کیا نواز شریف کے بیانیے کا جواب اسٹیبلشمنٹ نے گلگت الیکشن میں دیا؟

گلگت بلتستان کی الیکشن مہم کے دوران عوام کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں میں بھرپور شرکت کے باوجود اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت دلوا کر کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کے فوجی قیادت مخالف بیانیے کا جواب دیا ہے؟ کم ازکم نواز لیگ کی مرکزی قیادت تو یہی الزام لگاتی ہے۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کے نتائج نے نواز شریف کے اس الزام پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ اس ملک میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے بغیر کسی جماعت کو الیکشن نہیں جیتنے دیتی۔ لیگی قیادت کہتی ہے کہ ان کو تو پہلے ہی معلوم تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نواز لیگ کو جیتنے نہیں دے گی لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ بلاول بھٹو زرداری کی بھی غلط فہمی دور ہو گئی جن کو یہ شک تھا کہ شاید گلگت بلتستان کے الیکشن میں فوج کو پولنگ اسٹیشنز پر ڈیوٹی دینے سے روکے جانے کے بعد الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے۔ لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ گلگت میں مقامی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کو استعمال کر کے بھی اکثریت حاصل نہ کر سکی جس کی بنیادی وجہ گلگت میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے چلائی جانے والی بھرپور الیکشن مہم تھی۔ لی گئی ذرائع کہتے ہیں کہ گلگت میں دھاندلی کا سلسلہ الیکشن کے نتائج آنے کے بعد بھی جاری ہے اور یہ اسٹیبلشمنٹ ہی ہے جو کہ آزاد منتخب ہونے والے اراکین گلگت اسمبلی کو پی ٹی آئی میں شامل کروا کے اس کی حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری طرف سیاسی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں اپنائے جانے والے فوجی قیادت مخالف بیانیہ کا بھرپور گلگت کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو جتوا کر دیا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان کے عوام نے نواز شریف کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار عمار مسعود کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جو کہنا تھا کہہ دیا، جو بیانیہ قوم کو دینا تھا دے دیا۔ جو قربانیاں دینی تھیں دے دیں۔ گوجرانوالہ کی تقریر سے شروع ہوئے بھونچال کو گلگلت بلتستان کے الیکشن کی تقریر تک وہ ساتھ لے کر چلے۔ کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رکھی۔ کوئی بات بین السطور نہیں کہی۔ کھل کر بات کی۔ ڈٹ کر اپنے بیانیے کا اظہار کیا۔ کسی خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ یہ باتیں ہماری سیاست میں نئی ہیں۔ ایسا واشگاف اعلان ہمارے لیے نویلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کو بارہا کہنا پڑا کہ ‘نواز شریف کے بیانیے کا بوجھ ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا’۔ یہ بات اس لیے بھی درست ہے میڈیا بھی اس بھاری پتھر کو اٹھانے سے اجتناب کرتا ہے، سیاسی جماعتیں بھی دو قدم آگے دو قدم پیچھے کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ جماعت میں خود بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دھیرے سے کان میں کہہ رہے ہیں ‘میاں صاحب ہتھ ہولا رکھو’۔
لیکن عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ان سب باتوں سے ماورا ہو کر دیکھیں تو یہ بیانیہ عوام میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ جلسوں میں لوگوں کی تعداد، خاص نکات پر عوام کا پرجوش رد عمل، اور سوشل میڈیا پر عوام کی ایک کثیر تعداد اس بیانیے کی اثر پذیری کی غماز ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کے پاس اس دور پر آشوب میں کیا حیلے، حربے اور آپشنز ہیں۔ کہا جاتا ہے جمہوریت میں عوام کی اہمیت صرف الیکشن کے دن ہوتی ہے اس کے بعد ان کا کردار صرف تماشائی کا ہوتا ہے۔ ووٹ کی پرچی ڈالنے کے بعد بے چارے اپنے نمائندوں کو برسوں تلاش کرتے ہیں۔ ان کی منہ دکھائی کے منتظر رہتے ہیں۔ اپنی حالت زار کی کہانی سنانے کو ترستے ہیں۔ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ عوام کے ہاتھ سے ووٹ دینے کے بعد اختیار نکل چکا ہوتا ہے۔ اب وہ اپنے نمائندوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے عوام جب بھی اس ملک میں ووٹ ڈالتے ہیں تو نتائج میں کچھ گڑ بڑ کا الزام ضرور لگتا ہے۔ کبھی ‘جھرلو’ پھر جانے کا الزام سامنے آتا ہے، کبھی ‘خاموش اکثریت’ کے اپنا کام دکھا جانے کا، اور کبھی آر ٹی ایس سسٹم داغ مفارقت دے جاتا ہے۔ لوگ سوچتے کچھ ہیں نتیجہ کچھ نکلتا ہے۔ ووٹ کسی کو ڈالتے ہیں فاتح کوئی اور قرار پاتا ہے۔ یہ کیفیت آج کی نہیں۔ 1970 کے بعد ہر الیکشن میں ایسے ہی الزامات لگے ہیں۔
جنرل ضیاء کی موت کے بعد 1988 میں پی پی پی اور پی ایم ایل این کی دو دو باریوں والے انتخابات ہوئے۔ ان چار الیکشنز نے سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا اور فوج کا کردار مزید بڑھا دیا۔ جمہویت کی دھجیاں اڑا دی گیئں۔ اس موقع پر سیاستدان ہوش میں آئے اور ‘میثاق جمہوریت’ نامی عہد کیا۔ سیاسی جماعتوں کی صفوں میں جمہوریت پر اتفاق ہو گیا تو ‘خاموش اکثریت’ والوں کی شکست ہوگئی۔ ایسے میں پھر سے چوہے بلی کا کھیل شروع ہو گیا۔ پھر ڈرائنگ روموں میں رات گئے فون کھڑکنے لگے، پھر المدد المدد کی دہائی مچنے لگی۔
آج پاکستانی سیاست ایک دوراہے پر کھڑی ہے کیونکہ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں اس وقت اپوزیشن میں ہیں اور اسٹیبلشمنٹ اپنی جماعت کو اقتدار میں لا کر عمران خان کو وزیراعظم بنا چکی ہے۔ اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد نواز شریف اب کھل کر بول رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ پر حملہ آور ہیں۔ نواز شریف نے اب تک اہنی ہر تقریر میں کچھ سوال کیے ہیں۔ اب دیکھیے اس کا جواب کیا ملا؟ پہلے تو نواز شریف کے ایک ساتھی ایاز صادق کے خلاف اسی کے حلقے میں رات گئے غدااری کے بینر لگا دیے گئے۔ پھر وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی دھمکیوں والی تقریر نشر کی گئی۔ پھر سکیورٹی رسک والی اور کرپشن والی کہانی کا دوبارہ منترا پڑھا گیا۔ لیکن اس سے عوام کو قرار نہِیں آیا۔ وہ ان روایتی ہتھکنڈوں سے بے خوف ہو چکے ہیں۔ ان کو یہ فتویٰ بازی کی رسم سمجھ آ گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ اب اپوزیشن کی جانب سے رابطے بند ہو چکے ہیں اس لیے نواز شریف کے سوالات کا بلاواسطہ جواب دینا ضروری تھا۔ واہ جواب دراصل گلگت بلتستان کے الیکشن میں ملا جہاں سرکاری مشینیری اور بھاری بھرکم آوازوں کے باوجود تحریک انصاف مطلوبہ اکثریت نہِیں لے سکی۔ گلگت کے لوگ ابھی بھی حیرت زدہ ہیں کہ جلسے تو کسی کے بڑے تھے، عوام تو کسی اور کے نعرے لگاتے تھے، لیکن نتیجہ کوئی اور نکلا۔ یہ انتخابات اور ان کے نتائج نواز شریف کے سوالوں کا پہلا جواب تھا۔ دوسرا جواب وزیر اعظم کی تقریر سے اخذ کیا جا سکتا ہے جس میں گلگت بلتستان کے الیکشن کے اگلے ہی دن وزیر اعظم نے الیکٹرانک ووٹنگ کی داغ بیل ڈال دی۔ اب منظر بہت واضح ہو گیا ہے۔ ایک طرف وہ ہیں جو ووٹ کو عزت دینے کے خواہشمند ہیں اور دوسری جانب وہ جن کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ‘ووٹ کو روند دو’۔ اس جنگ میں کون کامیاب ہوتا ہے اس کا فیصلہ عوام کے پاس ہے۔
