انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

تحریر: عامر خاکوانی
بشکریہ : وی نیوز

4 مئی بھارتی تاریخ کا بہت اہم اور کئی اعتبار سے سیاہ دن ہے۔ اس روز بھارت کی چند اہم ریاستوں (صوبوں)کے الیکشن نتائج آئے اور بڑے بڑے برج الٹ گئے۔مغربی بنگال، جو کبھی سیکولرازم اور مزاحمت کا آخری قلعہ سمجھا جاتا تھا، آج وہ فصیل مسمار ہو چکی ۔ممتا بنرجی جیسے تجربہ کار سیاستدان جو تین بار وزیراعلیٰ بن چکی تھیں، وہ بی جے پی سے شکست کھا گئیں۔

بھارت کی ایک اور بہت اہم ریاست تامل ناڈو میں دراوڑی سیاست کے دونوں بڑے برج بھی گر گئے ،وہاں سے ممتاز تامل فلمسٹار وجے کی نئی پارٹی  حیران کن کامیابی حاصل کر کے سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی، آسام میں بھی بی جے پی نے مسلم ووٹروں کو دیوار سے لگا کر بہت بڑی اکثریت سے فتح حاصل کی۔ یہی پانڈیچری میں ہوا۔

ساؤتھ انڈین ریاست کیرالہ میں بھی بڑا دھماکہ ہوا، وہاں لیفٹ کی پالیٹیکس کرنے والا بہت طاقتور سیاسی اتحاد خاصے عرصے سے حکمران تھا، وہ اس بار کانگریس اور مسلم لیگ کے اتحاد کے آگے نہ ٹک سکا۔ ہندوستان میں لیفٹ کی سیاست کا یہ آخری بت تھا جو منہ کے بل جا گرا۔ اب پورے ملک میں کہیں پر بھی لیفٹ کی حکومت نہیں رہی۔

تجزیہ کار اسے لیفٹ پالیٹکس کا اختتام کہہ رہے ہیں۔ کیرالہ واحد ریاست ہے جہاں سے مسلمانوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا، وہاں آل انڈین یونین مسلم لیگ نے خاصی نشستیں لے کر بہت سوں کو حیران کر دیا، بعض مسلم خواتین بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہیں۔

ان میں سب سے اہم ویسٹ بنگال ہے کہ وہ انڈیا میں سیکولر سیاست کاآخری سہارا تھا۔ ویسٹ بنگال میں نریندر مودی کی پارٹی  بی جے پی نے 2 تہائی اکثریت کے ساتھ کولکتہ کے ایوانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ لیکن کیا یہ محض ایک سیاسی تبدیلی ہے؟ یا اس کے پیچھے عیاری، دھوکہ دہی اور ایک ایسی ‘ڈیجیٹل دھاندلی’ کی داستان ہے جس نے کروڑوں انسانوں کو ان کی شناخت سے محروم کر دیا؟اس پر آج بات کرتے ہیں۔

دھن، دھونس، دھاندلی کے ہتھیار

تجربہ کار ممتا بنرجی سخت اینٹی بی جی پی سیاستدان سمجھی جاتی ہیں۔معتدل مزاج، سیکولر سوچ کی حامل اور ان کا مسلم ووٹر کے ساتھ بہت اچھا تعلق رہا۔ اسی وجہ سےممتا بنرجی بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی ہٹ لسٹ پر سب سے اوپر تھیں۔

ویسٹ بنگال مشرقی بھارت کی ریاست ہے ۔بنگالی ثقافت، تاریخ اور زبان کی اپنی ایک اہمیت ہے اور انہیں اس پر تفاخر بھی ہے۔ ممتا بنرجی روایتی طور پر بنگالی نیشنل ازم کی بات کرتی ہیں ،ان کے حامی ممتاز بنرجی کو بنگال کی بیٹی بھی کہا کرتے ہیں۔ اس بار مگر بی جے پی کے انڈین نیشنل ازم کے نعرے نے ممتا بنرجی کے بنگالی نیشنل ازم کو شکست دی، مگر اس سے پہلے بھی بہت کچھ ہوا۔

90  لاکھ ووٹروں کا الیکشن لسٹ سے اخراج

یہ وہ اہم ترین فیکٹر تھا جس نے ممتا بنرجی کی تمام تر محنت، صلاحیت اور سیاسی حکمت عملی کو بے اثر کر دیا، دراصل الیکشن سے پہلے انڈین الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی جانچ پڑتال اور اسکروٹنی کا ایک پراسیس شروع کیا جسے اسپیشل انٹینسو رویژن (ایس آئی آر)کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت نوے لاکھ سے زائد لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے، ان میں 3 ملین کے قریب مسلم ووٹر تھے۔ یہ سب ان مسلم اکثریتی علاقوں سے تھے جہاں سے ہمیشہ ممتابنرجی کی پارٹی جیتتی آئی تھی۔

مخصوص حلقوں کی ٹارگٹنگ

بی جے پی نے بہت سادہ کیلکولیشن کی، ان تمام حلقوں سے ہزاروں ووٹ خارج کر دیے گئے جہاں مارجن کم رہا ہو اور ممتا بنرجی کی پارٹی چند ہزار ووٹ سے پچھلے الیکشن میں جیتی ہو۔ ایسے حلقوں میں اچھی طرح جانچ پڑتال کر کے، سوچ سمجھ کر ان کمیونیٹیز کے ہزارہا ووٹرز کو الیکشن سے ہی باہر کر دیا جو ممتا کی پارٹی ترنمول کانگریس کو ووٹ ڈال سکتی تھیں، جیسے مسلمان ووٹر، دیہی ، قبائلی ووٹرز اور خاص کر خواتین۔

یہ 90 لاکھ ووٹ یوں سمجھ لیں کہ ہر حلقے سے لگ بھگ 30 ہزار ووٹ ختم ہوجائیں۔ کسی صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے اگر ایک جماعت کے 30 ہزار ووٹ ختم ہوجائیں تو کیا ہوگا؟ اس کا جواب ویسٹ بنگال کے الیکشن میں مل گیا۔

الیکشن نتائج دلچسپ رہے۔ بی جے پی کو 45 فیصد ووٹ ملے جبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس پارٹی کو 40 فیصد ووٹ۔ بی جے پی نے ایک کروڑ 39 لاکھ ووٹ لیے جبکہ بنرجی کی جماعت نے ایک کروڑ 26 لاکھ۔ صرف 13 لاکھ ووٹ کا فرق ہے مگر دونوں کی نشستوں کا فرق سو سے بھی زیادہ آیا۔

وجہ وہی تھی کہ جہاں جہاں ممتا بنرجی اسٹرانگ تھی، وہاں سے مسلم ووٹر کاٹ دیے گئے ، یوں اگر عام حالات میں ممتا کی جماعت 10 ہزار ووٹ کی لیڈ سے سیٹ جیت جاتی تو اب وہ 4 سے 5 ہزار کے مارجن سے سیٹ ہار گئی۔

ماہرین کے مطابق جنوبی بنگال کے 140 سے زائد ایسے حلقے ہیں جہاں نکالے گئے ووٹرز کی تعداد، پچھلے الیکشن میں ممتا بنرجی کی جیت کے مارجن سے زیادہ تھی۔ یعنی بی جے پی نے میدان میں لڑنے سے پہلے ہی کاغذوں پر ممتا بنرجی کی برتری ختم کر دی تھی۔

مسلم ووٹ کم ہوجانے سے نقصان یہ ہوا کہ مسلم اکثریتی اضلاع جیسے مرشد آباد، مالدہ، نارتھ دیناج پور وغیرہ، وہاں سے بھی بی جے پی کو نصف سے زیادہ سیٹیں مل گئیں۔ ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام نکالے جانے کے خلاف مسلمان ووٹروں نے احتجاجاً تاریخی ٹرن آوٹ دیا مگر اس کے باوجود بی جےپی کا حساب کتاب اور چالبازی کامیاب رہی۔

بیورو کریسی کے تبادلے

انڈیا میں روایت ہے کہ الیکشن اناؤنس ہونے کے بعد سرکاری ملازمین کے تبادلے نہیں ہوتے۔ اس بار ویسٹ بنگال میں بہت بڑے پیمانے پر تبادلے ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسی بیوروکریسی وہاں لائی گئی جو پرو بی جے پی اور اینٹی  ممتابنرجی تھی۔ بیوروکریسی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بہت سی جگہوں پر شکایات آئیں، ممتا کی پارٹی نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔

ای وی ایم بٹن کے مسائل

انڈیا میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال ہوتی ہیں۔ ویسٹ بنگال میں کئی جگہوں پر اس مشین کے غلط استعمال کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔بعض جگہوں پر اس بٹن پر ٹیپ لگا دی گئی۔ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے مطابق الیکشن مشینری اور بی جے پی کی مقامی تنظیم کی معاونت سے ان کا ووٹ کم کیا گیا۔

گودی میڈیا کا بے رحمانہ استعمال

ممتا بنرجی کی 15 سالہ حکومت بھی شکست میں اہم فیکٹر رہی۔ حکمران جماعت سے کچھ نہ کچھ شکوے پیدا ہونا فطری ہیں۔ اس حوالے سے انڈین میڈیا کا منفی کردار بھی اہم رہا۔ بھارت کے اہم ترین میڈیا ہاؤسز عملاً نریندرمودی کے بے دام غلام بن چکے ہیں، انڈین سوشل میڈیا میں انہیں گودی میڈیا کہا جاتا ہے۔ اس میڈیا نے بھی ممتابنرجی کے خلاف بھرپور پروپیگنڈہ کیا۔ بعض ایسے واقعات جو 2 سال قبل ہوئے تھے، مگر میڈیا کمپین کے نتیجے میں وہ پھر سے ابھر کر سامنے آئے اور ممتا کی کمپین کو نقصان پہنچا ۔

ان میں سندیش کھالی کا واقعہ اہم رہا ، جہاں سوا 2 سال قبل ممتا کے ایک پارٹی رہنما پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے، اسی طرح کلکتہ کے آر جے کار میڈیکل کالج میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور مرڈر کا المناک واقعہ شامل ہے۔ بی جے پی نے ان واقعات کو بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ممتا بنرجی کی پارٹی کے خلاف استعمال کیا۔ بی جے پی نے قتل ہونے والی ڈاکٹر کی ماں کو ایک سیٹ سے الیکشن لڑایا، جو جیت بھی گئی۔

ہندو کارڈ کا بے محابا استعمال

بی جے پی کی سیاست کا محور خوف پیدا کرنا اور پھر اسے استعمال کرنا ہے۔ کبھی وہ اسلامو فوبیا کا کارڈ کھیلتے ہیں، کبھی کوئی اور کارڈ۔ اس بار بی جے پی نے بنگلہ دیش سے آنے والے مہاجرین کا پروپیگنڈا کر کے ویسٹ بنگال کے ہندو ووٹروں کو ہندو دھرم کے نام پر متحد کر دیا۔ یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ بنگلہ دیش میں ہندووں کو قتل کیا جارہا ہے اور ممتا بنرجی کی حکومت وہاں سے آنے والے مسلم بنگالیوں کی سرپرست ہے۔ اگر حکومت نہ تبدیل ہوئی تو ویسٹ بنگال کے ہندو  بھی نشانہ بن سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

لالچ کا کھیل

بی جے پی کو ایڈوانٹیج ہے کہ ان کی مرکز میں حکومت ہے، وہ ملکی قوانین بدل سکتے ہیں، مرکز سے بڑے فنڈز بھی جنریٹ کر سکتے ہیں۔ اس بار بھی بعض بنگالی قبائل کو یہ لالچ دیا گیا کہ انہیں ایک نیا قانون لا کر مستقل انڈین شہریت دے دی جائے گی۔ اسی طرح ممتا بنرجی کا ایک فلاحی پراجیکٹ لکشمی بھنڈار مشہور ہے، جس کے تحت خواتین کو ماہانہ امداد دی جاتی ہے۔ پہلے یہ ایک ہزار روپے تھے، اب ممتا نے 15 سو روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بی جے پی نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم مرکز سے اضافی پیسے لا کر 3 ہزار فی گھر مدد دیں گے۔ اس لالج نے بھی کچھ فرق ڈالا ہوگا۔

مسلم ووٹ کی تقسیم

مسلمان ووٹروں کی بڑی تعداد کو الیکشن ہی سے باہر کرنے کے علاوہ مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے کی بھی پوری پلاننگ کی گئی۔ ویسٹ بنگال کا مسلم ووٹ ہمیشہ ممتا بنرجی کی طرف جاتا ہے، اس بار معروف بھارتی مسلم رہنما اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم اور ہمایوں کبیر کی جماعت  نے انتخابات سے پہلے اتحاد کیا۔ یہ اتحاد خاص طور پر مرشدآباد، مالدہ اور جنوبی دیناج پور میں متحرک تھا، یعنی وہی تینوں ضلعے جہاں مسلمان سب سے زیادہ اور ’ایس آئی آر‘ سے متاثرہ تھے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ یہ اتحاد دراصل ممتا بنرجی کے ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو نقصان پہنچائے گا۔ ویسا ہی ہوا۔ انڈیا میں بہت سے لوگ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسد الدین اویسی صاحب شاید بی جے پی کے خفیہ اتحادی ہیں، وہ ہر جگہ اینٹی بی جے پی اتحاد ہی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

راہول گاندھی کی انڈین نیشنل کانگریس نے بھی ممتا بنرجی کا ووٹ کچھ نہ کچھ خراب کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مرشدآباد کے 22 حلقوں میں مسلم ووٹ 4 حصوں میں بٹ گیا، ترنمول، کانگریس، اوویسی کا اتحاد اور اے آئی یو ڈی ایف، جبکہ ہندو ووٹ بی جے پی کے پیچھے یکجا ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ بی جے پی نے 70 فیصد مسلم آبادی والے ضلعے میں نصف نشستیں لے لیں۔ یہی وہ میتھ تھا  جس نے 27 فیصد مسلم آبادی والی ریاست ویسٹ بنگال میں بی جے پی کو 207 نشستیں دلوا دیں۔ 90 لاکھ نام پہلے کاٹو، پھر باقی بچے مسلم ووٹ کو 5 حصوں میں تقسیم کرو، نتیجہ خود بخود آتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی نے ویسٹ بنگال کا قلعہ تو فتح کر لیا ہے، لیکن اس فتح پر ‘عیاری اور دھوکہ دہی’ کے جو داغ ہیں، وہ کبھی نہیں دھل سکیں گے۔ افسوس  کہ بنگال کا وہ آخری چراغ گل ہو گیا ہے جس کی لو سے ہندوستان کے سیکولر ڈھانچے کو کچھ نہ کچھ روشنی مل رہی تھی۔ جو مسلم ووٹر کا سہارا بنا ہوا تھا۔ اب اندھیرا گہرا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ بی جے پی دھن، دھونس اور لالچ  کی طاقت سے ہندوستان کے ہر صوبے پر اپنا تسلط جما لے گی۔

Back to top button