کیا نیا سیاسی اتحاد کپتان حکومت کو گھر بھیج پائے گا؟

اتحادی سیاست کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ ادھوری ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار کے دوران سیاسی و انتقامی ایجنڈے کی تکمیل، حکومت کے دفاع، اقتدار کے حصول، جمہوریت کی بحالی یا اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر مختلف چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد بنتے رہے ہیں جن میں سے کئی ایک نے جب حکومت کے خاتمے کی تحریک چلائی تو وہ کامیابی پر منتج ہوئی۔
20 ستمبر 2020 کو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، اور جے یو آئی سمیت ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر پی ڈی ایم یعنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے نیا اتحاد قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ سال جنوری میں اسلام آباد کی گے طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت نئے سیاسی اتحاد میں کامیابی سے کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہوئے کپتان حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو پائیں گی؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حکومت وقت کے خلاف حزب اختلاف نے متعدد مشترکہ تحریکیں شروع کیں۔ 1968 میں فوجی حکومت کے پہلے صدر ایوب خان کے خلاف نوابزادہ نصراللہ خان نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر اکٹھا کیا جس کے نتیجے میں ملک میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاج نے زور پکڑا۔ایوب خان کے مخالف تحریک میں ایئر مارشل اصغر خان پیش پیش تھے تاہم پاکستان پیپلر پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے خود کو سیاسی طور پر مستحکم کیا اور وہ ایک نمایاں لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔اس اتحاد کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں شروع ہوئیں جس میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔1969 مظاہروں میں شدت آئی تو صدر ایوب نے استعفی دیا اور اقتدار کا ہما اس وقت کے کمانڈر ان چیف یحیٰ خان کے سر سجا جس کے بعد لیگل فریم ورک آرڈر طے کیے گئے اور 1970 میں انتخابات کروائے گئے جس کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک اور تنازع پیدا ہوا اور ملک تقسیم ہو گیا۔
1977 کے انتخابات سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ’پاکستان نیشنل الائنس ‘کے نام سے اپوزیشن کی نو جماعتوں نے اتحاد قائم کیا۔ تحریک استقلال کے اصغر خان، جماعت اسلامی کے مولانا مودودی، جمعیت علمائے پاکستان کے شاہ احمد نورانی اور اے این پی خان عبد الولی خان کی قیادت میں قائم کیے جانا والے اس اتحاد کو 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی۔ اپوزیشن کے اتحاد نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا، انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شدت آنے کے بعد فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں پھر مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اپوزیشن کا یہ اتحاد اتنا کمزور ثابت ہوا کہ ضیاء الحق کے اقتدار سنبھالتے ہی اتحاد میں شامل متعدد جماعتیں ڈکٹیٹر کی کابینہ کا حصہ بن گئیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور بڑا اتحاد ایم آر ڈی یعنی موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی تھا جو1981 میں بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی قیادت میں ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف قائم کیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد طویل مدت کے لیے تھا جو 1981 سے 1988 تک قائم رہا۔ اس اتحاد میں پاکستان پیپلز پارٹی، قومی عوامی تحریک، تحریک استقلال، جمیعت علمائے اسلام ف، عوامی نیشنل پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان شامل تھیں۔
1988کے انتخابات سے قبل جنرل اسلم بیگ نے پاکستان پیپلز پارٹی مخالف اسلامی جمہوری اتحاد یعنی آئی جے آئی کے نام سے نو جماعتوں کا اتحاد قائم کروایا گیا۔ جس میں مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور نینشل پیپلز پارٹی شامل تھیں۔ 1988 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب تو پنجاب میں نوازشریف نے وزیراعلی پنجاب کا عہدہ سنبھال لیا۔ اِس اتحاد کو غیر جمہوری اور پی پی پی مخالف قوتوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اسلامی جمہوری اتحاد کو اس الیکشن میں قومی سطح پر کامیابی نہ مل سکی تاہم یہ اتحاد صوبہ پنجاب میں کامیاب ہوکر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگیا، قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی 94 نشستوں پر انتخاب جیت کر مرکز ی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔
اِس انتخابی معرکے کے بعد پاکستان میں قبل از وقت انتخابات 1990 میں ہوئے، انتخابی میلہ سجا تو اٰس انتخابی دنگل میں دوبڑے اتحاد بنے جن میں پیپلز ڈیموکریٹک الائنس اور اسلامی جمہوری اتحاد جو کہ پہلے سے بنا ہوا تھا۔آئی جے آئی کی قیادت نواز شریف ،جب کہ پی ڈی اے کی قیادت بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ اس انتخابی معرکے میں غیر جمہوری فوجی قوتوں نے بھرپور مداخلت کی اورالیکشن کے من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے سیاست دانوں میں پیسہ بھی خوب تقسیم کیاگیا،اسلامی جمہوری اتحاد ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی 106 نشستوں پر الیکشن جیت کر مرکز میں حکومت بنا نے کی پوزیشن میں آگیا،جبکہ اس کے مدِ مقابل پی ڈے اے کو صرف 45 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد 1997 میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک نیا اتحاد بنا جس کی قیادت نصراللہ خان کررہے تھے ،یہ اتحاد نواز شریف کی حکومت کے خلاف بنایا گیا تھا لیکن 12 اکتوبر 1999 کو مشرف نے ایک منتخب جمہوری حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ حاصل کرنے کے ساتھ ،جی ڈی اے کا کام تمام کر دیا۔ جنرل مشرف کی جانب سے اقتدار کا دائرہ بھی دوسرے جرنیلوں کی طرح ،ان کے اپنے ذاتی مقاصد تک محدود تھا، متعدد تلخ تجرباتی کے بعد ملک کی سیاسی قیادت نے ملک میں جمہوریت کے استحکام اور مشرف آمریت کے خاتمے کے لیے مل کر جدوجہد کرنے اور باہمی اختلافات ختم کرنے کا فیصلہ کیا، ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک بار پھر ملک کی 15 سے زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئیں اور ایک نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی، اس اتحاد کا نام “تحریک بحالی جمہوریت”یا اے آر ڈی رکھا گیا تھا۔ اس اتحاد کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ملک کی دو سب سے بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پہلی مرتبہ کسی ایک اتحاد میں شامل ہوئی تھیں، اس سے پہلے ہمیشہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حکومتوں کو کمزور کرنے میں اپنی قوت صرف کیا کرتی تھیں۔
خیر جمہوریت کو تو بحال ہونے میں وقت لگ گیا لیکن اس دوران ایک اور انتخابی میلہ 2002 میں سجا ،اس مرتبہ بھی ہمیشہ کی طرح مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنایا گیا،جس کا نام متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے رکھا گیا اِس اتحاد میں ملک کی چھ مذہبی جماعتیں شامل تھیں جن میں جمعیت العلما ء اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی جیسی نامور مذ ہبی جماعتیں شامل تھیں۔ ہر چھوٹے بڑے اتحاد کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے جس میں کبھی کبھی وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، ایم ایم اے کو ان انتخابات میں خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت جبکہ صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی،ایم ایم اے ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی 57 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن گئی،اسی الیکشن کے دوران ایک اور بھی اتحاد بنا تھاجس کا نام نیشنل الائنس تھا تاہم یہ اتحاد کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور اس اتحاد کو صرف 16 نشستوں پر کامیابی مل سکی اور اب ایک بار پھر 11 اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کیخلاف پی ڈی ایم یعنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے نیا اتحاد قائم کر لیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اپوزیشن کی جانب سے 20 ستمبر کو اعلان کردہ پاکستان ڈیموکریٹک موومینٹ کو عمران خان کی حکومت کے خلاف ‘پہلا موثر اقدام’ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دو بڑے موثر اتحاد بنے ہیں ایک ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے بنا تھا لیکن وہ انتخابات سے قبل بنا اور انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کی تھی جبکہ سب سے موثر اور نظریاتی اتحاد ایم آر ڈی تھا جو ضیاء الحق حکومت کے خلاف قائم کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘موجودہ اپوزیشن کا اتحاد ایم آر ڈی کے قریب تر ہو سکتا ہے لیکن یہ اتحاد کوئی پائیدار شکل اختیار کر پاتا ہے یا نہیں یہ نومبر سے دسمبر تک پتہ چل جائے گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث حزب اختلاف کی جماعتیں اکٹھی ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ ‘نوازشریف فرنٹ فٹ پر سامنے آئے ہیں وہ پہلے بھی فرنٹ فٹ پر آتے رہے ہیں لیکن اس بار کیا نتیجہ نکلے گا اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔تجزیہ کاروں کے بقول ‘الفاظ کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اب عمل کیا ہوتا ہے کیونکہ سٹار بیٹسمین اس وقت نواز شریف ہیں شہباز شریف نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جو شکوک و شبہات تھے وہ دور تو نہیں ہوئے لیکن کم ضرور ہوئے ہیں تاہم ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے مقتدر حلقوں کے ساتھ رابطے ہیں۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے بعد آنے والے دنوں ملکی سیاست میں کون سا بھونچال آنے والاہے، یہ تو آنے والے دن بتائیں گے لیکن سیاسی پنڈتوں کے نزدیک اپوزیشن جماعتں متحد رہیں تو حکومت کے خاتمے کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
