کیا پاکستان اور بھارت کا مسئلہ کشمیر اب چین حل کرواۓ گا

سینئر صحافی جاوید چودھری نے کہا ہے کہ آج افغان بھی پاکستان کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں اور ایرانی اور بھارتی بھی‘ چین اس سلسلے میں ہماری مدد کرنا چاہتا ہے‘ یہ ایران اور سعودی عرب کی طرح پاکستان اور بھارت کو بھی میز پر بٹھانا چاہتا ہے‘ ہمیں اس موقعے کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ مقبوضہ کشمیر اگر دو حصوں میں تقسیم کر کے معاملہ ختم کیا جا سکتا ہے تو ہمیں یہ کر دینا چاہیے افغانستان اور ایران کا بوجھ بھی اب چین اٹھا رہا ہے‘ ہمیں یہ تبدیلی قبول کر لینی چاہیے ا. اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ انسان اور سرمائے کو امن اور استحکام چاہیے ہوتا ہے اور امن اور استحکام اگر مکہ‘ ویٹی کن سٹی اور یوروشلم میں بھی نہ ہو تو انسان اسے بھی چھوڑ دیتا ہے اور یہودی کیوں کہ سرمایہ کار بھی ہوتے ہیں لہٰذا یہ کسی بدامن اور غیرمستحکم علاقے میں نہیں رہتے۔‘‘ میں نے دنیا کو امن اور استحکام کے پیمانے سے دیکھنا شروع کیا ہے تو مجھے دنیا کا ہر وہ ملک ترقی یافتہ دکھائی دیا جس میں معاشی‘ سیاسی اور سماجی استحکام اور امن تھا اور دنیا کا ہر وہ ملک تباہ حال اور غیرترقی یافتہ ملا جس میں یہ دونوں چیزیں مفقود تھیں‘ انسان کے لیے اپنی زمین‘ اپنے عزیز رشتے داروں اور مذہب کو چھوڑنامشکل ترین کام ہوتا ہے مگر عدم استحکام اور بدامنی دو ایسے امراض ہیں جن کی وجہ سے لوگ اپنا گھر‘ اپنے والدین‘ بہن بھائی اور بچے بھی چھوڑ دیتے ہیں اور اپنا ملک بھی اور بعض اوقات اپنا مذہب بھی‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پاکستان کی ساری اشرافیہ کے خاندانی پروفائل دیکھ لیں۔

آپ کو ان کے بچے اور اثاثے مستحکم اور پرامن ملکوں میں ملیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ پاکستان عدم استحکام اور بدامنی دونوں کا خوف ناک ہدف ہے اور سمجھ دار انسان ایسے ماحول میں نہیں رہ سکتے چناں چہ میرے خیال میں ہم جب تک ان دونوں امراض کا علاج نہیں کریں گے۔یہ ملک ٹھیک نہیں ہو سکے گا اور چند دن قبل چین کے وزیر خارجہ نے بھی اسلام آباد میں کھڑے ہو کر ہمارے سیاست دانوں اور سیاست کے سہولت کاروں کو سیاسی اور معاشی استحکام کا مشورہ دیا. جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ چین ہمیں یہ مشورہ 1965سے دے رہا ہے‘ صدر ایوب خان 1965 کی جنگ کے دوران چینی وزیراعظم چو این لائی سے ملاقات کے لیے خفیہ طور پر بیجنگ گئے تھے۔ چو این لائی نے اس وقت بھی انھیں کہا تھا آپ میرے ساتھ گفتگو کے لیے ترجمان کی مدد لے رہے ہیں جب کہ آپ بھارتی وزیراعظم کے ساتھ اپنی زبان میں بات کر سکتے ہیں چناں چہ ہمارا مشورہ ہے آپ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے مسئلے حل کریں‘ آپ فائدے میں رہیں گے۔ یہ مشورہ چین نے ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کو بھی دیا تھا‘ جنرل باجوہ 2022 میں چین کے دورے پر گئے‘ انھیں بھی صدر شی جن پنگ نے تین مرتبہ کہا تھا ’’ڈویلپمنٹ فرسٹ‘ فائٹ لیٹر‘‘ اور ڈویلپمنٹ کے لیے امن اور استحکام دونوں ضروری ہیں اور ہم یہ دونوں اس ملک میں ہونے نہیں دے رہے‘ آپ ملک کی آبادی دیکھیں‘ یہ 24 کروڑ 18 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور اس کے بعد اپنی ایکسپورٹس اور فارن ریزروز دیکھیں‘ سوا 24 کروڑ لوگوں کے اکاؤنٹ میں صرف 6بلین ڈالرز ہیں اور ہم ہر سال 80 بلین ڈالر کی اشیاء امپورٹ کرتے ہیں اور 20بلین ڈالر کی مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ لہٰذا 50 ارب ڈالر کا خسارہ ہے‘ ہمارا آدھا خسارہ اوورسیز پاکستانی ڈالرز بھجوا کر پورا کر دیتے ہیں جب کہ باقی کے لیے ہم قرض پر قرض لیتے ہیں‘ ہمارے قرضے ہمارے ٹوٹل جی ڈی پی کا 85 فیصد ہو چکے ہیں‘ ہم خوراک تک امپورٹ کرتے ہیں۔ پٹرول اور گیس کے لیے بھی دوسرے ملکوں کے محتاج ہیں اور ادویات کا خام مال بھی باہر سے منگواتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے ہم اپنی ایکسپورٹ کیوں نہیں بڑھاتے؟ اس کے لیے ظاہر ہے انڈسٹری اور سرمایہ کاری چاہیے اور اس کے لیے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام اور امن چاہیے اور یہ ہم اس ملک میں پروان نہیں چڑھنے دے رہے چناں چہ پھر یہ ملک کیسے چلے گا؟ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ ہمیں فوری طور پر تین بڑے کام کرنا ہوں گے‘ پہلاہمیں ہمسایوں کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک کرنا ہوں گے‘ ہم تین بارڈرز پر لڑ رہے ہیں‘ ہماری فوجیں بھارت کے بارڈرز پر بھی لڑ رہی ہیں اور ایران کی سرحد پر بھی بیٹھی ہیں اور افغانستان کی سرحد پر بھی تعینات ہیں اور ان تینوں سرحدوں سے لاشیں بھی آتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں فوری طور پر ہمسایوں سے تعلقات ٹھیک کر لینے چاہئیں‘ دوسرا ملک میں عملی اور سیاسی دونوںجنگیں جاری ہیں‘ ہم کے پی اور بلوچستان دونوں صوبوں میں حالت جنگ میں ہیں جب کہ پنجاب میں ہم دہشت گردوں سے بھی لڑ رہے ہیں اورسب سے بڑے صوبے میں سیاسی جنگ بھی جاری ہے لہٰذا ہم معاشی طور پر تیزی سے گلتے چلے جا رہے ہیں اور دنیا کا کوئی بھی ملک خواہ وہ روس اور امریکا ہی کیوں نہ ہو وہ اتنی لڑائیاں افورڈ نہیں کر سکتا‘ ہم بھی نہیں کر سکیں گے چناں چہ مہربانی فرما کر ہمسایوں کے ساتھ بھی تعلقات ٹھیک کریں اور اندرونی لڑائیاں بھی بند کریں۔ اس کے بعد ہمیں ملک میں بھی چند بڑی اسٹرکچرل تبدیلیاں کردینی چاہئیں‘ ہم فیصلہ کر لیں الیکشن پانچ سال بعد ہوں گے‘ حکومتیں ٹوٹیں یا اسمبلیاں مگر الیکشن پانچ سال بعد ہی ہوں گے اور مقررہ تاریخ پر ہوں گے۔ ہم ہر قسم کی ایکسٹینشن پر بھی پابندی لگا دیں‘ ملک کے تمام سویلین اور فوجی افسر وقت مقررہ پر ریٹائر ہو جائیں گے اور کسی کو بھی ایکسٹینشن نہیں ملے گی‘ الیکشن کمیشن‘ ایف آئی اے اور نیب کو مکمل طور پر آزادی دے دی جائے اور ملک کے تمام شہری اور ادارے سپریم کورٹ سمیت ان کے سامنے جواب دہ ہوں۔ جاوید چودھری مشورہ دیتے ہیں کہ ملک کی تجارتی‘ صنعتی اور ٹیکس پالیسی بھی ایک ہی بار بنا دی جائے اور کوئی شخص اسے 20 سال تک چھیڑ نہ سکے اور ہم ایک ہی بار پانی‘ بجلی اور گیس کی پالیسی بھی بنا دیں اور یہ بھی ہمیشہ کے لیے لاک کر دی جائے اور پولیس اور جوڈیشری میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ریفارمز کر دی جائیں تاکہ ملک میں استحکام اور امن آ سکے‘ عوام سانس لیں اور یہ ملک چل سکے اور تیسرا فیصلہ ہم لڑائیوں سے نکل کر قوم کی کردار سازی کریں‘ ہم 24 کروڑ لوگوں کا ہجوم ہیں۔ اس ہجوم کو ٹریننگ چاہیے اور ہمیں اس کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہیے اور ہم اگر اب بھی یہ نہیں کرتے تو پھر یاد رکھیں ہم کسی بھی وقت سوڈان بن جائیں گے‘ وہاں دو جرنیلوں کی لڑائی نے پورا ملک تباہ کر دیا‘ خرطوم میں لاشیں پڑی ہیں اور کوئی شخص انھیں اٹھانے کے لیے باہر نہیں آ رہا‘ ہم نے اگر اب بریک نہ لگائی تو ہمارا اگلاقدم سوڈان میں ہو گا‘ ہم سوڈان بن جائیں گے۔

Back to top button