کیا عمران خان کا جھٹکا ہونے جا رہا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کے سابقہ دست راست اوررازدان جہانگیر خان ترین کی جانب سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں باقاعدہ علیحدہ پارلیمانی دھڑے تشکیل دینے سے پاکستانی سیاست میں دوبارہ ہلچل مچ گئی ہے اور سازشی نظریہ رکھنے والے اب بڑے اعتماد سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ کپتان حکومت اگلا بجٹ پاس نہیں کروا پائے گی اور اپنے محسن کو اچانک فارغ کرنے کا تازہ منصوبہ بنانے والے کو خود گھر جانا پڑ جائے گا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے حکومتی حلقوں میں ایسی افواہیں بھی گرم ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور انہیں اقتدار میں لانے والی شخصیات کے مابین اختلافات عروج پر پہنچ چکے ہیں اور ترین کے ذمے کپتان کی چھٹی کروانے کا ٹاسک لگا دیا گیا ہے۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ عمران خود کو ہٹائے جانے سے پہلے ہی ایک غیر سیاسی طاقتور شخصیت کو عہدے سے ہٹا کر اسمبلیاں توڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کا میڈیا پر اچھالا جانا اور ترین کی جانب سے سے علیحدہ پارلیمانی دھڑا تشکیل دینا عمران کے ان خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ ان کو فارغ کرنے کی منصوبہ بندی شروع ہو چکی ہے اور ان کے خلاف اگلے بجٹ سے پہلے ہی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ تاہم غیر سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کی ذمہ داری خود عمران پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ہر بات پر ضدی بچے کی طرح اپنے محسنوں کے ساتھ سینگ پھنسانا شروع کر رکھے ہیں۔ ان کے مطابق کپتان اور انکے لانے والوں کے باہمی اختلافات میں شدت شہباز شریف کو لندن جانے سے روکنے پر آئی جس میں اب گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ شاید عمران کوئی ایسا جذباتی فیصلہ کرلیں جس کے نتیجے میں ماضی میں میں ایک وزیر اعظم کو نہ صرف اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے بلکہ جیل بھی جانا پڑ گیا تھا۔
ان تمام افواہوں کے درمیان حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم سیاسی اعلان ترین کی جانب سے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں کیا گیا۔ترین گروپ نے راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے جبکہ سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں اس کی قیادت کریں گے۔ اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے 19 مئی کے روز لاہور میں ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا جن میں ‘جہانگیر ترین گروپ’ تشکیل دینے کی بات کی گئی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ یہ گروپ تو آج سے کئی ماہ پہلے تشکیل پایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم پہپے بھی پی ٹی آئی کا حصہ تھے، ہیں اور انشااللہ رہیں گے’۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترین نے ایک سیاسی بیان دیا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ فارورڈ بلاک ہمیشہ اپنی جماعت کا حصہ رہتا ہے۔ انکا کہنا یے کے قومی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے دھڑے کے پارلیمانی لیڈرز مقرر کرکے ترین نے دراصل چالاکی کی ہے اور عمران خان کے سر پر فراغت کی تلوار لٹکا دی ہے۔ یاد رہے کہ عمران کی مرکز اور پنجاب کی حکومتیں بہت ہی کم ووٹوں کی اکثریت سے کھڑی ہیں اور اگر ترین کھڑا ہو جائے تو دونوں حکومتیں دھڑام سے گر پڑیں گے۔ ترین کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ عمران خان اگلے بجٹ کی منظوری تک ترین کا معاملہ لٹکا کر رکھیں گے اور بجٹ پاس کروانے کے بعد ان کے خلاف کارروائی تیز کر دی جائے گی چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ بلیک میل ہونے کی بجائے بلیک میل کیا جائے۔
ترین ہم خیال گروپ کے رکن اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر عبدالحیئی دستی نے تصدیق کی ہے کہ ’تحریک انصاف کے چند صوبائی و قومی رکن اسمبلی نے پارٹی میں جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ بنا لیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی میں یہ ہم خیال اراکین کا گروپ اس وقت ہی بن گیا تھا جب جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ آغاز میں تو اس گروپ کے قیام کا کوئی پلان نہیں تھا لیکن جیسے جیسے ہم خیال دوست اکٹھے ہوتے گئے یہ گروپ بنتا گیا۔ اس ہم خیال پارلیمانی گروپ کے وفاق میں لیڈر رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں اس کی نمائندگی سعید اکبر نوانی کریں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ترین ہم خیال گروپ میں 30 سے زیادہ اراکین شامل ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی کے بہت سے اراکین کے یہ تحفظات تھے کہ جب سے وہ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کی عدالتی پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جانے لگے ہیں تب سے ہمیں ہمارے حلقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
عبدالحیئی دستی کا مزید کہنا تھا کہ ’18 مئی کی شب ماڈل ٹاؤن لاہور میں جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ طے ہوا ہے کہ اب ہمیں بطور ایک ہم خیال گروہ آگے چلنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دیکھنا چاہیے۔‘جب پوچھا گیا کہ کیا جہانگیر ترین ہم خیال پارلیمانی گروپ کے قیام کو تحریک انصاف کے اندر سیاسی ٹوٹ پھوٹ قرار دیا جا سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس گروپ کی تشکیل کو ٹوٹ پھوٹ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ہم تمام اراکین ترین کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ایف آئی اے میں انکوائری کو صاف اور شفاف بنایا جائے۔ لیکن افسوس کہ جب سے ہم نے اس موقف کی تائید کی ہے، ہمیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ پارٹی کے اندر سے ایک گروپ تشکیل پایا ہے تاہم ہم میں سے کسی نے پارٹی کو نہیں چھوڑا۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے ایکدوسرے کا خیال کریں۔‘
یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ جب عبدالحئی دستی سے پوچھا گیا کہ ایک رکن اسمبلی تو اپنے حلقے کا نمائندہ ہوتا ہے اس کو کیسے اور کون نشانہ بنا رہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بہت سے اراکین کے حلقے میں تعینات ہم خیال افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں، ان کو حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے اور ان کے دوست احباب کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات بھی بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ صرف ترین کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس چند ایسے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی بھی ہیں جنھیں فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات سے بھی نوازا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید وفاق کی جانب سے صوبوں کو یہ ہدایات کی گئیں ہیں کہ ہمیں نشانہ بنایا جائے۔ عبدالحیئ دستی کا کہنا تھا کہ اس گروپ میں شامل زیادہ تر اراکین وہ ہیں جو آزاد حیثیت سے انتخاب لڑے تھے اور انھوں نے ترین کے ذریعے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات میں بہتری نہ آئی تو ترین گروپ کو باقاعدہ فاروڈ بلاک کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین نے ان تمام میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا جس میں ‘جہانگیر ترین گروپ’ تشکیل دینے کی بات کی گئی۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم پی ٹی آئی کا حصہ تھے، ہیں اور انشااللہ رہیں گے اور میرا گروپ تو کئی مہینے پہلے تشکیل پا گیا تھا ۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ اصل میں دو مسائل ہیں، پہلا مسئلہ جہانگیر اور ایف آئی اے کا ہے، جس میں میرے ساتھ میرے تمام دوست کھڑے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ جب میرے دوست وزیر اعظم عمران خان سے ملے تو وہ خوش دلی سے ملے اور علی ظفر کو معاملے کی انکوائری کے لیے نامزد کیا۔ تاہم ابھی نتیجے کا انتظار یے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے جس معاملے پر بھی سوال اٹھایا تھا ہم نے انہیں تمام دستاویزات حوالے کردیں ہیں یعنی تمام منی ٹریل فراہم کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی ظفر کی رپورٹ جلد منظر عام پر آجائے گی۔
لیکن جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کیساتھ دوسرا مسئلہ شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا جب عمران خان نے اعلان کر دیا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی اور انصاف ملے گا تو مجھے ان پر پورا یقین تھا۔ میرا خیال تھا کہ عمران خان انصاف پسند انسان ہیں اور انصاف کے تقاضے پورا کریں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہوا یہ کہ پنجاب حکومت نے میرے ساتھیوں کے ساتھ انتقامی کارروائیاں شروع کردیں۔
اس دباؤ کے پیش نظر میرے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پنجاب میں آواز اٹھائیں گے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ اس ذیادتی کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر آتی ہے اور یہ بالکل غلط رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یاد رکھیں یہ گروپ کل نہیں بنا بلکہ تین مہینے پہلے بنا تھا، یہ تاثر غلط ہے کہ یہ گروپ کل بنا ہے’۔ ترین کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پالیسی کے خلاف میرے ساتھیوں پر ڈباؤ ڈالا جارہا ہے اور صوبائی اسمبلی میں اس دباؤ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ ہم ایک رکن صوبائی اسمبلی کو نامزد کرتے تاکہ وہ رہنمائی کریں’۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ اتنی سے بات تھی لیکن میڈیا نے اسے ‘فارورڈبلاگ’ قرار دے دیا۔ انہوں نے پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ انتقامی کارروائی سے باز رہیں کیونکہ وہ جن اراکین صوبائی اسمبلی پر دباؤ ڈال رہے ہیں دراصل وہ ہی آپ کی حکومت کا حصہ ہیں اور ان ہی کی وجہ سے آپ کی حکومت کھڑی ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جہانگیر ترین کپتان کی کھڑی حکومت کو بٹھانے کے لئے کوئی کاروائی کرتے ہیں یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button