کیا عمران کی جماعت انکے خلاف بغاوت کی تیاری میں ہے؟


نواز شریف کی جلد واپسی کے اعلان کے بعد بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اب تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی نے بھی کھل کر حکومتی پرفارمنس بارے اپنے تحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے جس سے لگتا ہے کہ کپتان کے اقتدار کی ناو اب ڈوبنے والی ہے۔ اس حوالے سے رہی سہی کسر وزیراعظم عمران خان نے تب پوری کر دی جب انہوں نے خود پوری قوم کو آگاہ کر دیا کہ ایک سازش کے تحت نواز شریف کی نااہلی ختم کروانے کے لیے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
پارلیمانی جمہوریت میں ایک ہی جماعت کے اندر اختلافی قسم کی آوازیں ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ اسے جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے۔ امریکہ میں تو یہ عام سی بات ہے کہ پارٹی اراکین پارٹی صدر کے رائے سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور پالیسیوں پر تنقید بھی۔ وہاں جماعتوں کے لیڈران خود بھی جمہوری انداز میں پارٹی کے اندر الیکشن لڑ کر منتخب ہوتے ہیں اور اس کے لئے ایک دوسرے کی پالیسیوں اور مختلف مسائل سے جھوجھنے کے طریقہ کار پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ اور پھر جو ہار جاتا ہے، وہ جیتنے والے کی حمایت بھی کرتا ہے، کبھی خوش دلی سے، کبھی نیم دلی سے۔
لیکن پاکستان یا بھارت جیسی ‘کمزور’ جمہوریتوں میں ایسا عموماً دیکھنے میں تبھی آتا ہے جب کوئی دھڑا یا شخص پارٹی سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر بیٹھا ہو۔
اس معاملے پر نیا دور سے وابستہ سینئر صحافی علی وارثی تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ق کے آخری چند ہفتوں کی حکومت ہو، 2013 کے اوائل میں پیپلز پارٹی اراکین ہوں یا پھر ماضی کی حکومتوں میں متعدد مواقع پر پارٹیوں میں ٹوٹ بھوٹ کا عمل، ہر بار حکومت کے جانے کے دنوں میں اس کے اپنے ہی اراکین اس کے خلاف تقاریر کرنے لگتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں اس قسم کی آوازیں اٹھتی ہوئی نظر آئی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خان صاحب کے خلاف پارٹی کے اندر سے بغاوت کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان باغیوں میں سرِ فہرست این اے 1 پشاور سے پارٹی کے ایم این اے نور عالم خان کی آواز ہے جنہوں نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن ہارنے پر پارٹی کی کارکردگی کو اس کی وجہ قرار دیا اور کرپشن سے پاک خیبر پختونخوا کے بیانیے میں بھی پنکچر کرتے نظر آئے جب انہوں نے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا کہ میری اپنی زمینوں پر جعلی کاغذات بنا کر قبضے کیے جا رہے ہیں، عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں، میں کیسے مان لوں کہ کرپشن ختم ہو گئی؟
بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد نور عالم خان نے ٹی وی چینلز پر پارٹی کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذات پر تو تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے اپنے رشتہ دار کی حمایت کی لیکن دوسرے بے شمار علاقوں سے جو پارٹی لیڈرن کے رشتہ داروں کو ٹکٹیں دی گئیں اور وہ ہارے، اس کی ذمہ داری بھی کیا مجھ پر ڈالیں گے؟ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے مہنگائی اور بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنک کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ میں یہاں MNA ہوں، میری زمینیں جعلی کاغذات پر ٹرانسفر ہوتی ہیں، اسی خیبر پختونخوا میں، اسی پشاور میں۔ کہاں ہے وہ گڈ گورننس جس کے دعوے کیے جاتے ہیں؟ عمران خان کے ارد گرد جو لوگ ہیں وہ انہیں سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔ سب سے پہلے انہیں اپنے ارد گرد جو کرپٹ لوگ ہیں، انہیں ہٹانا چاہیے۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ یہ بندا جب میرے ساتھ آیا تھا تب اس کے پاس کتنے پیسے تھے اور اب اس نے کتنی جائیداد بنا لی ہے۔ لیکن اگر آپ آنکھیں بند کریں گے اور سوچیں گے کہ کوئی بات نہیں، ایسے ہی چلتا رہے تو ایسے نہیں چلتا۔ کوئی بھی پارٹی عوام کے ساتھ دھوکہ کرے گی تو ایک نہیں، دو سہی لیکن بالآخر اسے اٹھا کر عوام باہر پھینک دیں گے۔
نور عالم خان نے اپنی ہی جماعت کی حکومت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج کرپشن کہاں نہیں ہے؟ ہر جگہ کرپشن ہے۔ میں ثبوت کے ساتھ بات کرتا ہوں۔ میری پارٹی ہے لیکن میں عوامی نمائندہ ہوں۔ لوگ گاڑی سے لینڈ کروزر اور لینڈ کروزر سے جہاز پر کیسے پہنچے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ورکرز نے ان کو ووٹ دیا لیکن جو سوئنگ ووٹ ہوتا ہے وہ آپ کارکردگی نہ دکھائیں تو وہ دوسری طرف چلا جاتا ہے۔ وہ اب بھی چلا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں آٹا، گھی سستا کریں گے، بجلی مہنگی نہیں کریں گے، گیس ہوگی تو ووٹ ملے گا۔ لیکن آٹے کی لائنوں میں لگنا پڑے گا تو لوگ ہمیں یہی کہتے ہیں کہ جی ووٹ دے دیں مگر ہمارا آٹا، گیس، بجلی تو پورا کریں نا۔ مزدور آدمی روز جا کر مزدوری کرے گا یا آٹے کی لائنوں میں لگے گا؟ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ لوگوں نے تحریکِ انصاف کو دو مرتبہ ووٹ تو دیا ہے نا، اب کیا ہو گیا ہے؟ اس پر بھی نور عالم کا کہنا تھا کہ آپ ایک دفعہ لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں، دو مرتبہ بنا سکتے ہیں، تیسری مرتبہ وہ آپ کو مسترد کر دیں گے جیسا کہ خیبرپختونخوا میں ہوا ہے۔
اسی طرح میجر (ر) طاہر صادق خان پنجاب کے ان سیاستدانوں میں سے ہیں جنہیں آپ مرغِ باد نما کہہ سکتے ہیں کیونکہ ان کی چال کو دیکھ کر بندا سمجھ سکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کس طرف جا رہی ہے۔ جنرل مشرف دور میں یہ اٹک کے ضلع ناظم رہے۔ اتنے تگڑے تھے کہ 2008 میں انہوں نے اپنے حلقے سے چودھری پرویز الٰہی کو لڑوایا اور جتوایا۔ 2013 میں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی تو یہ آزاد لڑے اور 2018 میں ظاہر ہے کہ یہ پاکستان تحریکِ انصاف کی ٹکٹ پر لڑ کر الیکشن جیتے۔ میجر طاہر صادق نے بھی سماء نیوز پر ندیم ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی ہی حکومت کو چارج شیٹ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وزرا اور مشیران سرٹیفائیڈ نااہل ہیں۔ خان صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں، وہ حقیقتاً چاہتے ہیں کہ ملک میں بہتری آئے لیکن انکی جو ٹیم ہے وہ سرٹیفائیڈ نااہل لوگوں پر مشتمل ہے، خان صاحب کے اردو گرد موجود سب ہی لوگ بڑے پائے کے نااہل ہیں۔ جب آپ اس ٹیم کے ساتھ جائیں گے تو کیا خاک ڈلیور کریں گے؟
اس سے پہلے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور بھی اپنی حکومت کی ناقص پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرچکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا دیا ہے۔ اسی طرح حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایم این اے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی ایک ویڈیو وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اگر کپتان حکومت طالبان کے ساتھ بات چیت کر سکتی ہے تو الطاف حسین کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسی ہی اختلافی گفتگو عمران کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور قاف لیگ نے بھی شروع کر رکھی ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی آڑ میں اپنی ہی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔ لہذا اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خان صاحب کے اقتدار کے دن پورے ہونے والے ہیں۔

Back to top button