کیا مہنگائی کے مارے عوام کو واقعی سکون قبر میں ملے گا؟

پاکستان میں پچھلے تین سالوں میں دن دگنی اور رات چوگنی ہونے والی مہنگائی نے متوسط طبقے اور کم آمدن والے خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ غریب کے لیے تو جینا ہی ناممکن ہو چکا ہے۔ صرف ایک سال میں ہی بیس لاکھ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آ گئے ہیں اور ملک کی چالیس فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہے۔
ملک کی آبادی کا نصف سے زائد حصہ جو پہلے ہی غربت کا شکار تھا اب مزید سنگین حالات کا شکار ہے اور اب ان میں سے زیادہ تر وزیراعظم عمران خان کے مشورے کے عین مطابق قبر میں اترنے کے منتظر ہیں تاکہ کم از کما وہاں تو سکون حاصل کر سکیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق گزشتہ ایک سال میں آٹے کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کوکنگ آئل کی قیمت اڑتیس فیصد بڑھی ہے۔ بجلی بائیس فیصد مہنگی جبکہ گیس سلنڈر کی قیمت میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اور پٹرول کی قیمت تو اب ہر دو ہفتے بعد پڑھائی جا رہی ہیں جس سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔
پہلے ایک سال بعد بجٹ آتا تھا مگر اب ہر مہینے منی بجٹ لایا جاتا ہے اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دور اقتدار کے دوران اب یہ ایک وطیرہ بن چکا ہے کہ پہلے بجلی مہنگی ہوتی ہے، پھر دو دن بعد پٹرول مہنگا ہو جاتا ہے۔ سبزی لینے جاؤ، دودھ، گھی یا گوشت لینے جاؤ، تو پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔ پہلے پاکستانی عوام نے آٹے دال کا بھاؤ بطور محاورہ سن رکھا تھا لیکن اب نہیں واقعی آٹے اور دال کا بھاؤ معلوم ہوگیا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر نے ملک کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے مگر متوسط طبقے اور کم آمدن والے خاندان سب سے زیادہ مشکل کا شکار نظر آتے ہیں۔ عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سال میں ہی بیس لاکھ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آ گئے ہیں۔ ملک کی چالیس فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہے۔
کورونا کی عالمی وبا کے دوران حالات بدتر ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق وبا کے دوران پاکستان میں کام کرنے والے افراد کی نصف تعداد کی نوکریاں ختم ہو گئیں یا ان کی آمدن کے ذرائع سکڑ گئے جبکہ اس کا سب سے بڑا دھچکا ان ہنرمند افراد کو لگا جو عارضی دیہاڑی کے طور پر کام کر رہے تھے۔ مہنگائی نے سب سے زیادہ عام آدمی کے دسترخوان کو متاثر کیا ہے۔ جو لوگ پہلے ہفتے میں دو دن گھر پر مرغی کا گوشت پکالیا کرتے تھے وہ بھی اب دالیں اور سبزیاں پکا کر گزارا کر رہے ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں عام خاندان اپنی آمدن کا نصف سے زیادہ حصہ کھانے پینے اور بجلی، گیس کے بلوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں اگر ایک متمول خاندان کی کل آمدن پچاس ہزار روپے ماہانہ تھی تو اشیائے خوردونوش اور بلوں کے بعد رہائش، تعلیم، علاج معالجے وغیرہ اور باقی تمام خرچوں کے لیے بمشکل بیس یا بائیس ہزار ہی بچتے تھے۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی نو فیصد کے سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اگر سرکاری اعداد و شمار کو درست مان بھی لیں تو پچاس ہزار کی آمدن تقریبا 40 ہزار کے برابر رہ جاتی ہے یعنی کھانے پینے اور بلوں کی ادائیگی کے بعد ایسے خاندان کے پاس سترہ سے اٹھارہ ہزار روپے بچتے ہیں تو اس رقم میں رہائش، تعلیم، علاج معالجہ کیسے ممکن ہے؟
دوسری جانب اکنامک ایڈوایزری کمیٹی کے رکن عابد سلہری کہتے ہیں کہ ’حکومت سوشل سیفٹی پروگرام احساس پروگرام کے تحت ٹارگٹڈ سبسڈی دینے جا رہی ہے۔ ان اشیا میں دال، گھی، کوکنگ آئل، چینی اور آٹا شامل ہیں۔‘ عابد سلہری کہتے ہیں کہ ’ڈیٹا ٹیکنالوجی کی مدد سے کم آمدن والے افراد، جو موٹر سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہوں، ان کو براہ راست کیش کی منتقلی یا خاص سبسڈی دی جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ پیٹرول کی قیمت کا ان پر اثر نہ ہو۔‘ تاہم عوام کو حکومت کے ایسے وعدوں پر اب بالکل بھی یقین نہیں رہا اور وہ مایوسی کا شکار ہوکر عمران خان کا یہی فقرہ دہراتے نظر آتے ہیں کہ اب ہمیں واقعی سکون قبر میں ہی ملے گا۔
