کیا خادم رضوی ایجنسی کے کہنے پر دھرنے دیا کرتے تھے؟

اپنی اچانک وفات سے چند روز پہلے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کو زیادہ تنگ کیا گیا تو وہ یہ بھی بتا دیں گے کہ 2017 میں انہیں راولپنڈی میں دھرنا دینے کے لیے کن لوگوں نے مجبور کیا تھا۔ یاد رہے کہ 2017 میں فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک نے نواز لیگ حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کو ختم کروانے کے بعد آئی ایس آئی کی جانب سے مظاہرین میں گھروں کو واپس جانے کے لیے پیسے بھی تقسیم کیے گے۔ اپنی وفات سے چند روز پہلے فیض آباد کے مقام پر کی جانے والی تقریر میں خادم حسین رضوی نے کہا تھا کہ نواز شریف اپنی زبان کھولیں تا کہ میں بھی دنیا کو بتا سکوں کہ مجھے دھرنا دینے پر کس نے مجبور کیا تھا؟ تاہم موت نے انہیں یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ ان لوگوں کا نام بتا سکتے۔ تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ ایجنسیوں کے کہنے پر دھرنے دیا کرتے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ 19 نومبر کو اچانک فوت ہونے والے خادم حسین رضوی کو کئی روز سے بخار تھا اور وہ طبیعت خراب ہونے کے باوجود دھرنے کے لیے اسلام آباد گئے تھے اور پھر حکومت سے ہونے والے معاہدے کے بعد واپس آ گئے تھے۔ لیکن ہفتے کو طبیعت مزید خراب ہونے پر انہیں شیخ زید ہسپتال لایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے خادم رضوی کے انتقال کی تصدیق کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ گھر پہنچ کر ان کی سانسیں بحال ہوگئی ہیں اور انہیں دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا ہے، اس حوالے سے ایدھی فاؤنڈیشن کے فیصل ایدھی نے تصدیق کی کہ میت کو ہسپتال سے منتقل کرتے ہوئے راستے میں مولانا خادم رضوی کو دوبارہ سے سانس آیا تھا، جس پر انہیں دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا، تاہم بعدازاں ڈاکٹروں نے ان کی وفات کی تصدیق کردی۔
بتایا گیا ہے کہ علامہ کو بخار، زکام اور سانس میں دشواری کا سامنا تھا اور لگتا یہی ہے کہ ان کی موت کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جمعہ کے روز ایک ٹیم نے ان کے کرونا ٹیسٹ کے لیے سیمپل بھی لیے تھے جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ 55 سالہ مذہبی راہنماء کئی دنوں سے بخار اور زکام میں مبتلا تھے ان کے ایک ساتھی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ دھرنے کے لیے اسلام آباد روانگی سے قبل انہیں زکام اور بخار تھا۔ اسلام آباد کے سرد موسم اور ہواﺅں نے رہی سہی کسر نکال دی اور وہ کچھ دنوں سے سانس میں دشواری کی شکایت بھی کررہے تھے۔
اس سلسلہ میں شیخ زید ہسپتال کے ترجمان سے تصدیق کرنے کے لیے رابط کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر ہیں تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کے کورونا ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیے تھے ان کے نتائج کے حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان شیخ زید ہسپتال نے کہا کہ اعلی حکام ہی اس سلسلہ میں جواب دے سکتے ہیں. تاہم محکمہ صحت کے معتبر ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ مولانا خادم رضوی کی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کورونا وائرس کا شکار بنے ہیں شیخ زید ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اکبر حسین نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ رات 8 بج کر 48 منٹ پر خادم رضوی کو جب ہسپتال کے ایمرجنسی وراڈ میں لایاگیا تو وہ انتقال کرچکے تھے ڈاکٹر اکبر حسین کے مطابق کسی کو مردہ حالت میں لائے جانے کی صورت میں ہسپتال موت کی وجہ کا تعین نہیں کرسکتا. ان کے خاندان اور جماعت کی قیادت کی جانب سے ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ڈاکٹراکبر حسین نے کہا کہ اگر ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت دی جاتی تو موت کی درست وجوہات کا تعین کیا جاسکتا تھا.
بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے خادم رضوی اپنے سخت اندازِ بیان کے ساتھ 2017 کے دوران پاکستان میں توہین رسالتﷺ کے قانون کے حامی بن کر سامنے آئے. خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے ٹی ایل پی نے راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں ایک بار پھر دھرنا دیا، جو فرانسیسی سفیر کو پاکستان بدر کرنے پر آمادگی سمیت دیگر مطالبات تسلیم ہونے پر ختم ہوا۔ ان مذاکرات میں علامہ خادم حسین رضوی خود بھی شریک ہوئے تھے۔
خادم حسین رضوی کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن اور شیخ الحدیث بھی تھے۔ وہ 22 جون 1966 کو اٹک کے علاقے نکہ توت میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام لعل خان تھا۔ انہوں نے چوتھی جماعت تک تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ اس کے بعد ان کے والد نے انہیں جہلم کے ایک مدرسے میں داخل کروا دیا جہاں انہوں نے قرآن حفظ کیا۔ 1980 میں وہ مزید تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور جامعہ نظامیہ رضویہ میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی جہاں سے وہ 1988 میں فارغ التحصیل ہوئے۔ انہیں پنجابی، اردو، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
وہ داتا دربار کے قریب واقع پیر مکی مسجد میں خطیب کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے جبکہ 1993 میں محکمہ اوقاف میں بھرتی ہوئے، وہاں سے فراغت کے بعد یتیم خانہ لاہور میں مسجد رحمت اللعالمین میں خطیب رہے۔ایک ٹریفک حادثے میں ان کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئیں جس کے بعد وہ ویل چیئر تک محدود ہو گئے تھے۔ وہ 2009 میں راولپنڈی سے لاہور جا رہے تھے کہ ان کے ڈرائیور کو نیند آگئی جس کے بعد گوجرانوالہ کے قریب یہ حادثہ پیش آیا۔
انہوں نے 1994 میں شادی کی۔ ان کے سوگواران میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ خادم حسین رضوی اپنے انداز خطابت کے حوالے سے بہت معروف تھے۔ وہ زیادہ تر پنجابی زبان میں تقاریر کیا کرتے تھے جس میں وہ اکثر اوقات انتہائی سخت زبان استعمال کرتے تھے۔ ان کی تقاریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئیں۔
خادم رضوی نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو شہید کرنے والے شدت پسند ممتاز قادری کی حمایت کی اور اسے پھانسی دیے جانے کے بعد اسلام آباد میں احتجاج بھی کیا جس کے بعد وہ خبروں میں آنا شروع ہوئے۔ اگرچہ ان کا احتجاج تو چند روز میں ختم ہوگیا تھا تاہم اس کے بعد مسلسل ان کے بیانات آتے رہے۔ ناقدین کو اعتراض تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی مسجد کے منبر پر بیٹھ کر قرآنی آیات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ گالیاں بھی دیا کرتے تھے۔ تاہم خادم رضوی کامؤقف تھا کہ گالیاں بھی دینے کے لیے ہی بنی ہیں۔
2017 میں راولپنڈی دھرنے کے ذریعے سیاسی منظرنامے پر جگہ بنانے والے خادم حسین رضوی کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ وہ ایجنسیوں کے ایما پر دھرنے دیتے ہیں اور انہی کی زبان بولتے ہیں۔ نومبر 2017 میں ہی لاہور کے حلقہ 120 میں ضمنی الیکشن کے موقع پر تحریک لبیک سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور سات ہزار کے قریب ووٹ بھی حاصل کیے۔ یاد رہے کہ اس الیکشن میں مسلم لیگ ن کی امیدوار سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز تھیں۔ خادم حسین رضوی کی جماعت، تحریک لبیک پاکستان نے 2018 کے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا اور سندھ اسمبلی سے دو نشستیں حاصل کیں اور مجموعی طور پر پورے ملک سے 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ تب بھی یہی الزام لگا تھا کہ تحریک لبیک کو الیکشن میں حصہ لینے کا مشورہ خفیہ ایجنسیوں نے دیا تاکہ نوازشریف کا دائیں بازو کا ووٹ بینک توڑا جاسکے۔
