پانی سر سے اوپر آگیا، کپتان حکومت بند گلی میں داخل

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ایک بند گلی میں داخل ہو رہی ہے۔ اب پانی سر سے اوپر آ گیا ہے۔ سونامی الٹ پڑی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ یہ کہاں گر کر تباہی مچاتی ہے؟
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں طلعت حسین کہتے ہیں کہ پچھلے تین برس کی ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کو ایک ایسا دیمک لگ گیا ہے جس نے اس کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ تمام تر قرضوں اور عوام کے خون سے لتھڑی کھاد ڈاکنے کے باوجود ملکی معیشت کی سبز شاخ نہیں پھوٹ پائی۔ مہنگائی عام ہے، نوکریاں غائب، تنخواہیں سکڑ کر مذاق بن گئیں ہیں۔ جو یہ کہتا ہے کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے اس کا سر شاید نیچے اور ٹانگیں اوپر ہیں۔
پاکستانی قوم وہ ٹیکس بھی دیتی ہے جو نہ واجب ہیں اور نہ قانونی۔ بجلی کا بل اٹھا کر دیکھ لیں، اگر اس پر یقین نہیں آتا تو یہ جان لیں کہ مہنگائی سب سے بڑا ٹیکس ہے اور خریدو فروخت پر لاگو ٹیکس سے بچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ یہ قوم مزید ٹیکس نہیں دے سکتی مگر اس کو ٹیکس کی چکی میں مزید پیسا جائے گا، کیوں کہ حکومت اپنے اخراجات پر قابو نہیں پا سکتی اور نہ آمدن بڑھانے کا اس کے پاس کوئی پلان ہے۔ دوست مدد کر کے تھک گئے ہیں۔ مزید مدد کی گنجائش نہیں ہے۔ طلعت کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان سے ایک ایک پائی کے بدلے ناک رگڑوا رہا ہے۔ شوکت ترین اپنی تمام تر عدم دلچسپی کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ خانہ پری والے مذاکرات کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف مدد کرے گا تو شرائط اتنی کڑی ہوں گیں کہ قوم خون کے آنسو روئے گی۔
دوسری جانب دہشت گردی دوبارہ سے سر اٹھا رہی ہے۔ ہر روز تین چار پاکستانی سپاہی اور محافظ اس جنگ میں جان سے جاتے ہیں۔ یہ تعداد درجنوں اور سینکڑوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں دوبارہ سے سڑکوں پر نکلیں ہوئی ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے پروپیگینڈا کے ذریعے جو دلکش اندرونی فلم بنائی گئی تھی، وہ بھی مسخ ہو چکی ہے۔ جس قوم کے بچوں کو والدین ممکنہ ہنگاموں کے پیش نظر دارالخلافہ کے سکولوں سے گھنٹوں پہلے چھٹی کروا کر اپنے گھروں کو واپس لے جائیں وہاں پر بیرونی سرمایہ کار کیوں کر اور کیسے آئے گا؟ یہ سب باتیں پالیسی بنانے والوں کو بھی پتہ ہیں۔ مگر چونکہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے لہذا انہوں نے بے پر کی اڑانی شروع کر دی ہیں۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک کے گورنر کا بیان کہ روپے کی گرتی ہوئی ساکھ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خوشخبری ہے اب ہر طرف بطور مذاق دہرایا جا رہا ہے۔ اندازہ کیجئیے کہ کس جوکر نما شخص کو کپتان نے سرحد پار سے بلا کر سٹیٹ بینک کا گورنر بنا دیا۔ یہ جاننا بھی دلچسپ ہو گا کہ باقر رضا نامی اس جوکر کی تنخواہ کتنی ہے اور آئی ایم ایف میں واپس جا کر نوکری کرنے پر اسے ڈالرز میں کتنی آمدنی ہو گی؟ بہرحال اسکا بیان ایک استعارہ ہے جو معیشت کو چلانے والوں کی بےبسی اور کمزور مہارت کو اختصار سے بیان کرتا ہے۔
بقول طلعت ہمارے خارجہ اور دفاعی محاذ بھی بنجر ہیں۔ مجال ہے کہ کہیں کوئی سبزہ اگا ہوا نظر آئے۔ سال بعد الیکشن سر پر ہوں گے۔ لیکن ترقیاتی فنڈز کا اجرا ممکن نہیں۔ جن کے خزانے خالی ہوں وہ سیاسی مجبوری کے تحت بھی پیسے نہیں لٹا سکتے۔ اب چند ماہ بعد انتخابات لڑنے والے وزیر اعظم ہاؤس کے در پر سوالی بن کر اکٹھے ہونا شروع ہوں گے تاکہ ان کو اپنے اپنے حلقوں میں کام کروانے کے لیے کچھ مدد مل سکے۔ مدد دینے سے قاصر وزیر اعظم اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ انتخابات لڑنے والے مقابلے کے دنوں میں بدلحاظ ہو جاتے ہیں۔ وہ اسی طرف کا رخ کریں گے جہاں سے ان کو انتخابی معرکے جیتنے کا امکان نظر آئے۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق نے مہنگائی پر جو حکومت مخالف بیانات دیے ہیں ان کو آپ نئی سیاسی فلم کا ٹریلر سمجھیں۔ اگر حکومت سے دانہ پانی نہیں ملے گا اور مرکز کی ناکامیاں مقامی سیاسی ہار جیت پر اثر انداز ہوں گیں تو ہر کوئی ہاتھ چھوڑ کر اپنی اپنی راہ لے گا۔
یہ تو ہوئی حالات کی مجبوری۔ مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے حکومت نے خود سر توڑ کوشش بھی کی ہے۔ اپنے مخالفین کے خلاف جتنی توانائیاں اس حکومت نے صرف کی ہیں اگر ان کا آدھا معاشی صورت حال کو مسلسل بحال کرنے میں صرف کیا جاتا تو آج کہنے سننے کو کچھ خوشگوار باتیں موجود ہوتیں۔ باقی وقت احتساب کی پینگ پر جھولتے ہوئے ضائع کر دیا۔
خارجہ و دفاعی امور پر اجلاسوں کی تفصیل کا ایک چارٹ بنا لیں اور شہزاد اکبر کے ساتھ ملاقاتوں کی فہرست مرتب کر لیں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وزیر اعظم ہاؤس کا جھکاؤ کس طرف رہا۔ مگر احتساب کی پٹاری میں سے کچھ نہیں نکلا، صرف شرمندگی کا سامنا ہی رہا۔
بقول طلعت حسین، براڈ شیٹ سکینڈل ہو یا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو گرانے کے لیے نام نہاد تحقیقات، شہباز شریف اور خاندان کے خلاف اثاثوں کے مقدمے اور برطانیہ میں تحقیقات ہوں یا اسحاق ڈار و نواز شریف کو ملک واپس لانے کے عزائم، سب کچھ ڈھیر ہو گیا۔ اربوں روپے ضائع کیے، ایک ٹکا حاصل نہ کیا۔ انکا کہنا ہے کہ میری معلومات کے مطابق مقتدر حلقے تقریباً ایک سال سے عمران خان حکومت کو احتسابی معرکوں سے بچنے کا مشورہ دے رہے ہیں مگر عثمان بزدار پر دیے گئے مشوروں کی طرح یہ سب بھی ہوا میں اڑا دیے گئے۔ ہر بار یہی جواب سننے کو ملا کہ ’میں ان کو نہیں چھوڑوں گا‘۔ اب حالت یہ ہے کہ حالات سے تنگ آ کر حکومت چھوڑنے یا جلد انتخابات کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ طلعت کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن پر تنازعے کو اصول پسندی کی مثال بنا کر عوام میں اپنی ساکھ کو بچانے کی تدابیر زیر غور ہیں۔ خود کو کچوکے لگا گر لہو لہان کیا اور اب شہادت کا رتبہ پانے کی جہدوجہد کرنا چاہ رہے ہیں۔ پچھلے تین سال اور موجودہ حالات چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ جب آپ تاریخ پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ناکامی مقدر بن جاتی ہے۔کہنے کو ابھی بھی تدبیر اور اصلاح کی گنجائش موجود ہے مگر حقیقت میں اب پانی سر سے اوپر آ گیا ہے۔ سونامی الٹ پڑی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس مرتبہ یہ کہاں گر کر تباہی مچاتی ہے۔
