پاکستانی صحافی عروسہ عالم کا نام بھارت میں کیوں گونجنے لگا؟

بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف کانگریس کی حکومت نے پاکستانی صحافی عروسہ عالم کی وجہ سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اور یہ جاننے کی کوشش شروع کر دی ہے کہ کیا عروسہ عالم پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ایماء پر بھارت میں کام کر رہی ہیں؟
یاد رہے کے پچھلے مہینے کیپٹن امریندر سنگھ کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ان کی جگہ کانگریس کے ایک اور لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا تھا حالانکہ ناجوت سنگھ سدھو اس عہدے کے فیورٹ امیدوار تھے۔ تاہم امریندر سنگھ نے سدھو پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انہیں کسی بھی صورت وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں بننے دیں گے۔ امریندر سنگھ نے سدھو کو وزیراعلیٰ تو نہیں بننے دیا لیکن اب خود پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کے الزام کا بدلہ چکاتے ہوئے سندھو نے امریندر سنگھ کے خلاف ایک بھرپور مہم شروع کردی ہے۔ اس وقت بھارتی پنجاب میں کانگریس اور کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان کھلی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس نے امریندر کی پاکستانی دوست عروسہ عالم کو بھی اس میں گھسیٹ لیا ہے اور اسی بنیاد پر امریندر سنگھ کے خلاف پاکستانی خفیہ ایجنسی سے تعلقات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی پنجاب کے ڈپٹی وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سکھجندر رندھاوا نے اعلان کیا ہے کہ عروسہ عالم کے آئی ایس آئی کنکشن کی تحقیقات کی جائیں گی۔ رندھاوا نے کہا کہ عروسہ عالم کے بارے میں بہت سی چیزیں منظر عام پر آچکی ہیں جن کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی صحافی عروسہ عالم پچھکے 10برس سے بھارتی پنجاب میں مقیم ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ خفیہ شادی کر رکھی۔ یاد رہے کہ عروسہ عالم جنرل یحییٰ خان کی سابقہ دوست اقلیم اختر عرف جنرل رانی کی صاحبزادی ہیں اور پاکستانی گلوکار اور میزبان فخر عالم کی والدہ ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین کو یہ سب الزامات تب کیوں یاد آئے جب انہیں وزارت اعلی سے ہٹا دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عروسہ عالم کے صرف ان سے تعلقات نہیں بلکہ سونیا گاندھی سے بھی تعلقات ہیں۔ اگر کانگریس ان کے عروسہ عالم سے تعلقات کی تحقیقات کرنا چاہتی ہے تو سونیا گاندھی کے ساتھ تعلقات کی تحقیقات بھی ہونی چاہییں۔ اس حوالے سے تب دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب کیپٹن ارمیندر کے میڈیا ایڈوائزر کی جانب سے عروسہ عالم کی سونیا گاندھی کے ساتھ تصویر ٹویٹر پر شیئر کرنے کرت ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا گیا۔ اسکے جواب میں اب بھارتی پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ سکھجندر سنگھ رندھاوا اب آئی ایس آئی سے عروسہ اور ارمیندر کے تعلق کی جانچ کے مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اس معاملے پر ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس معاملے کی تحقیقات اس لیے نہیں کرے گی کہ یہ دو ملکوں کے تعلقات کا معاملہ ہے اور اس کی جانچ صرف را ہی کر سکتی ہے۔
تاہم کانگریس پنجاب کے صدر نوجوت سنگھ سدھو اور کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان شروع ہونے والا جھگڑا ابھی جاری ہے۔ اب اس جھگڑے میں سدھو کی اہلیہ نوجوت کور سدھو بھی کود پڑی ہیں اور ایک تصویر شیئر کر دی ہے جس میں پنجاب پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل دنکر گپتا اور سابق چیف سکریٹری ونی مہاجن کے درمیان گاڑی میں عروسہ عالم بیٹھی ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک الزام لگا دیا کہ امریندر سنگھ کی وزارت اعلی کے دوران عروسہ عالم ہی پنجاب پولیس کی انچارج تھیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نوجوت سنگھ کے پاکستانی فوج سےتعلقات کاحوالہ دیتے ہیں تو ہم آپ کی دوست عروسہ کے آئی ایس آئی سے تعلقات یاد دلاتے ہیں۔ بتایا جائے کہ اسے بھارت کا ویزہ کس نے دلوایا اور وہ برس ہا برس سے یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہے جبکہ اس کا سارا خاندان پاکستان میں موجود ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ مہاراجہ آف پٹیالہ کیپٹن (ر) امریندر سنگھ نے عہدے سے اسستعفیٰ اس لئے دیا تھا کہ نوجوت سنگھ سدھو بی جے پی چھوڑ کر کانگرس میں شامل ہوگئے تھے جن کو پنجاب میں پارٹی کا صدر لگا دیا گیا تھاجس کے بعدیہ خبریں گرم تھیں کہ وہ وزیراعلیٰ کے خلاف سازشیں کرکے خودوزیراعلیٰ بنناچاہتے ہیں۔ اس کے بعدامریندرسنگھ نے وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرکے بی جے پی میں شمولیت کی کوششیں شروع کردی تھیں مگرپارٹی کے اہم رہنمائوں کی جانب سے اعتراضات کے بعدان کوکامیابی نہ مل سکی اوروہ خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے۔
واضح رہے کہ عروسہ عالم،اقلیم اخترعرف جنرل رانی کی صاحبزادی ہیں اورجنرل رانی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل یحییٰ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے بدنام تھیں۔

Back to top button