ون کانسٹیٹیوشن ایونیو تنازعہ کی کہانی، حامد میر کی زبانی

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے اسلام آباد میں واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ اس بلڈنگ کے سارے رہائشی اثرو رسوخ رکھنے والے امیر لوگ ہیں لہٰذا اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد رکوا کر وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

 

حامد میر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں غریبوں کی کچی بستیوں کو تو آپریشن کر کے مسمار کر دیا گیا لیکن امیروں کی غیر قانونی بلڈنگ مسمار کرنے کی بجائے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہئے۔ ایک پاکستان میں دو قانون چلائیں گے تو ایک دن آپ کے لئے بھی دو قانون بنیں گے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، اس لاٹھی سے بچئے۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں حامد میر نے اس معاملے کو نہایت پیچیدہ اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازعے میں کوئی ایک بھی فریق غریب آدمی نہیں ہے نہیں بلکہ کروڑوں مالیت کے فلیٹوں کے تمام مالکان بااثر اور صاحب حیثیت افراد ہیں۔

 

انکے مطابق اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ایک فائیو سٹار ہوٹل کے سامنے قائم بلند و بالا رہائشی عمارت کا مالک طویل عرصے سے ملکی آئین و قانون کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ابتدا میں اس مقام پر ایک فائیو ہوٹل بنانے کیلئے زمین حاصل کی گئی، تاہم بعد ازاں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے یہاں ہوٹل کے بجائے ایک مہنگی رہائشی عمارت تعمیر کر دی گئی اور اس کے اپارٹمنٹس بھاری قیمتوں پر فروخت کر دیے گئے۔ اس غیر قانونی منصوبے کو تحفظ دینے کیلئے بعض بااثر شخصیات کو انتہائی کم قیمت پر اپارٹمنٹس فراہم کیے گئے، اس غیر قانونی منصوبے کے خلاف کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے نے قانونی کارروائی کی، مگر اعلیٰ عدالتوں سے اس منصوبے کو ریلیف مل گیا۔ اس کے باوجود سی ڈی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اس کیس میں پسپائی اختیار کی گئی تو عام شہریوں کے خلاف تجاوزات کے آپریشن کا اخلاقی جواز ختم ہو جائے گا۔

 

حامد میر کے مطابق یہ معاملہ دو طاقتور مافیاز کی کشمکش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف سی ڈی اے کے اندر موجود وہ عناصر ہیں جو مختلف لینڈ مافیاز کی معاونت کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ بااثر حلقے ہیں جو غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک سابق چیئرمین سی ڈی اے کو ایک غیر قانونی عمارت کے خلاف آپریشن روکنے کیلئے ایک ارب روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس متنازعہ عمارت، جسے گرینڈ حیات کے نام سے جانا جاتا ہے، میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور سفارتکار رہائش پذیر ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ مزید حساس ہو چکا ہے اور وفاقی کابینہ بھی اس پر تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس عمارت کے خلاف آپریشن روک کر انکوائری کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

 

حامد میر نے اس کے برعکس اسلام آباد کے نواحی علاقوں نور پور شاہاں اور مل پور میں جاری آپریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جہاں سینکڑوں سال پرانی آبادیاں مسمار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان علاقوں کے مکینوں کے پاس قانونی دستاویزات اور عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں، اس کے باوجود ان کے گھروں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔

مل پور کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں محمد علی جناح نے 1944 میں پاکستان کے دارالحکومت کے قیام کا عندیہ دیا تھا۔ اس موقع پر فاطمہ جناح بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ آج بھی اس مقام پر وہ درخت اور گھر موجود ہیں جو اس تاریخی لمحے کے گواہ ہیں، مگر اب انہی مقامات کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ تاریخی ورثہ قومی اثاثہ نہیں؟ اور کیا اسے ختم کرنا قومی جرم نہیں ہونا چاہیے؟

فلپائن نے چینی جہازوں کے خلاف اپنے بحری جہاز کی تعینات کردیے

حامد میر نے سوال کیا کہ جس طرح گرینڈ حیات کے رہائشیوں کو وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی بنا کر ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، کیا اسی طرح نور پور شاہاں اور مل پور کے مکینوں کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ امیر اور غریب کا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کا ہے۔ اگر ایک ہی ملک میں مختلف طبقات کیلئے الگ الگ قوانین نافذ ہوں گے تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قانون کی یکسانیت ہی ریاست کی بنیاد ہے، اور اس سے انحراف پورے نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔

Back to top button