صدر ٹرمپ کا چین سے واپسی پر مختصر دورہ پاکستان ممکن کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین سے واپسی پر پاکستان کے مختصر دورے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، مبصرین کے مطابق اگر 15 مئی تک امریکہ اور ایران کے مابین معاملات طے پا جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ فائنل معاہدے کیلئے چین سے واپسی پر پاکستان ٓ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر نمایاں ہو چکی ہے۔ جنگ اور سفارت کاری کے درمیان جھولتی اس صورتحال میں پاکستان بدستور ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ بیک ڈور ڈپلومیسی، اعتماد سازی کے اقدامات اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اسلام آباد کو ایک ایسے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سے امن کی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں گے؟
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال بیک وقت امید اور خدشات دونوں کو جنم دے رہی ہے۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تو دوسری جانب آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کشیدگی کسی بھی وقت دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس تنازعے کو نہایت حساس نظر سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان کا کردار خاص طور پر نمایاں ہوا ہے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز اور اس کے عملے کو پاکستان کے حوالے کرنے کے عمل کو ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس عمل نے نہ صرف اعتماد سازی میں مدد دی ہے بلکہ پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کر دیا۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطہ بن چکا ہے۔پاکستانی قیادت اس سارے عمل میں مسلسل متحرک دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت کی سطح پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سمیت کئی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
سفارتی عمل کے تحت ایران نے ایک 14 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا ہے۔ اس منصوبے میں جنگ کے خاتمے، پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں جاری ہے اور دونوں فریقین سنجیدگی کے ساتھ کسی حل کی تلاش میں ہیں۔اس پورے تنازعے میں آبنائے ہرمز مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں کو فوری متاثر کرتی ہے۔ پاکستان نے اس معاملے پر محتاط اور متوازن مؤقف اپنایا ہے اور کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے آزادانہ جہاز رانی کی بحالی پر زور دیا ہے۔
جہاں تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان کا تعلق ہے، اس حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ ان کا مجوزہ دورہ چین 14 سے 15 مئی کو متوقع ہے، اور انہوں نے خود عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو وہ پاکستان آ سکتے ہیں۔ تاہم تاحال اس حوالے سے سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اسلام آباد ایک اہم سفارتی پیش رفت کا مرکز بن سکتا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکا اور ایران کے متضاد مؤقف کے درمیان پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکا خطے میں استحکام اور جوہری پروگرام میں شفافیت چاہتا ہے، جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے پر زور دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی متوازن حکمت عملی نہ صرف امن کے لیے اہم ثابت ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی حیثیت کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔
