20 روز بعد بھی ڈی جی ISI کا نوٹیفکیشن کیوں نہ ہو پایا؟


انٹر سروسز انٹیلیجنس کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر پر فوجی قیادت اور وزیر اعظم کے مابین پیدا ہونے والا اختلاف 20 روز گزر جانے کے باوجود بھی حل نہیں ہو پایا۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور شیخ رشید کی جانب سے بار بار کی تاریخیں دیے جانے کے باوجود ابھی تک نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ وزیر اعظم کی جانب سے اپنائی جانے والی پراسرار خاموشی ہے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن روک کر عمران خان نے فوجی قیادت کو اپنی اتھارٹی دکھائی ہے، تاہم دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کی بطور پشاور کور کمانڈر تعیناتی میں ان کی اپنی مرضی بھی شامل تھی اور ایسا نہیں کہ فوجی قیادت نے انہیں ان کی مرضی کے خلاف ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر خوامنخواہ کا پھڈا ڈال کر فوجی قیادت اور حکومت کے ایک صفحے پر ہونے کا تاثر بھی ختم کردیا ہے جس کا سراسر نقصان ہے ان کی اپنی حکومت کو ہے۔ تاہم یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن روحانی وجوہات کی بنا پر نہیں کر رہے اور جیسے ہی سورج، چاند اور ستاروں کی چال موافق ہوتی نظر آئے گی، نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کر دیا جائے گا۔
تاہم وزیراعظم کے قریبی ذرائع اس طرح کی افواہوں کو سختی سے رد کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری ایک معمول کا معاملہ ہے اور یہ وزیر اعظم کا حق اور اختیار ہوتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اس عہدے کے لئے جو نام پیش کرے، اسے وزیر اعظم قبول کرے یا کوئی متبادل نام پیش کردے۔ انکا کہنا ہے کہ اس بار بھی یقیناً ایسا ہی ہو گا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس مرتبہ اس حساس معاملے کو جس طرح سوشل میڈیا پر اچھالا گیا اس پر بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ فوج کے ادارے سے تو تب تک کوئی بات باہر نہیں آسکتی جب تک فریقین کے اتفاق رائے کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف کے دستخط نہ ہوں اور اس کو حتمی شکل نہ دے دی جائے لیکن اس مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے کئی روز پہلے ہی نے چیف کا نام آنا شروع ہو گیا تھا جس وجہ سے بات کا بتنگڑ بن گیا۔
جب حکومتی ذرائع سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں اس معاملے کا حل کیا نکلے گا تو انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیاں تو بہت ہو رہی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ اختلاف رائے اس حد تک چلا جائے کہ ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد یہ معاملہ طے ہو جائے گا۔
حکومتی ذرائع نے بعض حلقوں کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ ٹی ایل پی یا اپوزیشن، حکومت اور فوج کے درمیان اس اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں یا راولپنڈی کے اشارے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کے لئے بلا شبہہ یہ ایک موقع ہے کہ وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھے سول ملٹری تعلقات میں بڑی دراڑ ڈالنے کی کوشش کریں یا اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ٹی ایل پی کے حوالے سے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج پر اسکے حوالے سے الزام لگتا رہتا ہے۔ مگر یہ سوچنے کی بات ہے کہ فوج کو اس کی ضرورت کیا ہے۔ فوجی بھی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں انتہاپسند گروپوں کو کچلنا چاہتی ہے تا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آ سکے۔
ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یہ سارا معاملہ تب خراب ہوا جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی فوجی قیادت سے خفیہ ملاقاتوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اس سے پہلے ڈی جی آئی ایس آئی کے نام پر وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ کے درمیان کافی حد تک مشاورت مکمل ہو چکی تھی۔ لیکن تنازعہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر سے زیادہ اپوزیشن اور فوج کے نمائندوں کے درمیان پس پردہ ملاقاتوں کی وجہ سے بنا، جس پر وزیر اعظم کو سخت اعتراض تھا۔ اس کے علاوہ انہیں اپوزیشن رہنماؤں کے مقدمات کے حوالے سے بھی اسٹیبلشمنٹ کے رویئے پر تحفظات تھے۔ اس لئے اختلاف کی وجہ تقرری سے زیادہ ان اپوزیشن رہنماؤں کے مقدمات کے سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ کا رویہ اور پس پردہ ملاقاتیں تھیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ سے حساس نوعیت کا مسئلہ رہا ہے۔ اور اس حوالے سے چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور اس بار بھی یہی ہو رہا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں ہوں یا تحریک لبیک، وہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان اس اختلاف سے فائدہ اٹھا کر فوج کی حمایت کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ سمجھ کر کہ حکومت دباؤ میں ہے، اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ممکن نہں ہو پائے گا۔ اور خبریں یہ بھی ہیں کہ جو کچھ طے ہوا ہے اور جو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے، اسی کے مطابق ہی تقرری ہو گی۔

Back to top button