کیا عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ سفاک اور انا پرست ہیں؟


وزیراعظم عمران خان کا کوئٹہ میں قتل ہونے والے ہزارہ افراد کی تدفین سے پہلے بلوچستان نہ جانا اور پھر دھرنے پر بیٹھے شہدا کے خاندانوں کو بلیک میلر قرار دینا شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے اور انکے اس رویے کو سفاکی اور انا پرستی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان بہت ساری قدریں مشترک ہیں لیکن ایک بات جو سب جانتے ہیں وہ یہ کہ دونوں انسانی حوالوں سے نہایت سنگدل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سفاکیت کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ میں ایک سیاہ فام امریکی کو پولیس نے قتل کیا اور اسنے اسکی۔مذمت تک نہ کی اور اس کا یہی موقف رہا کہ اگر سیاہ فام امریکی احتجاج کرتے ہیں تو کرتے رہیں، مجھے کیا۔ اسی طرح اگر عمران خان کی بے حسی اور بے رُخی کو ملاحظہ کرنا ہو تو کوئٹہ میں دھرنا دینے والے ہزارہ کے مظلومین سے متعلق ان کا رویہ دیکھ لیجیے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ مچھ میں ذبح ہو جانے والے 10 مزدوروں کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں لیے 5 روز کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے لیکن عمران خان ان کے پاس جانے سے انکاری رہے اور ان کا اصرار بڑھا تو خان صاحب نے انہیں بلیک میلر قرار دے دیا حالانکہ سچ یہ ہے کہ یہ لوگ حکومت کے مخالف بھی نہیں اور ان کی نمائندہ جماعت بلوچستان حکومت کا حصہ ہے۔ گلگت میں بھی ان کی حامی جماعت عمران خان کی پارٹی کے ساتھ ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ ہزارہ مظلومین کے قائد نے قرآن پاک سر پر رکھ کر عمران خان سے آنے کا مطالبہ کیا لیکن ان کی بے حسی ملاحظہ کیجئے کہ وہ ترک فنکاروں سے ملاقاتیں کر کے ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہے لیکن کوئٹہ جانے سے گریزاں رہے۔ کپتان چار دن اپنے ترجمانوں سے کہلواتے رہے کہ سیکورٹی کلیئرنس نہیں ہے لیکن جب مریم نواز، بلاول بھٹو، سراج الحق اور غفور حیدری وغیرہ کوئٹہ چلے گئے اور انکا بہانہ بے نقاب ہو گیا تو اپنے دل کی بات زبان پر لے آئے اور مظلومین پر بلیک میل کرنے کا الزام لگا دیا۔ لیکن بالآخر عمران خان نے اپنی ہی منوائی اور ہزارہ کے مظلومین سے اپنے اس مطالبے کو منوایا کہ پہلے وہ لاشوں کی تدفین کریں، پھر وہ کوئٹہ آئیں گے۔
خان صاحب نے ایک ہی موقف اپنائے رکھا کہ وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ اب خدا بہتر جانتا ہے کہ بلیک میل وزیراعظم نے کیا یا ہزارہ والوں نے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ بے حسی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا عمران خان کا رویہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ نہ تو انہیں ریاست مدینہ کا شعور ہے اور نہ ہی ایسی ریاست بنانے کا کوئی ارادہ ہے کیونکہ ریاست مدینہ کے حاکم تو دریائے فرأت کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کے لئے بھی خوف کو ذمہ دار قرار دیتے تھے۔ صسفی یاد دلاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے پرانے پاکستان میں جب گزارہ والوں نے ایسا دھرنا دیا تھا تو نہ صرف اسوقت کے وزیراعظم ان کے پاس گئے تھے بلکہ ان کی خاطر پیپلز پارٹی نے اپنے وزیر اعلیٰ نواب اسلم ریئسانی کی حکومت ختم کر کے گورنر راج لگا دیا تھا۔ صافی کے مطابق مسلم لیگ ق ہو یا کوئی اور اتحادی، جب وہ خان صاحب کو بلیک میل کرتے ہیں تو وہ ان کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں لیکن انکو بلیک میلر مظلومین نظر آتے ہیں؟ انکا۔کہنا تھا کہ خان صاحب اگر ان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو انہیں بلیک میلر کہہ کر ان کے زخموں پر نمک پاشی تو نہ کریں۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل کو چاہیے کہ عمران خان کو سمجھائیں کہ انا پرستی اور بے حسی کا انجام بہت برا ہوتا ہے اور خان صاحب اس رویے کے ساتھ چلتے رہے تو ایک دن ان کو بھگتنا پڑے گا۔
ٹرمپ اور عمران کی شخصیات کا موازنہ کرتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ ٹرمپ ایک امریکی نیشنلسٹ بننے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ عمران ریاست مدینہ کا نام لے کر عالم اسلام اور مسلمانوں کا ہیرو بننے کی بھونڈی کوشش میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ اپنی دولت کے سہارے سیاست میں وارد ہوئے اور اپنی دولت کے زور پر اقتدار تک پہنچے، جبکہ عمران خان کرکٹ کی بنیاد پر سیاست میں داخل ہوئے اور اپنا پیسہ خرچ کرنے کی بجائے جہانگیر ترین وغیرہ کے مال غنیمت سے سیاست میں آگے بڑھتے رہے۔
اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ سٹیٹس کو کی طاقتوں کو چیلنج کر کے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں کے بغیر اقتدار میں آئے جبکہ عمران کی سیاست اور اقتدار دونوں اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت ہیں،  اس لیے اس حوالے سے عمران اور ٹرمپ میں کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔
البتہ سلیم صافی کے نزدیک ٹرمپ اور عمران میں کچھ سیاسی مماثلتیں ضرور ہیں، مثلاً ٹرمپ بھی اسٹیٹس کو توڑ کر نیا امریکا بنانا چاہ رہے تھے اور عمران خان کا نعرہ بھی نیا پاکستان ہے، ٹرمپ بھی یوٹرن لینے کے ماہر ہیں اور عمران خان بھی۔ ٹرمپ بھی اپنی خوبیوں کے بجائے مخالفین کی خامیوں کے تذکرے کی بنیاد پر حکومت کررہے تھے اور عمران خان بھی ایسا کررہے ہیں، ٹرمپ نے بھی ماضی کے امریکی صدور کی روایات توڑ یں اور عمران خان نے بھی۔ مثلاً ماضی کے صدور موبائل فون استعمال نہیں کرتے تھے لیکن ٹرمپ نے استعمال کرنا شروع کیا‘ یہی کام عمران بھی کر رہے ہیں بلکہ عمران تو غیرملکی سربراہان سے بات کرتے ہوئے بھی ریسیور کان سے لگاتے ہیں اور اسٹاف کی نوٹ ٹیکنگ کیلئے سپیکر آن نہیں رکھتے۔ اسی طرح ٹرمپ بھی ٹویٹر بے تحاشہ استعمال کرتے ہیں اور عمران خان بھی اسی کے ذریعے حکومت چلاتے ہیں۔
ٹرمپ بھی اپنی غلطی ماننے کی بجائے آئے روز وزیر مشیر تبدیل کرتے رہے اور عمران خان بھی وزیروں اور مشیروں کو بار بار تبدیل کرنے کو تبدیلی سمجھتے ہیں۔
لیکن سلیم صافی کے خیال میں دو بنیادی تباہ کن مشترکات یہ ہیں کہ صدر ٹرمپ نے امریکی روایات کو ہلا کے رکھ دیا جبکہ عمران نے پاکستان کی مشرقی روایات کو ہلا کے رکھ دیا۔ ٹرمپ کی شخصیت کے ان پہلوئوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی واحد فرسٹ ورلڈ سپر پاور اور جمہوریت کی علامت امریکی کانگرس کی عمارت پر حملے اور چار ہلاکتوں کے بعد دنیا میں ایک تماشہ بن گیا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے پارلیمنٹ پر جس طرح حملہ کیا، اس نے امریکی جمہوریت کے چہرے پر کالک مل دی۔ خود ٹرمپ کی جماعت کے سابق صدر بش اور سینیٹ اور کانگریس کے ارکان ٹرمپ کے خلاف کھڑ ے ہوگئے کیونکہ وہاں خوشامد کا وہ کلچر نہیں جو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے۔
چونکہ امریکہ میں ادارے مضبوط ہیں چنانچہ وہاں معاملات مذید بڑھنے سے بچ گے۔ لیکن پاکستان میں تو نہ جمہوری ادارے مضبوط ہیں، نہ حکمران پارٹی کے اندر کوئی خان صاحب کے سامنے زبان کھول سکتا ہے۔ ہماری فالٹ لائنز پہلے سے بھی گہری ہیں‘ یہ بھی ضروری نہیں کہ عمران کے بعد پاکستان میں کوئی جوبائیڈن جیسا سمجھدار سیاستدان حکمران بنے۔ اس لئے میں حیران اور پریشان ہوں کہ ہماری سوسائٹی میں کپتان اعر اسکے حامیوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرتوں اور پولرائزیشن کا کیا انجام ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button