کیا پاکستانی معیشت سگریٹ کے سہارے چل رہی ہے؟

پاکستان کے طاقتور ٹوبیکو مافیا نے حکومت سے اگلے بجٹ میں سگریٹ پر عائد ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ اس وقت پاکستانی معیشت صرف سگریٹ کے سہارے چل رہی ہے اور اس کی قیمت مزید بڑھانے سے معیشت کو بڑا نقصان ہوگا۔
شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ 1930ء تک سگریٹ کا بطور دوا استعمال ہوتا رہا اور اسے صحت کے لیے فائدہ مند بتایا جاتا تھا۔انسانی تہذیب کی تاریخ میں سگریٹ سب سے خطرناک مصنوعات میں سے ایک ہے۔ 1880ء میں شمالی كیرولائنا کے شہر ڈرہم میں پہلی بار جیمز ڈیوک نے 24 سال کی عمر میں سگریٹ بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ 1930 تک سگریٹ بطور دوا استعمال ہوتا تھا اور پھیپھڑے کے کینسر اور سگریٹ پینے کے درمیان موجود تعلق کا پتہ ہی نہیں تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 1906 تک سگریٹ ادویات کے انسائیكلوپيڈيا میں بھی شامل تھا۔ جیمز ڈیوک کی موت 1925ء میں ہوئی۔ موصوف جب تک زندہ رہے، اس جان لیوا دوا کی تشہیر کرتے رہے۔ بعدازاں پبلک ریلیشنز کے ‘گاڈ فادر‘ سمجھے جانے والے ایڈروڈ برنیز نے سگریٹ کی تشہیر کےلیے نئے طریقے استعمال کیے۔ پہلی مرتبہ یہ تجربہ کیا گیا کہ خواتین کو کس طرح سگریٹ پینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ایک بہت بڑی اشتہاری مہم کے ذریعے نجی میڈیا کا استعمال کیا گیا اور سگریٹ کو خواتین کی آزادی سے نتھی کر دیا گیا۔
یرنیز نے ایک نیا آئیڈیا دیا کہ سگریٹ پینے سے پابند خواتین آزاد ہو جائیں گی۔ اس تجربے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو غیر عقلی رویہ اپنانے پر بھی قائل یا مجبور کیا جا سکتا ہے۔
لیکن آج کے ماڈرن دور میں یہ ثابت ہو جانے کے باوجود کے تمباکو نوشی مضر صحت ہے اور کینسر کا باعث بنتی ہے، پاکستان میں ٹوبیکو کمپنیاں اگلا بجٹ آنے سے پہلے مضر صحت سگریٹ پر ٹیکس کم کروانے اور اسکی قیمت نہ بڑھانے کے مطالبات لے کر میدان میں آگئی ہیں۔ ٹوبیکو کمپنیاں یہ عجیب و غریب دعوے بھی کر رہی ہیں کہ اس وقت پاکستانی معیشت کو صرف سگریٹ نے سنبھال رکھا ہے لہذا اگلے بجٹ میں اس کی قیمت بڑھانے کی بجائے کم کی جائے۔
لیکن یہ کمپنیاں بھول رہی ہیں کہ پاکستان کو ہر سال تمباکو کے باعث پھیلنے والی بیماریوں سے 615 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس بڑے قومی نقصان کی ذمہ دار وہ سبھی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں ہیں، جو اپنی اپنی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہیں۔ ان ‘زہر بیچنے‘ والی کمپنیوں کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان میں مختلف انسداد تمباکو مہم چلائی جا رہی ہیں جن کے دباؤ میں آکر وفاقی کابینہ نے جون 2019ء میں سگریٹ اور کولڈ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا تھا، اس ٹیکس سے اکٹھی ہونے والی 33 ارب روپے کی رقم کو ہیلتھ سیکٹر میں استعمال کیا جانا تھا لیکن جب بجٹ آیا تو اس میں سے وہ سب شقیں غائب کر دی گئیں، اور طاقتور تمباکو مافیا کے دباو پر سگریٹ کمپنیوں کو چھوٹ دے دی گئی۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 2019ء میں برٹش امریکن ٹوبیکو کمپنی کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات میں ڈیم کے نام پر چندہ بھی وصول کیا تھا جو کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے آرٹیکل 5.3 کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ آرٹیکل 5.3 کے مطابق کوئی حکومتی عہدیدار نہ تو سگریٹ کمپنیوں سے مل سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے فنڈز لے سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان حکومت ان طاقتور توبیکو کمپنیوں کے دباؤ میں آ کر مضر صحت سگریٹ پر ٹیکس بڑھاتی ہے یا اس کی قیمتیں کم کر دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button