کیا پاسپورٹ منسوخ ہونے پر نواز شریف برطانیہ میں سیاسی پناہ لیں گے؟

آئندہ برس فروری میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے پاکستانی پاسپورٹ کی مدتِ معیاد ختم ہونے کے بعد برطانیہ میں ان کے قانونی قیام یا کسی عرب ملک منتقل ہونے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ تاہم برطانوی ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ نیا پاسپورٹ نہ بننے کی صورت میں نواز شریف اگر صرف یہ ثابت کردیں کہ ملک واپس جانے کی صورت میں ان کی جان کو خطرات لاحق ہیں تو انہیں برطانیہ میں سیاسی پناہ کے قوانین کے تحت مزید قیام کی اجازت مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد آئندہ سال فروری میں ختم ہونے کے بعد انھیں بیرون ملک قیام جاری رکھنے کے لیے نئی سفری دستاویز کی ضرورت ہو گی اور غالب امکان ہے کہ تحریک انصاف حکومت نواز شریف کو یہ فیور ہرگز نہیں دے گی۔ لہذا سیاسی حلقوں میں ان دنوں یہ بحث زوروں پر ہے کہ کیا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کے بعد نواز شریف لندن میں سیاسی پناہ لیتے ہیں، یا سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ یا پھر حکومت انہیں وطن واپس لیجانے میں کامیاب ہوجاتی ہے؟۔ بہرحال لیگی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پاکستانی پاسپورٹ کی معیاد فروری 2021 میں ختم ہو رہی ہے اور یہ کہ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے پارٹی کے اندر اور قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ سزا اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا سامنا کر سکیں۔ تاہم دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد کے خاتمے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کو واپس لانا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت کی جانب سے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے لہٰذا ان کا پاسپورٹ پہلے سے ہی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ وہ 3 بار پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی وجہ سے کوئی خصوصی رعایت ملنے کا امکان ہے۔
بعض قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت حکومت نے ہی دی تھی اور وہ علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں اس لیے ان پر پابندیاں نہیں عائد کی جا سکیں گی۔ دوسری جانب نواز شریف کے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کی صورت میں نوازشریف سعودی عرب جاسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2000 میں بھی نوازشریف نے جدہ میں ہی پناہ حاصل کی تھی جب 12 اکتوبر 199 کو ان کی منتخب حکومت گرا کر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضضہ کرنے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا تھا۔جس کے بعد سعودی فرمانروا نے مداخلت کی تو نوازشریف ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب چلے گئے تھے اور 10 سال تک وطن واپس نہ آنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس مرتبہ کسی دوسرے ملک بالخصوص سعودی عرب جانے کی غلطی نہیں کریں گے کیونکہ اس سے یہ تاثر پختہ ہوگا کہ وہ علاج کا بہانہ بنا کر پاکستان سے بھاگے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ نواز شریف اقامہ علاج کے لیے وید سے نکال کر لندن روانہ کر دیے گئے تھے جبکہ ان کی سزا کے خلاف اپیل اور انکے خلاف مزید مقدمات ابھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے انہیں نومبر 2019 میں چار ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے ضمانت پر بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی جس کے بعد وہ لوٹ کر وطن واپس نہیں آئے۔
لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک نواز شریف کا لندن میں علاج مکمل نہیں ہوجاتا وہ ہرگز پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ خیال رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں داخل یا ملک سے باہر جانے کے لیے پاسپورٹ ضروری دستاویز ہے، جو وزارت داخلہ کی ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نامی ذیلی ادارہ پاسپورٹ رولز 1974 کے تحت جاری کرتا ہے۔ پاکستان میں ڈائریکٹوریٹ آف ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے 25 دفاتر ہیں جبکہ بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانے اور ہائی کمیشنز بھی وہاں موجود پاکستانی شہریوں کو یہ دستاویز جاری کرنے کے مجاز ہیں۔ پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مذکورہ شخص کو ذاتی طور پر ڈائریکٹوریٹ آف ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے دفتر میں حاضر ہونا پڑتا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی یہ دستاویز حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ملک میں پاکستانی سفات خانے جاتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں نواز شریف کے پاس آپشنز کیا ہیں؟
نواز شریف کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے والد کی فوراً وطن واپسی کے امکانات رد کر چکی ہیں جس کی وجہ وہ ان کی خراب صحت اور کرونا وائرس کی وبا کے باعث علاج میں تاخیر بتاتی ہیں۔ ایسے میں نواز شریف کا نئے پاسپورٹ کے حصول کے لیے پاکستان آنا خارج از امکان ہے۔ دوسری صورت یہ بن سکتی ہے کہ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے نواز شریف لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں درخواست جمع کرائیں۔ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کچھ عرصہ قبل وفاقی وزارت داخلہ کو نواز شریف کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔ تیسری صورت میں نواز شریف برطانیہ سے کسی عرب ملک چلے جائیں جہاں ان کے لیے پاسپورٹ یا دوسرے ضروری دستاویزات کے بغیر بھی رہنے کے امکانات بن سکتے ہیں۔چوتھی اور سب سے زیادہ قابل عمل صورت یہ ہے کہ نواز شریف پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد بھی برطانیہ میں ہی رہیں۔
گذشتہ 20 سال سے لندن میں پریکٹس کرنے والے پاکستانی نژاد وکیل قمر بلال ہاشمی کا کہنا ہے کہ موجودہ پاسپورٹ کی معیاد ختم اور نیا جاری نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف ایک بے وطن شخص بن جائیں گے اور ایسی صورت میں ان کے پاس مزید دو آپشنز ہوں گے۔ ہاشمی کے مطابق پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد نواز شریف برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں جس صورت میں انہیں ایک لمبے عمل سے گزرنا ہو گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ دوسری صورت میں نواز شریف برطانیہ کی وزارت داخلہ کو ایک درخواست دے سکتے ہیں کہ انہیں وہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔ انکا کہنا ہے کہ برطانوی قوانین کے مطابق میاں صاحب کو لندن میں قیام جاری رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے کیوں کہ اگر کوئی بھی شخص ثابت کر دے کہ اپنے ملک میں اس کی جان کو خطرہ ہے تو برطانوی قوانین اور قانونی روایات کے تحت اسے وہاں رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ قمر بلال ہاشمی کے مطابق سابق پاکستانی وزیر اعظم کو علاج کی غرض سے پاسپورٹ کی غیر موجودگی میں بھی برطانیہ میں قیام طویل کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ تاہم ہر دو صورتوں میں انہیں مطلوبہ ثبوت برطانوی حکام کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔قمر بلال کا کہنا تھا کہ جن غیر ملکیوں کو برطانیہ میں پناہ نہیں مل پاتی انہیں بھی کسی جائز وجہ کی بنا پر قیام کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ نواز شریف کی پاکستان حکومت کو حوالگی کا کتنا امکان ہے؟ ان کا کہنا تھا دونوں ملکوں کے درمیان ایکسٹراڈیشن ٹریٹی کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اور نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار بھی گذشتہ کئی سالوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں وہ سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے چکے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کے دعوؤں کے باوجود ابھی تک اسحاق ڈار کو واپس نہیں لا جا سکا۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت ایک سے زائد آپشنز پر غور کررہی ہے۔ فروری 2021 میں میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو جائے گی، جس کی تجدید کے لیے انہیں ہر صورت وطن واپس آنا پڑے گا۔بابر اعوان نے کہا کہ برطانیہ میں وہ پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کے بعد نہیں رہ سکیں گے اور اگر وہ وہاں پاسپورٹ کی رینیول کی درخواست کریں گے تو ہم ان کو کہیں گے آپ پاکستان آئیں، ہم آپ کو نیا پاسپورٹ بنا کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر بابراعوان کے مطابق ہم نے برطانوی حکومت سے نواز شریف کی حوالگی مانگی ہوئی ہے اور انہیں لازمی وطن واپس آنا پڑے گا۔
