کیا واقعی نواز شریف عدلیہ کا لاڈلہ بن چکا ہے؟

ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو 10 سال قید کی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے انہیں 24 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت دے دی ہے۔ جس کے بعد 21 اکتوبر کو وطن واپس آنے پر میاں نواز شریف کو 24 اکتوبر تک گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نےایون فیلڈ اور العزیزیہ کرپشن ریفرنسز میں میاں نواز شریف کی 24 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ میاں نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے تمام قانونی رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں اور انھیں 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جا سکے گا اور وہ مینار پاکستان پر جلسہ اور اس کے 2 دن بعد سیاسی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔
نواز شریف کی ضمانتوں کی منظوری کے حوالے سے سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر کافی تنقید کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں نظام انصاف امرا اور بااثر لوگوں کے لیے انتہائی سرعت سے بروئے کار آتا ہے جبکہ عام سائلین سالوں بلکہ دہائیوں انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔ عدالتیں بھی ان حقائق سے آگاہ ہیں۔ جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی وکلاء کا کہنا ہے ہہ ہم پر لاڈلہ ہونے کے الزام لگانے والے آج خود لاڈلے بن چکے ہیں اور انھیں عدم پیشی پر بھی ضمانتیں مل رہی ہیں۔
حقائق کو دیکھا جائے تو نواز شریف کے ساتھ ضمانت کے حوالے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔ ماضی میں بھی مختلف مقدمات میں ہمارا نظام انصاف اتنی سرعت سے حرکت میں آ چکا ہے اور مختلف موقع پر مبینہ طور پر عدالتوں نے انصاف کے تقاضوں سے صرفِ نظر کیا ہے۔
اپریل 2022 کے آخر میں اس وقت کے وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی جماعتوں کے وفد نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ مکہ مکرمہ میں عمرہ ادائیگی کے بعد جب یہ وفد مدینہ منورہ پہنچا تو وہاں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے حکومتی وفد کے اراکین کے خلاف مسجد نبوی میں نعرے بازی کی، سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو ہراساں کیا گیا جس پر فیصل آباد میں توہین مذہب کے الزامات کے تحت عمران خان، فواد چوہدری سمیت 150 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی جس پر پاکستان تحریک انصاف نے عید الفطر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور چیف جسٹس اطہر من اللہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتاری سے روک دیا۔
گزشتہ سال 2 اکتوبر 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اتوار کے روز خفاظتی ضمانت دی گئی جس پر اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے بیان دیا تھا کہ عدالتوں کو یہ تاثر ختم کرنا چاہیے کہ کوئی ان کا لاڈلہ ہے۔ اس واقعے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس اطہر من اللہ نے میڈیا نمائندگان کو ایک وضاحت دی کہ ان کا لاڈلہ کوئی نہیں اور وہ بلاتخصیص سب کے لیے چھٹی کے روز بھی عدالت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
9 اپریل 2022 کو جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے سے برطرف کیا گیا تو رات کو عدالت کھول کر سپریم کورٹ نے ووٹنگ کا حکم نامہ جاری کیا جس پر پاکستان تحریک انصاف شکوہ کناں رہی کہ ان کے خلاف عدالتیں رات کو کھول دی جاتی ہیں۔2014 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملوں کے مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان نامزد ملزم تھے اور بعد ازاں 2016/17 میں مسلسل عدم پیشی پر انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا۔ ان دنوں عمران خان پاناما مقدمے میں سپریم کورٹ پیش ہوتے تھے، جلسوں سے خطاب کیا کرتے تھے لیکن انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے تھے۔جب انسداد دہشت گردی عدالت ملزم کی گرفتاری کے لیے کہتی تھی تو اسلام آباد پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی جاتی تھی کہ بنی گالہ گئے تھے وہاں ملزم نہیں مل سکا۔
20 مارچ 2017 کو جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کو 20 لاکھ کے مچلکوں کے عوض خفاظتی ضمانت دے تھی۔ شرجیل میمن 5 ارب کے کرپشن اسکینڈل میں نیب کو مطلوب تھے۔پاکستان پیپلزپارٹی ہی کے سابق وفاقی وزیر ارباب عالمگیر خان اور ان کی اہلیہ عاصمہ ارباب کرپشن مقدمات میں نیب کو مطلوب تھے جب انہوں نے دبئی سے اپنے وکیل کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کے لیے رجوع کیا۔ 12 اپریل 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے 15 لاکھ مچلکوں کے عوض دونوں کو 15 روز کے لیے خفاظتی ضمانت دی۔
اسی طرح سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق مقدمے میں کراچی کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ستمبر 2015 میں 7 دن کی حفاظتی ضمانت دی گئی۔12 دسمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے سلیمان شہباز کو 14 روز کی حفاطتی ضمانت دی جب وہ لندن سے 4 سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس آ رہے تھے۔ سلیمان شہباز منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے میں عدالت کو مطلوب تھے۔
دوسری جانب نواز شریف کی حفاظتی ضمانت پر تنقید بارے سوال پر سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو ضمانت دی ہی نہیں گئی۔ ضمانت وہ ہوتی ہے جس میں مچلکے مانگے جاتے ہیں اور ضمانت لی جاتی ہے کہ درخواست گزار متعلقہ عدالت کے روبرو پیش ہو گا، اس معاملے میں صرف یہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے کہ وطن واپسی پر میاں نواز شریف کو گرفتار نہ کیا جائے اور انہیں عدالت تک پہینچنے دیا جائے۔
نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق نے بھی یہی کہا کہ یہ ضمانت نہیں۔ یہ ایک طرح سے ایک شخص کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کی گرفتاری کے وارنٹس نکلیں اسے یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے یہ چیلنج کر سکے کہ اس کے وارنٹس غلط طور پر نکالے گئے ہیں اور وہ اس سلسلے میں مجاز عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے اور عدالتیں یہ سہولت دیتی ہیں کہ اس دوران اسے گرفتار نہ کیا جائے۔عمران شفیق نے کہا کہ اب میاں نواز شریف عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنی غیر حاضری کی توجیح پیش کریں گے کہ ان وجوہات کی بنا پر وہ عدالت سے غیر حاضر رہے اور اگر عدالت ان کی وضاحت سے مطمئن ہوئی تو وہ ان کو ضمانت دے دی گی۔ عدالتوں کا کام لوگوں کو اشتہاری بنانا نہیں بلکہ عدالتوں کے سامنے سرنڈر کروانا ہے۔
