پاک افغان امن کے سفیر مقتول مولانا محمد ادریس کون تھے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک سینئر رہنما اور معروف مذہبی شخصیت مولانا محمد ادریس کو منگل کے روز ایک ٹارگٹڈ حملے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ پاک افغان تعلقات میں پل کا کردار ادا کرنے والے جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا محمد ادریس کی زندگی علم، سیاست، اور امن کی جدوجہد سے عبارت تھی۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان کی بازی ہارنے والے مولانا ادریس کی شہادت محض ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک ایسے وژن کا خلا ہے جو خطے میں امن، ہم آہنگی اور مکالمے پر یقین رکھتا تھا۔

مولانا محمد ادریس 1961 میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی سکول سے حاصل کی اور بعد ازاں دینی تعلیم کے لیے معروف درسگاہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کا رخ کیا۔ علم کے اس سفر نے انہیں نہ صرف ایک ممتاز عالم بنایا بلکہ ایک ایسے استاد کے طور پر بھی پہچان دی جن کے شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ترنگزئی میں قائم جامعہ نعمانیہ ان کی علمی خدمات کا مرکز تھا، جہاں وہ درس و تدریس کے ذریعے نئی نسل کی تربیت میں مصروف رہے۔ مبصرین کے مطابق مولانا ادریس نے سیاست کو محض اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا فریضہ سمجھا۔ 2002 میں وہ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا ماننا تھا کہ علما کا کردار صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی رہنمائی بھی ان کی ذمہ داری ہے۔وہ جمیعت علمائے اسلام کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی رہے اور صوبائی سطح پر اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

مولانا ادریس کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو پاک افغان امن عمل میں ان کا کردار تھا۔ 2022 میں وہ معروف عالم مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں افغان طالبان سے مذاکرات کرنے والے وفد کا حصہ بنے اور کابل جا کر اہم ملاقاتیں کیں۔ان کے افغان طالبان کے ساتھ گہرے روابط تھے، کیونکہ وہ ماضی میں دارالعلوم حقانیہ میں متعدد افغان رہنماؤں کے استاد رہ چکے تھے۔ اسی بنیاد پر وہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔انہوں نے ایک امن جرگے میں کہا تھا کہ"اگر افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا”  یہ جملہ ان کے وژن کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

 

مولانا ادریس، معروف عالم مولانا حسن جان کے داماد تھے، جو خود بھی امن اور اعتدال کے داعی تھے اور دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف رکھتے تھے۔ اس نسبت نے بھی مولانا ادریس کی سوچ اور جدوجہد کو متاثر کیا۔ مبصرین کے مطابق مولانا ادریس ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور امن کے داعی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امت کو اندرونی اختلافات سے نکل کر مشترکہ مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔بدقسمتی سے وہی شخصیت جو امن کا پیغام دے رہی تھی، دہشتگردوں کا نشانہ بن گئی۔ ان کی شہادت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امن کی راہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔

Back to top button