کیا پنجاب میں ن لیگ کپتان کے ہاتھوں فارغ ہو چکی ہے؟

15 جولائی کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے ہاتھوں نواز لیگ کی شکست کے بعد 16 اکتوبر کے ضمنی الیکشن میں عمران خان اور انکے امیدواروں کی کامیابی کے بعد ایک بار پھر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب مسلم لیگ نواز کے ہاتھ سے نکل چکا ہے؟ قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف چھ نشستیں جیت لی ہے جن میں سے سات پر عمران خود امیدوار تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس الیکشن میں سب سے زیادہ دھچکا مسلم لیگ ن کو لگا ہے جس نے پنجاب میں قومی اسمبلی کی دونوں نشست پر الیکشن ہارا ہے۔ اس کے علاوہ نواز لیگ نے پنجاب اسمبلی کی دو سیٹیں بھی ہاری ہیں۔ فیصل آباد کی نشست پر عابد شیر علی نے شکست کھائی جبکہ ننکانہ صاحب کی سیٹ پر شذرہ منصب کو شکست ہوئی حالانکہ یہ دونوں سیٹیں مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔ فیصل آباد کے حلقہ 108 سے شکست تسلیم کرنے کے بعد عابد شیر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم عوام کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہار کی وجہ مہنگائی اور بجلی کے بل ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے جولائی 17 کو پنجاب کی 20 صوبائی نشستوں میں سے پی ٹی آئی نے 15 جیتی تھیں تاہم اس وقت ن لیگ نے ہار کی بڑی وجہ تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو ٹکٹ دینے کو قرار دیا تھا۔ البتہ اس مرتبہ مسلم لیگ ن نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے تھے۔مسلم لیگ پنجاب کی تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے ایک پر ہی کامیابی حاصل کر پائی ہے۔ مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی نے بتایا کہ ’مسلم لیگ ن کی حالیہ ضمنی انتخابات میں شکست پارٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت ن لیگ کی سیاسی حیثیت اس سال اپریل میں تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت کے برابر ہو چکی ہے۔ اس وقت تحریک انصاف اپنی پاپولرٹی کے گراف پر بہت نیچے تھی۔ اور اب ن لیگ ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ سخت فیصلے جن میں مہنگائی اور تیل کی قیمتیں ہیں مسلم لیگ ن کے لیے سیاسی پھندا ثابت ہو رہی ہیں۔’ایک اور بات بھی اہم ہے کہ ان انتخابات میں ٹرن آئوٹ اکثریتی حلقوں میں کم رہا ہے۔ جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عوام سیاسی کھیل سے عاجز آ چکے ہیں ان کا مسئلہ مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی کے ضمنی الیکشن کے برعکس موجودہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کی صف اول کی لیڈر شپ الیکشن مہم میں سرے سے نظر ہی نہیں آئی۔ مریم نواز لندن میں تھیں لیکن حمزہ شہباز نے بھی کوئی جلسے کیے اور نہ ہی گھر سے باہر نکلے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق ن لیگ نے ایسے انتخابات میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے جو خود اس سیاسی جماعت کے مستقبل میں چارج شیٹ کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی دو نشستیں جیت کر اپنی ساکھ بہتر بنائی ہے۔
سینئر صحافی محمد مالک سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی جارحانہ سیاست کے مقابلے میں اپوزیشن بے بس ہے۔ ’سوائے پیپلزپارٹی کے تمام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی توقع سے بہت نیچے ہے۔ ن لیگ دو نشستیں ہاری ہے۔ اے این پی کو دو پر شکست ہوئی ہے ایک جے یو آئی ہاری ہے۔ میں کہوں گا کہ اپوزیشن کا بلڈ شیڈ ہوا ہےاور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ مقابلہ کریں تو کیسے کریں۔ عمران خان نے اپنی کارکردگی بھی ان کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔‘پنجاب میں دوسری مرتبہ ضمنی انتخابات میں شکست پر مسلم لیگ ن کی قیادت اپنا موقف دینے کے لیے ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’اب اس تاثر میں جان پڑ گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کے ہاتھوں سے پنجاب تیزی سے کھسک رہا ہے۔ یہ جماعت جو بھی موقف اختیار کر رہی ہے عوام اس کو نہیں خرید رہی ہے۔ عمران خان نے اپنا تاثر برقرار رکھنے لیے تمام نشستوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ اب درست ثابت ہوا ہے۔ یہ بیانیے کی جنگ ہے روایتی طریقوں سے نہیں لڑی جا سکتی۔
