کیا پاکستانی نژاد ساجد جاوید وزیر اعظم بن جائیں گے؟

وزیراعظم بورس جانسن کے برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی سے استعفے کے بعد نئے پارٹی سربراہ کی دوڑ میں پاکستانی نژاد ساجد جاوید بھی شامل ہوگئے جنہوں نے حال ہی میں بورس کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ کنزرویٹیو پارٹی کا نیا سربراہ ہی اگلا برطانوی وزیر اعظم منتخب ہو گا اور بورس جانسن تب تک بطور وزیر اعظم برقرار رہیں گے جب تک پارٹی ممبران اپنے نئے قائد کا انتخاب نہیں کر لیتے۔
آئیے ان ممکنہ امیدواروں بارے جانیں جو بورس جانسن کی جگہ کنزریٹو پارٹی کے قائد اورنئے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ سب سے پہلا نام 52 سالہ سابق وزیر صحت ساجد جاوید کا ہے جنہوں نے بورس جونسن کی کابینہ سے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بس بہت ہو گیا، سارا مسئلہ ہی اوپر بیٹھے شخص کی وجہ سے ہے۔ ان کے استعفے کے بعد بعد استعفوں کی ایک لائن لگ گئی تھی جس نے بالآخر وزیر اعظم بورس کو بھی استعفی دینے پر مجبور کر دیا۔ ساجد جاوید جون 2021 سے وزیر صحت تھے۔ اس سے قبل انہوں نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں لیکن 2020 کے اوائل میں انہوں نے بورس جانسن کے ساتھ اپنے مشیروں کو برطرف کرنے کے حکم پر اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ بورس جانسن ساجد جاوید کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے واپس لائے جو ان کی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ چار بچوں کے باپ ساجد جاوید 2010 میں کنزرویٹو پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ وہ وزارت داخلہ سمیت بزنس، کلچر اور ہاؤسنگ کے محکموں کی سربراہ رہے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں کنزرویٹو پارٹی کے قائد کا الیکشن بھی لڑا تھا لیکن وہ چوتھے راؤنڈ میں بورس جانسن سے ہار گئے تھے۔ ساجد جاوید کے والدین پاکستانی تھے اور سیاست میں آنے سے قبل ان کا بینکنگ سیکٹر میں شاندار کیریئر تھا۔
برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی صدارت کے لیے ایک اور تگڑی امیدوار سویلا بریورمین ہین جو کہ بیرسٹر ہیں۔ وہ 2020 سے برطانیہ کی اٹارنی جنرل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا یے کہ وہ بورس کی جگ کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ بننے کی کوشش کریں گی۔ لیکن سویلا بریورمین عوام میں اتنی مقبول نہیں ہیں۔ اسکے علاوہ جب بورس جانسن کی کابینہ کے کئی اراکین مستعفی ہو گے تھے تو سویلا نے کابینہ میں رہنے کا اعلان کیا تھا۔ بورس جانسن کی جگہ برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی کے تیسرے اہم امیدوار سابق وزیر خزانہ رشی سونک ہیں جنہوں نے ساجد جاوید کی طرح بورس کے خلاف اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے استعفے میں کہا تھا کہ ’عوام توقع کرتے ہیں کہ مناسب طریقے، قابلیت اور سنجیدگی سے حکومت چلائی جائے گی۔‘ رشی سونک کو ایک وقت میں بڑے پیمانے پر پارٹی کا سب سے روشن ابھرتا ہوا ستارہ سمجھا جاتا تھا اور وہ بورس جانسن کی جگہ لینے کے لیے بک میکرز کے پسندیدہ تھے۔ وہ 2020 کے مشکل وقت میں وزیر خزانہ بنے تھے اور ان کی پالیسیوں کو پذیرائی بھی ملی تھی۔ لیکن بورس جانسن کے کرونا کے دوران ’پارٹی گیٹ سکینڈل‘ نے سب کچھ بدل دیا اور انہیں بھی وزیر اعظم کی طرح لاک ڈاؤن میں ڈاؤننگ سٹریٹ میں سالگرہ پارٹی میں شمولیت کرنے پر پولیس کی طرف سے جرمانہ ہو گیا تھا۔ تب سے ان کی مقبولیت کا گراف بھی نیچے آ چکا ہے۔ اس کے علاوہ سونک برطانیہ میں شدید مہنگائی سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے بھی تنقید کی زد میں رہے۔
برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی کے چوتھی بڑی امیدوار سابق وزیر خارجہ 46 سالہ لز ٹرس نے وزیر تجارت کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد ستمبر میں وزیر خارجہ کا اعلیٰ عہدہ سنبھالا تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے پارٹی کے اندر زور پکڑا ہے اور اپنے عزائم کو کبھی راز نہیں رکھا۔وہ بلاک سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد کے معاملات پر یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کی اہم مذاکرات کار بھی ہیں۔ ایک وقت میں یورپی یونین میں رہنے کے لیے مہم چلانے والی لز ٹرس ایک بریگزٹ چیمپئن بن چکی ہیں۔ وہ بہت سے کنزریٹوز میں مقبول ہیں، جو ان میں پارٹی کی پہلی خاتون وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی جھلک دیکھتے ہیں۔ برطانوی وزارت عظمی کے پانچویں امیدوار سابق وزیر دفاع بین والیس ہیں جو سیدھی بات کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں، خاص طور پر کنزرویٹو قانون سازوں میں، جنہوں نے برطانیہ کے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنے پر زور دیا تھا۔ 52 سالہ سابق فوجی بین یوکرین میں روس کی جنگ کے خلاف ہیں اور برطانوی شہریوں کی ایک اہم آواز سمجھے جاتے ہیں۔
