کیا متحدہ MQM اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائے گی؟

مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ بن جانے والی ایم کیو ایم کے متحارب دھڑوں نے ایک بار پھر اپنی خالق اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ایم کیو ایم کے بینر تلے متحد ہونے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا مہاجر پارٹی اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ ایم کیو ایم کے لئے سب سے بڑا چیلنج متحارب دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا رکھنے کا ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اگر پھر سے گھسے پٹے لسانی نعروں یا پرانے بیانیے پر الیکشنز لڑے گی تو اس کا مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا کیونکہ کراچی میں تمام قومیں آباد ہیں اور ایم کیو ایم کو دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام پانے کے لیے مہاجر نعروں سے بالاتر ہو کر قومی سیاست کرنا ہوگی۔

12 جنوری کو ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، پی ایس پی کے سربراہ مصطفٰی کمال اور تنظیم بحالی کمیٹی کے صدر فاروق ستار نے ایم کیو ایم کے دھڑوں اور پی ایس پی کے انضمام کا اعلان کیا۔  انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ تقسیم اور سازش کرنے والوں کو آج مایوسی ہوئی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’مشترکہ کاوشیں رنگ لائی ہیں۔ فاروق ستار نے ایم کیو ایم کو ’ری برانڈ‘ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ماضی کی چھاپ اُتاریں گے۔

ایک دوبارہ اصلاح شدہ ایم کیو ایم بنائیں گے۔‘ خیال رہے سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام کے حوالے سے  ہلچل اس وقت شروع ہوئی جب وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری کو سندھ کا گورنر مقرر کیا۔کامران ٹیسوری نے نہ صرف ایم کیو یم کے تمام دھڑوں کے رہنماؤں سے رابطے کیے بلکہ انہیں ایک چھت تلے ساتھ بٹھانے میں بھی کامیاب رہے۔انضمام سے ایک دن پہلے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے تحت صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سندھ میں حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں تمام دھڑوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم آفتاب نے اردو نیوز کو بتایا کہ تمام جماعتوں کے رہنماؤں پر باہمی اختلافات بُھلا کر ساتھ بیٹھنے کا عوامی دباؤ تھا کیونکہ ’پی پی پی اپنی وڈیرانہ ذہنیت سے باہر نہیں آ رہی۔

تحریک انصاف کی قیادت یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا بنیادی مقصد اگلے الیکشن میں عمران خان کی جماعت کو کراچی اور سے فارغ کرنا ہے۔ یاد ریے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو اپنے بانی رہنما الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد 2018 کے عام انتخابات میں عمران کی جماعت تحریک انصاف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایم کیو ایم پاکستان نے 22 اگست 2016 کو الطاف حسین کی فوج مخالف دھواں دھار تقریر کے بعد خود کو اپنے بانی سے الگ کر لیا تھا۔ کراچی میں تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ حکمرانی کرنے والی ایم کیو ایم الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد شہر میں 21 میں سے صرف 4 قومی اسمبلی کی سیٹیں جیت پائی تھی جبکہ پی ٹی آئی نے شہر سے 14 قومی اسمبلی کی نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی۔ شہری سندھ سے ایم کیو ایم نے صوبائی اسمبلی کی 15 جبکہ پی ٹی آئی نے 22 نشستیں جیتی تھیں۔ تب ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا تھا کہ عمران کی جماعت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کے ذریعے کراچی سے سیٹیں دلوائیں۔

کراچی کی شہری سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی ایک مضبوط جماعت ہوا کرتی تھی لیکن 2013 میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن اور پھر 2016 میں الطاف حسین کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم دھڑوں میں تقسیم ہوگئی جس سے پارٹی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا۔‘ایم کیو ایم کے دھڑوں کی قربت پر تبصرہ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ کچھ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کراچی میں کاؤنٹر کرنے کے لیے ایم کیوایم کے دھڑوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑے اکٹھے ہونے کے باوجود بھی اگست 2016 سے پہلے والی ایم کیو ایم دوبارہ بننا مشکل ہے۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ نئی مردم شماری کے بعد جو نئی حلقہ بندیاں کی گئی ہیں اس کے تحت کسی بھی لسانی تنظیم کا بڑی تعداد میں سیٹیں جیتنا ناممکن ہے اور پی ٹی آئی کی کراچی میں جیت ایسے ہی عمل میں آئی تھی۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات میں جیتنے کے چانسز اس جماعت کے زیادہ ہیں جس کی تمام زبانیں بولنے والی برادریوں میں مقبولیت ہو گی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ایک رہنما اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کو درپیش مسائل کی وجہ وہ تقسیم ہے جس کا شکار ایم کیو ایم کے دھڑے ہیں۔ تاہم وہ یہ بات ماننے پر راضی نہیں کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں سندھ کے شہری علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پی ٹی آئی کو 2018 میں کراچی سے موقع ملا لیکن انہوں نے شہر کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔

ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ایم کیو ایم اپنا کھویا ہوا مقام واپس پا سکتی ہے؟ سندھ کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کو متحد ہونے کے باوجود ایک نہیں بلکہ دو چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف پی پی پی ہے جو ایم کیو ایم کی کمزوری کو فائدہ اٹھا کر سندھ کے شہری علاقوں میں جگہ بنانا چاہتی ہے جب کہ دوسری جانب پی ٹی آئی جو 2018 کے انتخابات میں کراچی میں تقریباً ایم کیو ایم کا متبادل ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو متحد ہونے کے باوجود ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونا آسان نہیں ہو گا۔ انکا کہنا ہے ک پے در پے انتخابی ناکامیوں کے سبب ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں پر کارکنان کا دباؤ تھا کہ وہ اگر اب ایک نہ ہوئے تو شاید اگلے الیکشنز میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ نے بھی انہیں اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں عمران خان کی تحریک انصاف کو قومی اور صوبائی اسمبلی میں جو نشستیں دلوائیں تھیں، وہ واپس حاصل کی جا سکیں۔

Back to top button