان کیا تھا کہ عظمی کاردار کو بطور ممبر پی ٹی آئی میڈیا سٹریٹیجی کمیٹی پنجاب برطرف کر دیا گیا ہے حالانکہ نوٹیفکیشن کے مطابق وہ پنجاب حکومت کی ترجمان تھیں۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا پر عظمی کاردار کی ایک مبینہ آڈیو کال لیک ہوئی تھی جس میں وہ خاتون اول بشریٰ بی بی پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ وہ صرف اپنے بندے آگے لاتی ہیں اور مجھے میڈیا پر آنے نہیں دیا جاتا۔ صرف انہی لوگوں کو پارٹی میں آگے لایا جارہا ہے جو بشریٰ بی بی کے پرانے جاننے والے ہیں۔ عظمی کاردار نے فون پر کسی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کوئی حکومت نہیں چل سکتی اس لیے ہر حکمران کو فوج کے ساتھ بنا کر رکھنا پڑتی ہے اور یہی حال عمران خان کا ہے۔
عظمی کاردار کی یہ مبینہ گفتگو سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد اس کو پارٹی عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی سے شادی کے بعد سے عمران خان نے بنی گالہ رہائش گاہ پر پارٹی خواتین کا داخلہ محدود کر رکھا ہے اور اب وہ خواتین کی پہنچ سے کافی دور ہو چکے ہیں جس وجہ سے عظمی نے خاتون اول کے بارے میں اس طرح کی گفتگو کی۔ لیکن پارٹی کے دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ عظمی کاردار عمران خان اور اپنے حوالے سے اکثر اوقات کافی کلھی گفتگو کیا کرتی تھیں جو کہ کپتان تک بھی پہنچی تھی لیکن بشریٰ بی بی کے حوالے سے کی گئی گفتگو ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔
لیکن کپتان کے ناقدین یہ سوال کرتے ہیں کہ جب ریحام خان نے عظمی کاردار اور عندلیب عباس کے حوالے سے اپنی کتاب میں قبیح قسم کے الزامات لگا دیے تھے تو پھر ان دونوں کو قومی اور صوبائی اسمبلی کا ممبر بنوانے کے علاوہ پارٹی میں عہدے دینے کی تک کیا تھی؟ یاد رہے کہ عندلیب عباس مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پارلیمانی سیکرٹری برائے خارجہ امور کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ عظمیٰ کاردار خواتین کی مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی کا حصہ ہیں اور خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کے حوالے سے تشکیل دی جانے والی خصوصی کمیٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں۔
ریحام خان نے اپنے سابق شوہر عمران خان کے متعدد جنسی واقعات اپنی کتاب میں تحریر کیے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ عمران کے موبائل پر پیغامات پڑھے جن میں عندلیب عباس اور عظمیٰ کاردار کی جانب سے جنسی تعلق قائم کرنے کی آفرز کی گئی تھیں۔ ریحام نے عظمیٰ کاردار کے حوالے سے لکھا کہ وہ نہ صرف اپنی “مخصوص” تصاویر باقاعدگی کے ساتھ عمران خان کو بھجواتی تھی بلکہ جب بھی وہ عمران سے روبرو ہوتی تو انکی کوشش ہوتی کہ وہ ان کے سامنے کھڑی رہیں یا ان کے سامنے بیٹھ جائیں۔ ریحام نے لکھا کہ میری موجودگی میں بھی عظمیٰ اس بات کی پرواہ نہیں کرتی تھی اور عمران کے سامنے آنے کا راستہ بنالیتی تھی ۔ ریحام نے لکھا کہ عظمیٰ کاردار نے علیم خان کے گھر مجھے یہ وارننگ بھی دی کہ اب مجھے یہ سب برداشت کرنا ہوگا کیونکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گی‘۔
ریحام خان نے اپنی کتاب میں پی ٹی آئی کی خاتون رہنما عندلیب عباس پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے عمران خان کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ میری پاکستان چھوڑ کر برطانیہ کیلئے روانگی سے دو راتیں قبل میں نے عمران خان کے موبائل فون میں پی ٹی آئی کی مختلف خواتین کے ٹیکسٹ میسجز پڑھے۔ اس سے 2 منٹ قبل ہی عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں وہ لاہور نہیں جانا چاہتے لیکن میں نے انہیں تحریک دی کہ یہ صرف 2 دن کی ہی بات ہے اور آپ کو وقت گزرنے کا پتا بھی نہیں چلے گا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ اچھے طریقے سے انہیں لاہور آنے کیلئے پی ٹی آئی کی خواتین کی جانب سے تحریک دی جا رہی تھی‘۔ریحام خان نے لکھا ”میں نے عمران خان کے موبائل میں عندلیب عباس، جو کہ اس وقت پی ٹی آئی پنجاب کی صدر تھیں، کا میسج پڑھا ۔ عندلیب عباس نے لکھا ہوا تھا ’ آ بھی جاؤ ، میں تمہارے ساتھ بار بار غلط حرکت کروں گی۔ عظمیٰ کار دار اس سے بھی ایک قدم آگے تھیں، انہوں نے میسج میں لکھا ’ آپ اپنے جسم کو تسکین سے محروم کیوں رکھ رہے ہیں جبکہ آپ کی بیوی سے آپ کو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔ ریحام خان نے لکھا ’جب میں نے عمران خان سے ان پیغامات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عندلیب عباس ایک شرابی عورت ہے، ہوسکتا ہے کہ اس نے بوتل چڑھا کر یہ میسجز کیے ہوں ۔ جس کے بعد عمران خان سونے کیلئے بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے بھی سونے کا کہنا لیکن میری تو نیند اڑ چکی تھی۔ ریحام نے ان دونوں خواتین کا ذکر اپنی کتاب میں انتہائی منفی پیرائے میں کیا۔ تاہم جب عمران خان وزیراعظم بن کر اقتدار میں آئے تو ان دو عورتوں کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا ممبر بنایا گیا اور پارٹی میں عہدے بھی دیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button