کیا عمران خان کا راسپوٹین کے ساتھ موازنہ جائز ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی بیہودہ ترین جنسی گفتگو پر مبنی آڈیوز لیک ہونے کے بعد انکے سیاسی مخالفین ان کا موازنہ گریگوری راسپوٹین کیساتھ کرتے دکھائی دیتے ہیں جو کہ روسی تاریخ کا ایک مشہور کردار رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ موازنہ کرنا جائز ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ راسپوٹین کی زندگی کے بارے میں جانا جائے۔
راسپوٹین روس میں پیدا ہوا، اسکے پیروکار اس ولی قرار دیتے تھے، لیکن درحقیقت وہ ایک شیطان صفت انسان تھا جو جنسی ہوس کا مارا ہوا تھا اور اس کے ہاتھوں روس کی عظیم الشان سلطنت برباد ہوئی۔ اس کی گناہوں بھری ذاتی زندگی اس قدر حیران کن ہے کہ اس پر کسی خیالی افسانے کا گمان ہوتا ہے۔ اسے گناہوں کی تبلیغ کرنے والا شیطان بھی کہا جاتا تھا اور روحانی پیر بھی مانا جاتا تھا۔ راسپوٹین کہتا تھا کہ میرے ایک ہاتھ میں کلیسا اور دوسرے ہاتھ میں روس کی حکومت ہے۔ وہ دنیا بھر میں جنسی بے راہروی کی علامت بن گیا تھا اور اسی لیے بے راہروی کی تاریخ اس طلسمی شخصیت کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
راسپوٹین ایک اجڈ اور جاہل دیہاتی تھا۔ انتہا درجے کی عیاری، مکاری، عیاشی اور اوباشی اس کی سرشت میں شامل تھی۔ شاید خالق ازلی نے اس کی ترکیب ہستی میں دیگر صفات کے علاوہ جنسی وحشت کا جوہر بھی رکھ چھوڑا تھا۔ اس کی اسی جنسی وحشت نے بعد ازاں ایسے گل کھلائے کہ شرم و حیا اور انسانیت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا۔ وہ اتنا غلیظ تھا کہ تازہ ہوا اس کے جسم سے ٹکرا کر بدبو بن جاتی تھی۔ چرب زبانی تو جیسے اسے گھٹی میں ملی تھی۔ جب وہ بولتا تھا تو مخاطبین اور معترضین کو محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ان کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں۔ راسپوٹین کی شخیصت کے تمام منفی اور قابلِ نفرت پہلوؤں کے باوجود اس کے عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ راسپوٹین خدا کا سچا ولی اور حامل روح اقدس ہے۔ مخالف اُسے انسان کے روپ میں شیطان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ عیاش اور بد کار خدا کا ولی کیسے ہو سکتا ہے۔
گریگوری راسپوٹین انتہائی عجیب، پراسرار، طاقتور اور بااثر روسی کردار تھا جو سائبریا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوا۔ راسپوٹین کے ساتھ بچپن سے ہی عجیب و غریب کہانیاں وابستہ ہو گئیں اور اس کی روحانی قوت کے چرچے عام ہو گئے۔ اس کو زیادہ شہرت تب ملی جب اسنے اپنے باپ کے چوری ہونیوالے گھوڑے کے چور کا نام اور مقام بتا دیا اور وہ چور پکڑا بھی گیا۔ لیکن وہ کہتے ہیں ناکہ اقتدار کے ایوانوں میں امن و شانتی سے رہنا کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ یہی کچھ راسپوٹین کیساتھ ہوا اور وہ زار روس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے متنازعہ شخصیت بن گیا، بالخصوص سینٹ پیٹرز برگ کے طبقہ اشرافیہ کیلئے اس کی شخصیت ناقابل قبول بن گئی۔ چرچ کی طرف سے اس کی حرکات اور عادات پر کئی اعتراضات اٹھائے گئے مگر راسپوٹین متنازعہ ہونے کے باوجود روسی ریاست اور عوام کے ایک طبقے کا منظور نظر رہا۔
جب راسپوٹین ریاست کے لیے بھی خطرہ بن گیا تو اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر ادے قتل کرنا آسان نہ تھا۔ 16 دسمبر 1916ء کی رات کو شہزادہ فیلیکس نے راسپوٹین کو اپنے محل میں دعوت پر بلایا جسکا اہتمام محل کے تہہ خانہ کے ایک کمرے میں کیا گیا۔ راسپوٹین کھانے کی میز پر بیٹھ گیا جبکہ فیلیکس فوجی وردی میں ملبوس اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ دعوت میں پیش کی جانے والی شراب اور کیک میں بڑی مقدار میں ساینائیڈ زہر ملایا گیا تھا جو تقریباً 7 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے کافی تھا۔ مگر راسپوٹین نہ صرف سارا کیک کھا گیا بلکہ شراب بھی پی گیا اور مرنے کی بجائے کرسی پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے فیلیکس سے باتیں کرنے کگا جس نے اسے بوکھلا کر رکھ دیا۔ شہزادہ فیلیکس نے راسپوٹین پر پسٹل سے فائر کھول دیا، وہ زمین پر گر گیا۔ کچھ دیر بعد جب فیلیکس نے جاننے کی کوشش کی کہ آیا راسپوٹین مر چکا ہے یا نہیں تو اس نے آنکھیں کھول کر فیلیکس کو گریبان سے پکڑ لیا اور گالیاں دینا شروع کر دیں۔ فیلیکس نے بمشکل خود کو چھڑایا اور محل کے اندر بھاگ گیا۔ اس دوران راسپوٹین زخمی حالت میں تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھ کر لنگڑاتا ہوا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ لیکن فیلیکس اور اس کے ساتھیوں نے راسپوٹین کا پیچھا کرکے اس پر مزید گولیاں چلائیں۔ اسکے بعد انہوں نے راسپوٹین کو ایک بستر میں لپیٹ کر ساتھ پتھر باندھے اور اسے دریائے میکا میں پھینک دیا۔ راسپوٹین کی لاش دریا سے چار روز بعد نکالی گئی لیکن پوسٹمارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ نہ تو زہر تھی اور نہ ہی گولیوں کے زخم، بلکہ پتہ چلا کہ وہ ڈوبنے سے مرا تھا۔ یوں یہ پر اسرار کردار مرتے وقت بھی دینا کو حیران و پریشان کر گیا۔
