افغان طالبان کی اُٹھان

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
نجیب اللہ کے بعدافغانستان میں طوائف الملوکی کا دور چل رہا تھا،جہادی کمانڈراپنے علاقوں میں بادشاہ بنے ہوئے تھے،لڑکیوں اور لڑکوں کو اُٹھا کر لے جانا معمول بن گیا تھا،نہ صرف بھتہ وصول کیا جاتا بلکہ لوگوں کی املاک،کاروبار اور جائیداد ہتھیا لی جاتی۔ پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف اس دوران اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانےکیلئے آبائی گاؤں سے قندھار کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں مجاہدین کے ایک گروہ نے بس روک لی اور تمام مسافروں کو نیچے اُتار کر خندقیں کھودنے کا حکم دیا۔ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی مجبوری بتائی تو اس افغان مجاہد نے بندوق تان لی اور دھمکی دی کہ ابھی 30کی30گولیاں تمہارے بدن میں اُتار دوں گا۔وہ تو بھلا ہو اسکے کمانڈر کا جس نے ملا عبدالسلام ضعیف کو پہچان لیا اور اس مجاہد کوگالی دیکر کہا،تمہیں پتہ نہیں کہ ملا صاحب،غازی ہیں۔اس انارکی سے گھبرا کر ملا عبدالسلام ضعیف نے افغانستان سے پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا۔ملا عبدالسلام ضعیف اپنی تصنیف My Life with Talibanمیں لکھتے ہیں کہ پاکستان ہجرت کرتے ہوئے ہم نے مرکزی راستوں کے بجائےاسمگلروں کا روٹ اختیار کیا کیونکہ سابقہ مجاہدین کے جتھے نہ صرف مسافروں سے مال وزر لوٹ لیا کرتے بلکہ انکی خواتین کی حرمت بھی پامال کرتے۔ پاکستا ن پہنچے تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔حالات ایسے ابتر تھے کہ وہ لوگ جو سویت یونین کے خلاف مزاحمت کے دوران بھی نقل مکانی کرنے پر تیارنہ ہوئے،اب مجبور تھے۔ان حالات میں مدارس کے طلبہ جمع ہوئے جن میں ملاحسن،ملا محمد غوث اور ملا محمد ربانی سرفہرست تھے۔ انہوں نے ملا عمر کو اپنا رہبر چن لیا۔یہ طالبان کی مقامی سطح پر اور نتہائی ابتدائی شکل میں تھی۔ملا عمر قندھار کے ضلع میوند میں ایک مدرسہ چلایا کرتے تھے انہوں نے ملا یونس خالص کی حزب اسلامی کے کمانڈرنیک محمد کے ساتھ روسی افواج کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔طالبان نے کیسے جنم لیا؟اس حوالے سے مختلف تھیوریز پیش کی گئیں۔معروف صحافی اور مصنف احمد رشید اپنی کتاب ”طالبان“میں لکھتے ہیںکہ 1994ء میں قندھار کے نواحی علاقے سنگیسارسے کچھ لوگ ملا عمر کے پاس آئے اور بتایا کہ ایک جہادی کمانڈر نے دو نوعمر لڑکیوں کو اغوا کرلیا ہے،ان کے سر مونڈھ دیئے گئے ہیں اور انہیں فوجی کیمپ میں رکھا گیا ہے جہاں ان سے بار بار زیادتی کی جا رہی ہے۔ملا عمر نے 30طالبان پر مشتمل ایک دستہ تشکیل دیا جسکے پاس صرف 16بندوقیں تھیں،فوجی کیمپ پر حملہ کرکے ان لڑکیوں کو رہا کروالیا گیااور جہادی کمانڈر کو ٹینک کی بیرل سے لٹکا کر پھانسی دیدی گئی۔کچھ ماہ بعد قندھار میں دوجہادی کمانڈروں کے درمیان ایک خوبرو لڑکے کے حصول کی خاطر لڑائی شروع ہو گئی۔دونوں کمانڈر اس لڑکے کے ساتھ اِغلام بازی کے خواہاں تھے۔ایک بار پھر ملاعمر کی قیادت میں طالبان نے مداخلت کی اوراس معاملے کو حل کرنے کے نتیجے میںمال غنیمت کی بڑی مقدار دونوں کمانڈروں سے حاصل ہوئی۔ان دونوں واقعات کے بعد تو ملا عمر ایک لیڈربن گئے۔لوگ اپنے مسائل اور شکایات لیکر انکے پاس آنے لگے، لوگ انہیں مسیحا اور نجات دہندہ سمجھنے لگے۔طالبان کی شہرت سرحد پار پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی پہنچنے لگی،یہ لوگ مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کے زیر انتظام چل رہے دینی مدارس کے فارغ التحصیل تھے اس لیے پاکستان سے جہاد کا ذوق اور شوق رکھنے والے نوجوان جوق در جوق قندھار کا رُخ کرنے لگے۔
طالبان نے دیگر کمانڈروں سے راہ ورسم بڑھانا شروع کیا،ہرات میں سردار اسماعیل خان کے پاس وفد بھیجا گیا۔ملا محمد ربانی نے کابل جا کر صدر برہان الدین ربانی سے ملاقات کی۔برہان الدین ربانی کی حکومت کابل تک محدود تھی،حکمت یار نے ناک میں دم کر رکھا تھا،چونکہ برہان الدین ربانی اور مسعود احمد دونوں تاجک تھے،اس لئے انہیں پشتونوں کی حمایت درکار تھی۔افغان صدر برہان الدین ربانی نے طالبان کو اس شرط پر ہر قسم کی امداد اور تعاون کا یقین دلایا کہ وہ حکمت یار کا پتہ صاف کردیں۔ادھرحکومت پاکستان سرتوڑ کوشش کے باوجود پشتونوں کو حکومت دلانے اور گلبدین حکمت یار کو تخت کابل پر بٹھانے میں ناکام ہو چکی تھی،اب طالبان کی صورت ایک نیا مہرہ دستیاب ہوگیا۔بینظیر بھٹو دوسری بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال چکی تھیں،ریٹائرڈ میجر جنرل نصیر اللہ بابر جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں خیبر پختونخوا کے گورنر رہے،اب بینظیر کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے۔بینظیرحکومت کی شدید خواہش تھی کہ وسط ایشیائی ریاستوں تک تجارتی روٹ کھولے جائیں۔مختصر ترین راستہ تو پشاور سے کابل،مزار شریف،ترمذ(Termez)اورپھر ازبکستان کے دارالحکومت تاشقندپہنچنا تھا۔مگر یہ علاقے شدید جنگ کی لپیٹ میں تھے اس لیے کوئٹہ سے قندھار،ہرات اورپھرترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد کی صورت میں ایک متبادل روٹ ڈھونڈ لیا گیاکیونکہ اس مغربی روٹ پر حالات موافق تھے اور محض چند کمانڈروں کو اپنے ساتھ ملانے کی ضرورت تھی۔وزیر داخلہ ریٹائرڈ میجر جنرل نصیراللہ بابر نے ستمبر1994ء میں چمن بارڈر کا دورہ کیا اور آئی ایس آئی کے چند افسروں کو اس روٹ کا جائزہ لینے کیلئے چمن بارڈر سے افغان شہر ہرات بھیجا گیا تاکہ وہ سردار اسماعیل خان سمیت دیگر کمانڈروں سے ملکر معاملات طے کرسکیں۔انہیں تجارتی قافلوں کی حفاظت کے عوض ٹول ٹیکس دینے کا وعدہ کیا گیا۔ 20اکتوبر1994ء کو جنرل نصیر اللہ بابر کابل میں برہان الدین ربانی کی حکومت کو بتائے بغیر مغربی ممالک کے 6سفیروں کو ساتھ لیکر ہرات اور قندھار پہنچ گئے۔نصیراللہ بابر کے وفد میں پاکستان کے سیکورٹی حکام کے علاوہ محکمہ ریلویز، ہائی ویز، ٹیلیفون،بجلی اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔نصیراللہ بابر نے مغربی ممالک کے سفیروں سے کہا کہ وہ کوئٹہ سے ہرات تک سڑکیں تعمیر کرنے کیلئے 300بلین ڈالر جمع کرنا چاہتے ہیں۔
