زرداری کی پیشین گوئی اور چھپکلی سے ڈرنے والے عمران کی کہانی

آج سے تین سال پہلے جب عمران حکومت اس زعم میں مبتلا تھی کہ نواز شریف بھی جیل میں ہیں اور آصف علی زرداری بھی نیب کی حراست میں ہیں تو پاکستانی سیاست کے مردِ آہن آصف زرداری نے کہا تھا کہ انکو پتہ تب چلے گا جب یہ خود حراست میں ہوں گے۔۔
آصف زرداری تب سینئر صحافی اور ”کیپیٹل ٹاک“ کے میزبان حامد میر زرداری کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایک بڑی خبر بھی بریک کی تھی۔ انھوں نے بتایا تھا کہ لندن میں ایک انوسٹی گیشن ہو رہی ہے جو امریکہ تک جائے گی اور جس میں عمران خان کا بہت بڑا سکینڈل آ رہا ہے۔۔واضح رہے کہ عمران کے دور میں کئلیے گے اس انٹرویو کو۔نشر کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

آصف زرداری نے کیس کے متعلق اشارتاً محض اتنا بتایا تھا کہ یہ ایک پاکستانی بزنس مین کے بارے میں ہے جس نے انھیں بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں اس ڈیل میں کئی ملین ڈالرز کا فائدہ ہوا ہے۔ بعد میں اسی کیس کے تانے بانے عمران خان کے اس بیانیے سے بھی ملنے لگے جس میں انھوں نے چیخ چیخ کر کہا تھا کہ انھیں حکومت بدر کرنے کی سازش امریکہ نے کی ہے۔
بہرحال اسی انٹرویو میں زرداری نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان انتہائی ڈرپوک شخص ہیں۔ بقول زرداری، اسے بھی ہماری طرح کبھی سَیل میں بند کریں اور وہاں دو چھپکلیاں چھوڑ دیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ انٹرویو میں زرداری نے انکشاف کیا کہ عمران خان چھپکلیوں سے بہت ڈرتے ہیں۔ انھوں ہنستے ہوئے کہا کہ صرف ریحام خان کے پاس نہیں، کچھ ان کے راز ہمارے پاس بھی ہیں۔ جس پر حامد میر نے کہا کہ چھپکلی سے ڈرنا کوئی خاص بات نہیں، بہت سے بہادر لوگ بھی ڈرتے ہیں، ویسے میں نہیں ڈرتا چھپکلی سے۔۔جس پر زرداری نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔ خیر زرداری نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک مرتبہ آٹھ گھنٹوں کے لئے تھانے گئے تھے اور تھانے کے حالات کون نہیں جانتا؟ خود زرداری تھانوں میں تین تین ماہ ریمانڈ پر رہے ہیں، جہاں نہ پردہ نہ پنکھا۔۔اور وہاں کے حالات بخوبی جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی جگہ اگر آپ ان ”گورے صاحب“ کو ڈال دیں تو یہ بہت پریشان ہو جائیں گے۔ حامد میر کے اس سوال پر کہ یہ آپ کو کن ذرائع سے معلوم ہوا کہ عمران خان چھپکلی سے ڈرتے ہیں؟ آصف زرداری نے بتایا کہ بہت آسان ہے، جب بھی کوئی جیل یا تھانے جاتا ہے تو وہاں کے قیدیوں اور تھانے دار کو ساری کہانیاں ازبر ہوتی ہیں۔۔اسے جیل کی زبان میں سینہ گزٹ کہا جاتا ہے۔ جب بھی آپ وہاں جائیں گے، آپ کو پتا چلے گا کہ یہاں نواز شریف آئے کیسے رہے، آصف زرداری آئے کیسے رہے، بی بی بے نظیر بھٹو آئی تھیں کیسے رہیں؟
اب وہ چھپکلی کا خوف ہو یا کچھ اور۔۔عمران خان سے منسوب ان کہانیوں کے حوالے سے ان کے قریبی ساتھی بھی آگاہ ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ جب انھیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں سے چلتا کیا گیا تو انھیں صرف یہ خوف تھا کہ پکڑے گئے تو کیا ہوگا؟ بہرحال خان صاحب گرفتاری اور جیل کی کال کوٹھری سے کتنا ڈرتے ہیں؟ اس کا احوال سب جانتے ہیں۔۔جہاں تک چھپکلی سے ڈرنے کی بات ہے تو نفسیات دانوں کے مطابق یہ خوف دراصل حفاظتی حصار میں پرورش پانے والے یا دوسرے لفظوں میں ”برگر بچوں“ میں زیادہ پایا جاتا ہے، ایسے مردوں کے لئے نہ صرف مردانگی ایک چیلنج بن جاتی ہے بلکہ زندگی کے کسی امتحان یا مشکل گھڑی میں ہار جانے کا خوف کبھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔۔ ایسا نہیں کہ اس قسم کے ڈرپوک مردوں کی شخصیت میں پُراثر نہیں ہوتی؟ وہ ہر دلعزیز بھی ہوتے ہیں لیکن اپنے اندر کے خوف اور ٹھہراؤ یا مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اپنے ہی کئے گئے فیصلوں کی سولی چڑھ جاتے ہیں!!

Back to top button